شرک کی صحیح تعریف اور مشرک کی پہچان

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

شرک کا بیان

اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اختیارات یا حقوق میں غیراللہ کو شریک یعنی (ساتھی) یا حصے دار سمجھنے والا انسان مشرک ہے۔ قرآن میں شرک یعنی ساجھی اور حصے دار کا لفظ کئی مقامات پر آیا ہے۔

[النساء:12]،[الروم:28]،[الصافات:33]،[الزخرف:39]،[طہ:32]

اللہ تعالی مشرک کو کبھی نہیں بخشے گا:

[اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا]

بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کا شریک بنائے تو یقینا اس نے بہت بڑا گناہ گھڑا۔ [النساء:48]

[ہَلۡ لَّکُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ شُرَکَآءَ فِیۡ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ فَاَنۡتُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ تَخَافُوۡنَہُمۡ کَخِیۡفَتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ]

کیا تمھارے لیے ان (غلاموں) میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں، کوئی بھی اس رزق میں شریک ہیں جو ہم نے تمھیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو ، ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم اپنے آپ سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات بیان کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں۔ [الروم:28]

جیسا کہ مندرجہ بالا آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حصے دار مقرر کرنا شرک ہے، اور اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرا کوئی حصے دار اور کوئی شریک نہیں ہے۔

اٹھارہ نبیوں کا نام لے کر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا،اگر یہ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی برباد ہو جاتے:

[وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ]،[وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ]،[وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ]،[وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ]،[وَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ اِخۡوَانِہِمۡ ۚ وَ اجۡتَبَیۡنٰہُمۡ وَ ہَدَیۡنٰہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ]،[ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ]

[اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی، ہم درجوں میں بلند کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے]،[اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے دائود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں]،[ اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے]،[اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو، اور ان سب کو جہانوں پر فضیلت دی]،[اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد وں اور ان کے بھائیوں میں سے بعض کو بھی اور ہم نے انھیں چنا اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی]،[یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقینا ان سے ضائع ہو جاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے]

[سورة الانعام:83 تا 88]

اٹھارہ انبیاءکرام کے اسمائے گرامی کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے، اگر یہ بھی شرک کا ارتکاب کر لیتے تو ان کے سارے اعمال برباد ہو جاتے ۔ جس طرح دوسرے مقام پر نبیﷺ سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ]

(اے پیغمبر!) اگر تو نے بھی شرک کیا تو تیرے سارے عمل برباد ہو جائیں گے۔ [الزمر:65]

حالانکہ پیغمبروں سے شرک کا صدور ممکن نہیں، مقصد امتوں کو شرک کی خطرنا کی اور ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے۔ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں۔ اس بات کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے:

[وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ]

ا کر لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں۔ [يوسف:106]

اللہ تعالی نے شرک کو حرام قرار دیا۔

(الاعراف:33)

اللہ کا کوئی شریک نہیں۔

(بنی اسرائیل :111)

شرک کی صحیح تعریف اور مشرک کی پہچان – Haq-Ki-Talash_page-0091

شرک کی صحیح تعریف اور مشرک کی پہچان – Haq-Ki-Talash_page-0092

مشرک کی پہچان:

مشرک کی پہچان یہ ہے کہ وہ ایک اللہ کے تذکرے سے ناراض ہو جاتا ہے:

[وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ]

اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے دل نفرت کرتے ہیں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ فورا خوش ہو جاتے ہیں۔ [الزمر:45]

منحرفین کا آج بھی یہی حال ہے، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ صرف ،،یا اللہ مدد کہو،، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوارہوتا ہے۔

لیکن جب یا رسول الله مدد ،،يا رسول الله أنظر حالنا،، ،،يا رسول الله إسمع قالنا،، یاعلی مدد کہا جائے، اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد و استغاثہ کیا جائے مثلاً :،،یا شیخ عَبْدَ الْقَادِرِ شَيْئًا لله،، وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔

دوسری پہچان:

مشرک اللہ کی بجائے غیر اللہ سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ: 165 تا 167)

کسی نبی نے اللہ تعالیٰ کے سوا اپنی یا کسی دوسرے کی بندگی کی دعوت نہیں دی یعنی شرک کیدعوت نہیں دی:

[مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ]،[وَ لَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ]

[کسی آدمی کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور پیغمبری سے سرفراز کرے پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہل کتاب) تم ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتاب (اللہ) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو]،[اور نہ یہ مناسب ہے کہ تمھیں حکم دے کہ فرشتوں یا پیغمبروں کو اپنا رب (داتا) بنا لو۔ بھلا یہ کوئی بات ہے کہ مسلمان ہو جانے کے بعد وہ کہے کہ کافر ہو جاؤ]۔ [آل عمران:80،79]

مشرک کے لیے جنت حرام ہے:

شرک تمام نیک اعمال ضائع کر دیتا ہے خواہ نبی ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا۔ یہ بات بھی یادر ہے کہ مشرک کے لیے جنت حرام ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے جہنم میں رہے گا:

[اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ]

جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے تو اللہ تعالی جنت کو اس پر حرام کر چکا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ [المائدة:72]

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ (صرف بتوں کی بات نہیں جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں): [اَلَّا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا]

اللہ رب العزت کے ساتھ کسی پیر کو شریک نہ ٹھراؤ : [الأنعام:151]

اللہ تعالیٰ چونکہ خالق ہے باقی سب مخلوق، اس لیے کوئی اس کا شریک نہیں:

[قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ قُلِ اللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ]

کہہ دو! آیا تمھارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پیدا کرے، پھر اسے دوبارہ زندہ کرے؟ کہہ دو! اللہ پیدا کرتا ہے، پھر اسے لوٹائے گا، سو تم کہاں پھرےجاتے ہو۔ [یونس:34]

لوگوں نے خود ہی نام رکھ لیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان ناموں کی کوئی سند نہیں اتاری، اس لیے یہ نام بے اصل ہیں:

[اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ]

یہ تو نرے نام ہی ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے، اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ [النجم:23]

یہ لوگ بس اٹکل پر چلتے ہیں اور جو ان کے دل میں آتا ہے کرتے ہیں، حالانکہ ان کے مالک کی طرف سے ان کا راستہ بھی بتایا جا چکا تھا۔ (مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیں: [یوسف:40]،[الاعراف:71]

تیسری پہچان:

دیکھئے: [کنز الایمان سورۃ الزمر:39، ف 72 تا 75] جس میں صاف لکھا ہے کہ موحد کون ہے مشرک کون ہے؟ دیکھئے: [یہ کتاب صفحہ 91 تا 586]

حاصل بحث:

توحید اور شرک کی بحث میں جو گفتگو ہوئی اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک کلمہ گو کا سب سے بڑا سرمایہ عقیدہ توحید ہے۔ اور قیامت کے روز انسان کی نجات کا انحصار عقیدہ توحید پر ہوگا اور جو مشرک ہو گا اس کے سارے عمل برباد ہو جائیں گے۔ اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور مشرک کی پہچان بھی اللہ تعالیٰ نے بتادی ہے (جیسا کہ مذکور ہو چکا) اور لوگوں نے کچھ نام اپنی طرف سے بنا رکھے ہیں، مثلاً داتا ، مشکل کشا، دستگیر، غریب نواز، غوث، گنج بخش، طوفانوں سے نجات دینے والا، کھوٹی قسمت کھری کرنے والا، اولاد دینے والا، ڈوبتی کو کنارے لگانے والا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ نام لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری اور اس طرح یہ لوگ پہلے مشرکوں کی پیروی کر رہے ہیں اور یہ قیامت کے دن ان خود ساختہ ناموں اور اس شرک کا کوئی جواز اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش نہ کر سکیں گے۔ ان کے پاس اس چیز کا کوئی جواب نہ ہو گا کہ تمھیں کس نے کہا بغداد والے تمھارے غوث الاعظم ہیں؟ کس نے کہا لاہور والے تمھارے داتا ہیں؟ بغداد والے پیر جیلانی رحمہ اللہ561 ہجری میں فوت ہوئے ۔ لاہور والے علی ہجویری رحمہ الله 465 ہجری میں فوت ہوئے۔ قرآن وحدیث میں ان کا ذکر تک نہیں ہے اور قرآن میں ہے مشرک کا کوئی عذر قیامت کے دن قبول نہ ہوگا۔

دیکھیے: [صفحہ 597 تا 600 اور 619 تا 622 سے سوالات و جوابات]۔ اور [مراد آبادی صاحب نے بھی اپنی تفسیر میں یہی لکھا ہے۔ (البقرۃ: 52، ف (88)] شرک سے مسلمان مرتد ہو جاتا ہے۔ (البقرة:283، ف215]،[النساء:116، ف305)