مضمون کے اہم نکات
سوال
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ:
منگی لدھوشاہ فوت ہوگیا، جس کے ورثاء درج ذیل ہیں:
◄ ایک بیوی: بی بی امام زادی
◄ چار بہنیں: بی بی میرزادی، بی بی آمنہ، بی بی بچو، بی بی زینب
◄ چچازاد بہن کا بیٹا: سید نور شاہ
اس کے بعد بی بی میرزادی کا انتقال ہوا، جس نے وارث چھوڑے:
◄ تین بہنیں: بی بی آمنہ، بی بی بچو، بی بی زینب
◄ چچازاد بہن کے بیٹے: ولی محمد، مقارو، وڈل، حاجی شاہ محمد، میرل، حسن
پھر بی بی آمنہ فوت ہوگئی، جس نے وارث چھوڑے:
◄ دو بہنیں: بی بی بچو اور بی بی زینب
◄ چچازاد بہن کے بیٹے: ولی محمد، شارو، وڈل، شاہ محمد، میرل، حسن
اس کے بعد بی بی بچو اور بی بی زینب فوت ہوئیں، اور ان کے وارث صرف وہی چچازاد بھائیوں کی اولاد (اوپر ذکر کردہ) رہ گئی۔
وضاحت مطلوب ہے کہ شریعتِ محمدی کے مطابق ہر ایک کا حصہ کس طرح تقسیم ہوگا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سب سے پہلے میت کی جائیداد میں سے کفن دفن اور قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس کے بعد اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ کل جائیداد کے ایک تہائی حصے سے پوری کی جائے گی۔ پھر باقی تمام ملکیت، خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ، کو ایک روپیہ (بطور مثال) قرار دے کر تقسیم یوں ہوگی:
منگی لدھوشاہ کی میراث (کل ملکیت = 1 روپیہ)
◄ بیوی = 4 آنے
◄ بہن بی بی میرزادی = 2 آنے 8 پائی
◄ بہن بی بی آمنہ = 2 آنے 8 پائی
◄ بہن بی بی بچو = 2 آنے 8 پائی
◄ بہن بی بی زینب = 2 آنے 8 پائی
◄ چچازاد بہن کا بیٹا نور شاہ = 1 آنہ 4 پائی
میرزادی کے بعد تقسیم (کل ملکیت = 2 آنے 8 پائی)
◄ بہن آمنہ = 7/1/4 پائی
◄ بہن بچو = 7/1/4 پائی
◄ بہن زینب = 7/1/4 پائی
◄ چچازاد بہن کے بیٹے: ولی محمد، متارو، وڈل، شاہ محمد، حسن، میرل = باقی 10/1/4 پائی میں برابر برابر حصے دار
آمنہ کے بعد تقسیم (کل ملکیت = 3 آنے 3 پائی 1/4)
◄ بہن بچو = 1 آنہ 1 پائی
◄ بہن زینب = 1 آنہ 1 پائی
◄ چچازاد بہن کی اولاد: شارول، ولی محمد، وڈل، شاہ محمد، حسن، میرل = باقی 1 آنہ 1 پائی 1/4 میں برابر حصے دار
بچو کے بعد تقسیم (کل ملکیت = 3 آنے 3 پائی 1/4)
◄ بہن زینب = 1 آنہ 1 پائی
◄ باقی 1 آنہ 1 پائی 1/4 میں چچازاد بہن کے بیٹے: شارول، ولی محمد، وڈل، شاہ محمد، حسن، میرل برابر برابر حصے دار
زینب کے بعد تقسیم (کل ملکیت = 6 آنے 6 پائیاں 1/2)
◄ چچازاد بہن کے بیٹے: متارو، ولی محمد، وڈل، شاہ محمد، حسن، میرل = کل 6 آنے 6 پائی 1/2 میں برابر کے حصے دار
جدید اعشاریہ نظام میں تقسیم
منگی لدھوشاہ (کل ملکیت = 100)
◄ بیوی = 25
◄ چار بہنیں = 66.66
◄ چچازاد بیٹا نور شاہ (عصبہ) = 8.34
میرزادی کے بعد (کل ملکیت = 16.665)
◄ تین بہنیں = 11.11 (فی کس 3.703)
◄ چھ چچازاد بہن کے بیٹے = 5.555 (فی کس 0.925)
آمنہ کے بعد (کل ملکیت = 20.368)
◄ دو بہنیں = 13.578 (فی کس 6.789)
◄ چھ چچازاد بہن کے بیٹے = 6.79 (فی کس 1.131)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب