مضمون کے اہم نکات
سوال کا مکمل جواب (قرآن و سنت کی روشنی میں)
سوال نمبر 1:
اگر میت ایک تہائی (1/3) سے زائد مال کی وصیت کرے تو کیا شرعی طور پر وہ نافذ کی جا سکتی ہے؟ اور کیا ورثاء شرعی اصولوں کے مطابق ایسی وصیت کو تبدیل کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ورثا کی حالت بھی کمزور ہو اور وہ ضرورت مند ہوں؟
سوال نمبر 2:
ایک ایسی وصیت جس پر تمام ورثاء پہلے اپنے حصے سے دستبردار ہو گئے تھے، اب وہ سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ وصیت درست نہیں تھی اور وہ میت پر سے بوجھ ہٹانے کی نیت سے اس وصیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا قرآن و سنت کی روشنی میں وہ ایسا کر سکتے ہیں؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
محترم سائل، آپ کا سوال موصول ہوا جس میں آپ نے وصیت کے مسئلے پر رہنمائی طلب کی ہے۔ اس بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل وضاحت کی جاتی ہے:
حدیثِ مبارکہ سے رہنمائی:
صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کی حدیث میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ:
سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنے مال میں سے دو تہائی (2/3) کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو پھر ایک تہائی (1/3) کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی کی وصیت کر لو، اور (یاد رکھو) ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔
(بخارى شريف، كتاب الفرائض، باب ميراث البنات)
اس حدیثِ مبارکہ سے ثابت شدہ شرعی اصول:
❀ میت اپنے ترکہ میں سے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (1/3) مال کی وصیت کر سکتا ہے۔
❀ ایک تہائی (1/3) سے زیادہ وصیت کی اجازت نہیں ہے۔
❀ اگر کسی نے غلطی سے یا کسی بھی وجہ سے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کی ہو تو اس وصیت کو شرعی اصول کے مطابق ایک تہائی کی حد تک محدود کر کے درست کیا جا سکتا ہے۔
قرآن مجید سے رہنمائی:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٖ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمٗا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ﴾
’’جو کوئی وصیت کنندہ سے کجروی یا گناہ معلوم کر کے اصلاح کر دے تو اس پر گناہ نہیں، بے شک اللہ بڑی بخشش والا نہایت مہربان ہے۔‘‘
(سورہ البقرة: 182)
ورثاء کے لیے شرعی ہدایت:
❀ جب وصیت ایک تہائی (1/3) سے زیادہ ہو اور تمام ورثاء اس پر راضی نہ ہوں تو وہ شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اسے ختم یا محدود کر سکتے ہیں۔
❀ اگر تمام ورثاء شروع میں راضی ہو گئے ہوں لیکن بعد میں یہ سمجھیں کہ وصیت غلط تھی اور وہ میت پر سے بوجھ ختم کرنا چاہتے ہوں تو شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔
❀ ورثاء باہمی مشورے سے ایسی وصیت کو رد یا محدود کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اصلاح کے ارادے سے ایسا کریں اور کسی پر ظلم نہ ہو۔
نتیجہ:
وصیت صرف ایک تہائی (1/3) مال تک نافذ ہوتی ہے۔ اگر میت نے اس سے زیادہ وصیت کی ہو اور ورثاء اس پر راضی نہ ہوں یا بعد میں اس وصیت کو غلط سمجھیں تو وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس وصیت کو ختم یا محدود کر سکتے ہیں تاکہ میت کے ذمہ سے بوجھ ختم کیا جا سکے۔ اصلاح کی نیت ہو تو ایسا کرنا شرعاً درست ہے۔
هٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب