مسلمان کو چاہیے کہ وہ احکام شرع کے سامنے سر تسلیم و رضا خم کر دے، چاہے اسے وجوب یا تحریم کی علت معلوم نہ بھی ہو، لیکن بعض احکام حرام کرنے کی علت ظاہر ہوتی ہے جس طرح سود حرام کرنے کی علت ہے، اس میں فقیر کی ضرورت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اس پر قرض کا بوجھ دو چند ہو جاتا ہے، پھر اس کے نتیجے میں عداوت اور بغض جنم لیتے ہیں، سود کا عادی ہو جانے کی وجہ سے کام چھوڑ دیا جاتا ہے، سودی فوائد پر اعتماد ہوتا ہے، رزق تلاش کرنے کے لیے کوشش ترک کر دی جاتی ہے، نیز اس کے علاوہ بھی کئی بڑے بڑے نقصانات اور خرابیاں ہیں۔
[اللجنة الدائمة: 9450]
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ