مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شراب کا حکم احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

شراب کا کیا حکم ہے؟

جواب:

شراب اور ہر نشہ آور شے حرام ہے، اس کی کم اور زیادہ مقدار میں کوئی فرق نہیں، جو شراب کو حلال سمجھے، وہ کافر ہے، حلال سمجھے بغیر شراب پینے والا فاسق ہے۔
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
تحريم الخمر قليلها وكثيرها معلوم من الدين بالضرورة، والإجماع قائم عليه، وشاربها مستحلا كافر، أو غير مستحل فاسق
شراب کی قلیل اور کثیر مقدار کا حرام ہونا ضروریات دین میں سے ہے، اس پر اجماع ہے، شراب کو حلال سمجھتے ہوئے پینے والا کافر ہے اور بغیر حلت کا اعتقاد رکھے پینے والا فاسق ہے۔
(التوضيح: 20/27)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔