شراب پینے کی سزا: فقہی آراء اور احادیث کی روشنی میں

تحریر: عمران ایوب لاہوری

جو شخص مکلّف و خود مختار ہو کر نشہ آور چیز پی لے اسے امام کی رائے کے مطابق چالیس یا اس سے کم و بیش کوڑے لگائے جائیں گے خواہ جوتے ہی مار دیے جائیں
(احناف ) حرام مشروبات پر حد کی دو قسمیں ہیں:
حد الشرب: جو صرف خاص شراب (یعنی خمر ) پینے پر نافذ ہوتی ہے ۔ (ان کے نزدیک صرف انگور سے بنائی جانے والی شراب خمر ہے ) اس حد کے وجوب کا سبب محض اسے پینا ہی ہے خواہ اسے کم پیا جائے یا زیادہ ، اور خواہ نشہ آئے یا نہ آئے ۔
حد السکر: جو خاص شراب (یعنی خمر ) کے علاوہ دوسری نشہ آور اشیاء (جو گندم ، جو ، مکئی ، شہد ، انجیر اور باجرے وغیرہ جیسی اشیاء سے بنائی گئی ہوں ) کے پینے پر نافذ ہوتی ہے ۔ اس حد کے وجوب کا سبب نشے کا حصول ہے (یعنی اگر ایک یا دو گلاس پینے سے نشہ نہ آئے اور تیسرا گلاس پینے سے نشہ آئے تو پہلے دونوں گلاسوں پر کوئی حد واجب نہیں ہو گی بلکہ تیسرے گلاس پر حد واجب ہو گی کیونکہ اسے پینے سے ہی نشہ آیا ہے ) ۔
[بدائع الصنائع: 39/7 ، تبين الحقائق: 195/3 ، فتح القدير: 178/4]
(جمہور ) شراب یا اس کے علاوہ دیگر نشہ آور مشروبات میں کوئی فرق نہیں ہر نشہ آور مشروب حرام ہے قلیل ہو یا کثیر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
كل مسكر خمر و كل خمر حرام
”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے ۔“
[بداية المجتهد: 434/2 ، مغني المحتاج: 187/4 ، المغنى: 304/8 ، المهذب: 286/2]
(راجح) جمہور کا مؤقف حدیث کے زیادہ قریب ہے ۔
➊ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی:
فجلده بجريدتين نحو أربعين
”اسے دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب کوڑے لگائے گئے ۔“
راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سزا دی ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے صحابہ سے مشورہ کیا ۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا:
أخف الحدود ثمانون
”ہلکی ترین سزا اسی (80) کوڑے ہے ۔“
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم صادر فرما دیا ۔
[احمد: 115/3 ، مسلم: 1706 ، كتاب الحدود: باب حد الخمر ، ابو داود: 4479 ، ترمذي: 1443 ، ابن ماجة: 2570]
➋ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے معاملے میں چھڑی اور جوتیوں کے ساتھ حد لگائی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے ۔
[بخاري: 6773 ، كتاب الحدود: باب ماجآء فى ضرب شارب الخمر ، مسلم: 1706]
➌ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ جب ولید بن عقبہ کو کوڑے لگا رہے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کر رہے تھے جب وہ چالیس تک پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں روک کر فرمایا:
جلد النبى صلى الله عليه وسلم أربعين و أبو بكر أربعين و عمر ثمانين وكل سنة وهذا أحب إلى
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس (40) اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس (40) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی (80) کوڑے سزا دی اور ہر ایک سنت ہے اور یہی مجھے زیادہ پسند ہے ۔“
[مسلم: 1707 ، كتاب الحدود: باب حد الخمر]
➍ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نعمان یا ابن نعمان کو شراب پینے کی وجہ سے لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام گھر والوں کو اسے مارنے کا حکم دیا:
فكنت فيمن ضربه بالنعال والجريد
”میں ان میں تھا جنہوں نے اسے جوتیوں اور چھڑیوں سے مارا ۔“
[احمد: 7/4 ، بخاري: 6774 ، 6775 ، كتاب الحدود: باب الضرب بالجريد والنعال]
➎ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہد رسالت میں ، امارتِ ابو بکر رضی اللہ عنہ میں اور امارتِ عمر رضی اللہ عنہ کی ابتداء میں ہمارے پاس شراب پینے والا لایا جاتا تو ہم اسے اپنے ہاتھوں ، جوتیوں اور چادروں کے ساتھ مارتے تھے حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام میں انہوں نے چالیس کوڑے لگائے لیکن جب لوگوں نے (شراب پینے میں ) سرکشی کی تو انہوں نے اسی (80) کوڑے لگانے شروع کر دیے ۔
[احمد: 449/3 ، بخاري: 6779 ، كتاب الحدود: باب الضرب بالجريد و النعال ، نسائي فى السنن الكبرى: 250/3]
➏ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے لیے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔
[احمد: 322/1 ، ابو داود: 4476]
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ شرابی کو حد لگانا واجب ہے لیکن اس کی مقدار مقرر نہیں ۔ حاکم وقت جرم کی شناعت کے مطابق کوڑوں کی سزا تجویز کرے گا ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ملاحظه هو: السيل الجرار: 347/4 ، الروضة الندية: 612/2 ، نيل الأوطار: 597/4 ، سبل السلام: 1724/4]
شرابی کی حد کے متعلق اہل علم نے اختلاف کیا ہے:
(مالکؒ ، ابو حنیفہؒ ) شرابی کی حد اسی (80) کوڑے ہے ۔
(احمدؒ ، شافعیؒ ) شرابی کی حد چالیس (40) کوڑے ہے ۔
[المبسوط: 3/24 ، بداية المجتهد: 444/2 ، الأم للشافعي: 144/6 ، فتح القدير: 185/4 ، بدائع الصنائع: 113/5 ، المغنى: 304/8 ، القوانين الفقهية: ص / 361]
(راجح) شرابی کی حد متعین نہیں جیسا کہ پیچھے دلائل ذکر کر دیے گئے ہیں ۔
❀ شرابی کو ہاتھ سے ، چھڑی سے ، جوتی سے یا کپڑے سے امام کی مقرر کردہ مقدار کے مطابق حد لگائی جا سکتی ہے ۔
[الروضة الندية: 612/2]
(نوویؒ) علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ حد صرف چھڑی ، جوتی اور کپڑوں کے کناروں سے لگائی جائے گی (پھر خود فرماتے ہیں کہ ) راجح یہی ہے کہ کوڑے کے ساتھ بھی حد لگانا جائز ہے ۔
[شرح مسلم: 234/6]
❀ غلام کو بھی مکمل حد لگائی جائے گی کیونکہ اس کی تخصیص کتاب و سنت سے ثابت نہیں ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾