تحریر: عمران ایوب لاہوری
اس کے لیے شرابی کا ایک مرتبہ اقرار یا دو عادل گواہوں کی گواہی کافی ہے اگرچہ وہ قے پر ہی شہادت دیں
اس کا کئی مرتبہ پیچھے بیان گزر چکا ہے ۔
کیونکہ کسی آدمی کے پیٹ سے شراب کی بدبو اس وقت آتی ہے جب اس نے شراب پی ہو اور (شراب کی ) قے بھی صرف وہی شخص کرتا ہے جس نے شراب پی ہو ۔
[السيل الجرار: 350/4]
اسی وجہ سے صحابہ نے ولید بن عقبہ کوحد لگائی تھی ۔ حمران اور ایک دوسرے آدمی نے اس کے خلاف گواہی دی تھی ۔ ان میں سے ایک نے تو یہ گواہی دی کہ میں نے اسے شراب پیتے دیکھا ہے ۔ اور دوسرے نے کہا میں نے اسے شراب کی قے کرتے دیکھا ہے ۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک شراب نہ پی ہو قے کیسے کر سکتا ہے ۔
[مسلم: 1707 ، كتاب الحدود: باب حد الخمر]