شرابی کو سلام کہنا کیسا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

شرابی کو سلام کہنا کیسا ہے؟

جواب:

شرابی فاسق ہے، فاسق مسلمان کو سلام کہنا جائز ہے۔ اگر وہ بیمار ہو، تو اس کی تیمارداری کی جائے گی ، فوت ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ یہ اہل سنت والجماعت کا موقف ہے۔ اس کے برعکس چند روایات آتی ہیں، جو بلحاظ سند ثابت نہیں، ملاحظہ ہوں :
❀ سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :
لا تسلموا على من يشرب الخمر ولا تعودوهم إذا مرضوا ولا تصلوا عليهم إذا ماتوا .
”شرابی کوسلام مت کہیں ، بیمار ہوں تو ان کی عیادت مت کریں، مرجائیں، تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔“
(تغليق التعليق لابن حجر : 125/5)
سند سخت ضعیف ہے۔
① عبید اللہ بن زحر ضعیف ہے۔
② لیث بن ابی سلیم سی الحفظ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز مدلس ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے ۔
(فتح الباري : 41/11)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مرفوع روایت بھی آتی ہے۔
(الكامل لابن عدي : 502/2)
سند سخت ضعیف ہے۔
① ابومطیع حکم بن عبداللہ بلخی سخت ضعیف ہے
② محمد بن یزید سلمی ضعیف ہے۔
③ ابواشہب جعفر بن حارث ”کثیر الخطا“ ہے۔
④ لیث بن ابی سلیم سی ءالحفظ ہے۔
❀ اس روایت کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
(الكامل : 503/2)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو سخت ضعیف کہا ہے۔
(تغليق التعليق : 125/5)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
لا تسلموا على شراب الخمر .
”شرابی کو سلام مت کہیں ۔“
(الأدب المفرد للبخاري : 529 ، 1017 )
سند ضعیف ہے ۔ عبید اللہ بن زحر ضعیف ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے