شرائطِ نماز کی مکمل وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل نماز کے احکام ومسائل:جلد 01: صفحہ 88
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
شرائط نماز کا بیان

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرط کا مفہوم اور شرائطِ نماز کی تعریف

❀ شرطکا لغوی معنی علامت ہے۔
❀ اصطلاح میں شرط اس چیز کو کہتے ہیں جس کے نہ پائے جانے سے کوئی عمل پایا نہیں جاتا، لیکن اس کے پائے جانے سے عمل کا پایا جانا لازم نہیں آتا۔
❀ شرائطِ نمازسے مراد وہ امور ہیں کہ اگر ان کا حصول ممکن ہو تو ان کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی، بلکہ اگر ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو تو نماز صحیح نہیں ہوتی۔

① نماز کا وقت ہونا

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾
ترجمہ: یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض کی گئی ہے۔ [النساء 4/103]

❀ اہلِ اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کے اوقات شریعت میں متعین اور محدود ہیں، اور بلاعذر وقت سے پہلے نماز ادا نہیں ہوتی۔
❀ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"ہر نماز کا ایک وقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شرط قرار دیا ہے، اور صحیح نماز وہی ہے جو اپنے مقررہ وقت میں ادا کی جائے۔”

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ﴾
ترجمہ: سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو۔ [بنی اسرائیل 17/78]

❀ علمائے کرام کا اجماع ہے کہ نماز کو اول وقت میں ادا کرنا افضل ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾
ترجمہ: نیکیوں کی طرف دوڑو۔ [البقرۃ 2/148]

﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾
ترجمہ: اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو۔ [آل عمران 3/133]

﴿وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ۝ أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ﴾
ترجمہ: سبقت کرنے والے ہی سبقت کرنے والے ہیں، یہی لوگ اللہ کے مقرب ہیں۔ [الواقعۃ 56/10-11]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا”
ترجمہ: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ [صحیح بخاری 527، صحیح مسلم 85]

② بدن کو ڈھانپنا (سترِ عورہ)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾
ترجمہ: اے اولادِ آدم! ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔ [الاعراف 7/31]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ”
ترجمہ: اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ [سنن ابی داود 641، جامع الترمذی 377، سنن ابن ماجہ 655]

❀ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ”
ترجمہ: اپنی ران کو ڈھانپو کیونکہ یہ ستر میں سے ہے۔ [جامع الترمذی 2798، مسند احمد]

❀ عورت کا پورا جسم ستر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ”
ترجمہ: عورت کا سارا جسم ستر ہے۔ [جامع الترمذی 1173]

③ نجاست سے پاک ہونا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾
ترجمہ: اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ [المدثر 74/4]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ”
ترجمہ: پیشاب سے بچو، کیونکہ قبر کا زیادہ تر عذاب اسی کی وجہ سے ہے۔ [سنن دارقطنی 1/126، صحیح الجامع 3002]

❀ بدن، کپڑا اور نماز کی جگہ پاک ہونا شرط ہے۔
❀ قبرستان، حمام، لیٹرین اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز جائز نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ”
ترجمہ: زمین ساری مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔ [جامع الترمذی 317، سنن ابی داود 492]

④ استقبالِ قبلہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾
ترجمہ: اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجیے۔ [البقرۃ 2/144]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ”
ترجمہ: مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ [جامع الترمذی 342، سنن ابن ماجہ 1011]

❀ عاجز شخص کے لیے حسبِ استطاعت رخ کرنا کافی ہے۔

⑤ نیت کرنا

❀ نیت کا مقام دل ہے، زبان سے کہنا بدعت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ”
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ [صحیح البخاری، صحیح مسلم]

❀ نیت تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ یا اس سے پہلے دل میں ہونی چاہیے۔
❀ دورانِ نماز نیت توڑنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے