شادی کے دو ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ حلال ہے یا حرام؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

ایک شخص کی ایک لڑکی سے منگنی ہو گئی، ان کا آپس میں ملاپ رہتا تھا، پھر شادی ہوئی تو شادی کے دو ماہ بعد اس لڑکی کے ہاں بچے کی ولادت ہوگئی، کیا یہ بچہ حلال کا شمار ہوگا یا حرام کا؟ کتاب و سنت کی رو سے وضاحت فرمائیں؟

جواب :

شادی کے دو ماہ بعد بچے کی ولادت کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ ایسا بچہ جو شادی کے دو ماہ بعد پیدا ہو کس طرح حلال کا ہو سکتا ہے؟ جب کہ چار ماہ تک تو روح پڑتی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
إن أحدكم يجمع فى بطن أمه أربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث الله ملكا فيؤمر بأربعة برزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح
(صحیح البخاری، کتاب القدر، باب 6594، صحیح مسلم، کتاب القدر، باب كيفية خلق الآدمي الخ 2643)
”بلا شبہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک (نطفے کی صورت میں) رکھا جاتا ہے، پھر اس کے مثل جما ہوا خون، پھر اسی کے مثل گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے، جسے چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے رزق کا، اس کی موت کا اور نیک بخت یا بد بخت ہونے کا، پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ چار ماہ کے بعد بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کم از کم دو ماہ اور ولادت تک لگتے ہیں، یعنی کم از کم شادی کے چھ ماہ بعد پیدا ہونے والے بچے کو اہل علم نے حلال کا شمار کیا ہے، جسے اس کے باپ کی طرف منسوب کرنا درست ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾
(الأحقاف: 15)
”اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے تکلیف جھیل کر اسے اٹھائے رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنم دیا اور اس کا حمل اور دودھ چھڑائی کا زمانہ تیس مہینے ہے۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے (ڈھائی سال) بیان کی ہے۔ جس میں چوبیس (24 ماہ) یعنی دو سال مدت رضاعت ہے اور باقی چھ ماہ مدت حمل ہے، کیونکہ مدت رضاعت کی قرآن حکیم نے خود وضاحت کر دی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾
(البقرة: 233)
”مائیں اپنی اولاد کو کامل دو سال دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو۔“
اس آیت کریمہ میں ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ کہہ کر یہ بات بتا دی گئی ہے کہ مدت رضاعت دو برس ہی ہے۔ اس طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ﴾
(لقمان: 14)
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف در تکلیف کی صورت میں اٹھائے رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے، تا کہ تو میرا شکریہ ادا کرے اور اپنے والدین کا بھی، میری ہی طرف پلٹ کر آتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ﴿فِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ کہہ کر دودھ چھڑائی کی مدت دو برس ہی بتائی ہے۔ لہذا شادی کے چھ ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ تو حلالی شمار ہوگا، اس سے کم مدت والا بچہ حلالی نہیں ہوگا۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد استدل على رضى الله عنه بهٰذه الآية مع التى فى لقمان ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ وقوله تعاليٰ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ على أن أقل مدة الحمل ستة أشهر وهو استنباط قوي وصحيح ووافقه عليه عثمان وجماعة من الصحابة رضي الله عنهم
(تفسير ابن كثير 257/7-258 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سورۂ احقاف کی اس آیت کو سورۃ لقمان کی آیت اور سورۃ البقرة کی آیت کے ساتھ ملا کر استدلال کیا ہے کہ مدت حمل کم از کم چھ ماہ ہے، یہ استنباط قوی اور صحیح ہے اور اس پر عثمان رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے۔“
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فالرضاع أربعة وعشرون شهرا والحمل ستة أشهر
(الجامع لأحكام القرآن 129/16)
”مدت رضاعت چوبیس ماہ اور حمل کی مدت چھ ماہ ہے۔“
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ سورۃ لقمان اور سورۃ البقرہ کی مدت رضاعت والی آیات لکھ کر فرماتے ہیں:
يبين أن أمد الفصال عامان وهما أربعة وعشرون شهرا فإذا طرحتها من الثلاثين بقيت ستة أشهر فتعين كونها أمدا للحمل وهى أقله ولا خلاف فى ذلك بين العلماء
(التفسير أضواء البيان 38/5-39)
”لقمان اور بقرہ کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال بیان کی ہے، جو چوبیس مہینے ہیں، جب چوبیس ماہ کو تیس ماہ میں سے نفی کر دیں گے تو باقی چھ ماہ رہ جائیں گے، جس سے حمل کی مدت متعین ہو جائے گی اور یہ کم از کم مدت ہے اور اس مسئلہ میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔“
امام بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفيه دليل على أن أقل مدة الحمل ستة أشهر لأنه إذا طرح منه الفصال حولين لقوله تعالى ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ بقي ذلك
(تفسير يضاوي 394/2)
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ ماہ ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”حولين كاملين“ کی رو سے جب دو سال دودھ چھڑائی کی مدت کو تیس ماہ سے نکال دیا جائے تو باقی چھ ماہ رہ جاتے ہیں۔
تفسیر جلالین میں ہے:
ستة أشهر أقل مدة الحمل والباقي أكثر مدة الرضاع
(ص 668)
”چھ ماہ کم از کم مدت حمل اور باقی دو سال زیادہ سے زیادہ مدت رضاعت ہے۔“
علامہ زمخشری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهٰذا دليل على أن أقل الحمل ستة أشهر لأن مدة الرضاع إذا كانت حولين لقوله عز وجل ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ بقيت للحمل ستة أشهر
(الكشاف 302/4)
”یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کم ترین مدت حمل چھ ماہ ہے، اس لیے کہ اللہ کے فرمان ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ کی رو سے مدت رضاعت دو سال ہے تو پھر (تیس ماہ میں سے چوبیس ماہ نفی کر دیں تو) مدت حمل چھ ماہ رہ جاتی ہے۔“
علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
واستدل بها على كرم الله تعالى وجهه وابن عباس وجماعة من العلماء على أن أقل مدة الحمل ستة أشهر لأنه إذا طرح عن الثلاثين لفصال حولين لقوله تعالى ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ يبقى للحمل ستة أشهر وبه قال الأطباء قال جالينوس كنت شديد الفحص عن مقدار زمن الحمل فرأيت امرأة ولدت لمائة وأربع وثمانين ليلة وادعى ابن سينا أنه شاهد ذلك
(روح المعاني 18/26)
”اس آیت کریمہ سے علی کرم اللہ وجہہ، عبد اللہ بن عباس اور علماء کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ ماہ ہے، اس لیے کہ جب تیس ماہ میں سے دو سال (چوبیس ماہ) دودھ چھڑائی کے نکال دیں تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ مائیں اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں، جن کا ارادہ مدت رضاعت پوری کرنے کا ہو تو حمل کے لیے ہی چھ ماہ باقی رہ جاتے ہیں۔ کیا بات اطباء نے بھی کہی ہے، جالینوس نے کہا، زمانہ حمل کی مقدار کے متعلق میں سخت متلاشی تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک عورت نے ایک سو چوراسی (184) یعنی چھ ماہ پانچ راتوں میں بچے کو جنم دیا۔ ابن سینا نے اس کے مشاہدے کا دعوی کیا ہے۔“
اس آیت کریمہ کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیں: تفسیر فتح القدیر از شوکانی (18/5)، ایسر التفاسیر (231/4)، تفسیر اعرافی (18/27)، تفسیر معالم التنزيل المعروف بتفسیر بغوی (167/4)، احکام القرآن از ابوبکر ابن العربی (1698، 1697/4)، تفسیر مدارک (553/2)، تفسیر قاسمی (445/8) اور تفسیر فتح البیان (300/6)۔
بعجہ بن عبد اللہ جہنی فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے جہینہ قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح کیا، چھ مہینے پورے ہوتے ہی اسے بچہ پیدا ہو گیا، اس کے شوہر نے اس بات کا ذکر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کیا، آپ نے اس عورت کی طرف ایک آدمی بھیجا، وہ تیار ہو کر آنے لگی تو اس کی بہن نے آہ و بکا شروع کر دی، اس عورت نے اپنی بہن سے کہا: تم روتی کیوں ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے اللہ کی مخلوق میں سے اس آدمی (اپنے شوہر) کے علاوہ کسی سے تعلق نہیں رکھا، اللہ جو چاہے گا میرے متعلق فیصلہ کرے گا۔ جب وہ شخص اس عورت کو لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انھوں نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ بات علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ تشریف لائے اور خلیفہ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: یہ آپ کیا کرنے لگے ہیں؟ خلیفہ نے جواب دیا: اس عورت نے چھ ماہ پورے ہوتے ہی بچہ جنم دیا ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے یہ آیت نہیں پڑھی: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ ”اس کا حمل اور دودھ چھڑائی تیس ماہ ہے“ اور اللہ نے فرمایا: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ ”مدت رضاعت دو سال ہے“ جب تیس ماہ سے چوبیس ماہ منہا کر دیں تو باقی چھ ماہ رہ جاتے ہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال اس طرف نہیں گیا، جاؤ اس عورت کو میرے پاس لے آؤ۔ لوگوں نے اس عورت کو اس حال میں پایا کہ وہ اسے رجم کر چکے تھے۔ بعجہ بن عبد اللہ جہنی فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ایک کوا دوسرے کوے اور ایک انڈہ دوسرے انڈہ سے اتنا مشابہ نہیں ہوتا جتنا اس عورت کا بچہ اپنے باپ کے مشابہ تھا، جب اس لڑکے کے والد نے اسے دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے، مجھے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
(تفسير ابن كثير 258/7، تفسير ابن أبي حاتم 3293/10-3294، تفسير الدر المنشور 9/6)
مذکورہ بالا توضیح سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ شادی کے چھ مہینے بعد جو بچہ پیدا ہو اسے حلال کا شمار کر کے اس کے باپ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور جو بچہ شادی کے دو ماہ بعد پیدا ہو وہ کسی طرح بھی حلال کا نہیں ہوگا۔ یقینی طور پر اس میں بدکاری کو دخل ہے۔ والدین کو اپنی اولاد کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ بچوں کے بالغ ہونے کے بعد جتنا جلد ممکن ہو مناسب رشتہ تلاش کر کے انھیں شادی کے بندھن میں باندھ دیں، تا کہ وہ حرام کاری سے بچ سکیں۔ جو والدین بلاوجہ اپنے بچوں کی شادیاں لیٹ کر دیتے ہیں، ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو مختلف محلوں، سڑکوں، پارکوں، چوکوں، چوراہوں، ہوٹلوں اور نائٹ کلبوں میں اپنی جوانی برباد کرتے اور جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی رسومات اور ہندوانہ رسم و رواج کو بالائے طاق رکھ کر کتاب و سنت کے مطابق اپنی اولادوں کو بہت جلد رشتہ ازدواج میں منسلک کر دینا چاہیے، تاکہ وہ اپنی نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت کر کے پاکباز، متقی اور صالح بن سکیں۔