مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شادی کے بعد رخصتی میں تاخیر کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

اگر کسی شخص کا نکاح ہوئے ایک دو سال گزر گئے ہوں اور رخصتی نہ ہوئی ہو تو کیا وہ شخص اپنی منگیتر سے ملاقات یا بات چیت کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیا دونوں کو کنوارہ رکھنا، یعنی رخصتی نہ کرنا جائز ہے؟

جواب:

جب کسی شخص کا کسی عورت سے نکاح کر دیا جائے تو وہ دونوں آپس میں ملاقات اور گفتگو کر سکتے ہیں، کیونکہ اب وہ آپس میں میاں بیوی ہیں اور انہیں شادی کے بعد والے حقوق حاصل ہیں۔ صورت مسئولہ میں ان دونوں کی رخصتی فی الفور کر دینی چاہیے، کیونکہ مقاصد نکاح میں نگاہ کو پست رکھنا اور شرمگاہ کی حفاظت بھی ہے اور عدم رخصتی کی بنا پر فساد کھڑا ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو نوجوان لڑکیوں کو شادی کے بندھن میں باندھنے سے گریز کیا جاتا ہے اور مسلسل غیر ضروری امور کے لیے تاخیر کی جاتی ہے، یا شادی کر کے بھی عدم رخصتی کی صورت میں تاخیر در تاخیر کی جاتی ہے، یہ شریعت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ شادی کرتے ہی رخصتی کر دینا زیادہ مناسب ہے اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو برائی سے بچانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔