مضمون کے اہم نکات
شادی کے موقع پر تحفے یا رقم دینا – شریعت کی روشنی میں مکمل وضاحت
سوال:
شادی کے موقع پر رشتہ دار اور دوست احباب، لڑکے یا لڑکی والوں کو تحفے تحائف دیتے ہیں۔ کیا شریعت میں یہ عمل جائز ہے؟ اور اگر کوئی رقم دیتا ہے تو کیا اس کا لینا یا دینا شرعی طور پر درست ہے؟ اس کا مکمل حکم واضح کریں۔
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال کا تعلق ہدیہ (تحفہ) دینے کے مسئلے سے ہے، اور شریعت میں ہدیہ دینے کی ترغیب آئی ہے، اس لیے اس کے جواز میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔
ہدیہ دینے کی شرعی حیثیت
✿ ہدیہ دینا ایک مستحسن عمل ہے، جس پر قرآن و سنت میں ترغیب موجود ہے۔
✿ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، رسول اللہ ﷺ کو اور ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرتے تھے۔
✿ لہٰذا، شادی کے موقع پر تحفے دینا شرعاً بالکل جائز اور قابلِ تعریف عمل ہے۔
شادی کے موقع پر ہدیہ دینا
یہ سوال نہیں ہونا چاہئے کہ خاص شادی کے موقع پر ہدیہ دینا کیسا ہے، کیونکہ:
✿ ہدیہ دینے کی ترغیب عمومی طور پر آئی ہے۔
✿ اس میں شادی، عقیقہ، میلاد، یا دیگر خوشی کے مواقع سب شامل ہیں۔
✿ شادی کے موقع پر ہدیہ دینا بھی اسی عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔
✿ مہمان جو تحفہ یا رقم دیتے ہیں، وہ اپنی خوشی اور رضا سے دیتے ہیں، اس پر کوئی معیار مقرر نہیں۔
✿ کوئی ہدیہ نہ دے تو اس پر کوئی شرعی نکیر یا اعتراض نہیں۔
ہدیہ اور ولیمہ کا فرق
✿ یہ ہدیہ دینا ولیمہ کے دائرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
✿ اس لین دین پر ہدیہ کی تعریف صادق آتی ہے۔
✿ اگر کوئی اس عمل کو شادی کے موقع پر ناجائز کہتا ہے تو اسے دلیل دینی ہوگی جو اس عمومی حکم سے الگ کرتی ہو۔
احادیث کی روشنی میں دلیل
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری کی کتاب النکاح میں ایک باب باندھا ہے:
‘‘باب الهدية العروس’’
اس باب کے تحت انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے:
‘‘آپ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی، پھر اس کے ولیمہ کے موقع پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدیہ بھیجا، جس میں ایک طعام (غذا) تھا جو پنیر، گھی اور کھجور کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔’’
(الحدیث)
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ:
✿ شادی اور ولیمہ کے موقع پر شادی کرنے والے کو ہدیہ دینا سنت سے ثابت ہے۔
✿ چاہے وہ رقم ہو یا کھانے کی چیز، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
اسی بنیاد پر امام بخاریؒ جیسے محدث اور محقق نے واضح باب باندھ کر اس عمل کو مشروع (شرعی طور پر جائز) قرار دیا ہے۔
ہدیہ دینا خود سے ہو تو اولیٰ
✿ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے خوشی سے ہدیہ دیتا ہے تو یہ تو اور بھی زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
✿ لیکن اگر کسی موقع پر مدد کی درخواست کی جائے، تب بھی یہ جائز ہے۔
صحابہ کی مدد سے ولیمہ کی مثال
✿ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو:
➤ ولیمہ کے لیے آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
“جو کچھ بھی ہے لے آؤ”
➤ چنانچہ کوئی کھجور لایا، کوئی پنیر، وغیرہ۔
➤ پھر ان اشیاء کو ملا کر حَیْس تیار کیا گیا اور ولیمہ کیا گیا۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ:
✿ اگر دوست احباب اپنی خوشی سے یا درخواست پر مدد کریں تو یہ عمل جائز ہے۔
✿ اس میں کوئی حرج یا ممانعت کی بات نہیں ہے۔
نتیجہ
✿ شادی کے موقع پر جو احباب اور رشتہ دار تحائف یا رقم دیتے ہیں، وہ جائز، حلال، بلکہ مستحب اور سنت کے مطابق عمل ہے۔
✿ یہ عمل رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے۔
✿ جو لوگ اس عمل کو منع کرتے ہیں، ان کے پاس کوئی صحیح دلیل موجود نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب