مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شادی شدہ عورت کے بال کٹوانے کا شرعی حکم اور گناہ کی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 525

سوال

ایک مسلمان شادی شدہ بچی اپنے سر کے بال اپنی مرضی سے کٹواتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شادی شدہ عورت خاوند کے کہنے پر بناؤ سنگھار کے لیے سر کے بال کٹواتی ہے۔
ان دونوں صورتوں میں احکامِ الٰہی اور رسولِ مقبول صلی الله علیہ وسلم کے کیا احکامات ہیں اور یہ کتنا بڑا گناہ ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • عورت کے لیے سر کے بال کٹانا، کاٹنا، منڈانا یا مونڈنا درست نہیں۔
  • اس کی ممانعت اس طرح ثابت ہوتی ہے:
    • وصل شعر پر لعنت والی احادیث سے۔
    • غسلِ جنابت میں شعر مضفور میں رعایت والی احادیث سے۔
  • یہ دونوں صورتوں میں ناجائز ہے:
    1. اگر شادی شدہ بچی اپنی مرضی سے یہ کام کرے۔
    2. یا خاوند یا کسی اور کے کہنے پر یہ کام کرے۔

البتہ

  • احرام کھولتے وقت عورت پر تقصیر (یعنی تھوڑے سے بال کاٹنا) واجب ہے، جو حج یا عمرہ کے مناسک کا حصہ ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔