سوال :
فرقہ اہل سنت کی کتاب تاریخ حبیب السیر (جزء سوم، جلد اول ص 58) میں لکھا ہے: ”ربیع الابرار اور کامل السفینہ میں ہے کہ 57ھ میں معاویہ مدینہ آئے، یزید کی بیعت لینے کی خاطر امام حسین، عبد اللہ بن عمر، عبد الرحمن بن ابی بکر اور عبد اللہ بن الزبیر کو یزید کی بیعت کے بارے دکھ پہنچایا۔ بی بی عائشہ نے یزید کی بیعت لینے کے بارے معاویہ کو برا بھلا کہا۔ معاویہ نے کسی عزیز کے گھر کنواں کھدوایا اور گھاس سے اس کا منہ بند کر دیا اور اس پر آبنوس کی کرسی رکھ دی، تو بی بی عائشہ کو دعوت دی اور مہمان بنا کر اس کرسی پر بٹھایا، بس بیٹھنے کی دیر تھی کہ اماں جی اس کنویں میں گر گئیں، معاویہ نے کنواں بند کروا دیا اور مدینہ سے مکہ چلا گیا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات واقعی اس طرح ہوئی یا طبعی موت واقع ہوئی، صحیح بات کیا ہے؟
جواب :
اولاً: یہ بات یاد رہے کہ ربیع الابرار اور کامل السفینہ کتابوں کی کوئی حیثیت نہیں، ان کے مصنفین نامعلوم ہیں اور اہل سنت کے ہاں ان کتب کا کوئی مقام نہیں۔ ان کے مولفین کا مذہب کیا تھا، سنی، شیعہ، خارجی یا معتزلی؟ یہ کس صدی اور کس سن میں پیدا ہوئے، کہاں کے رہنے والے تھے اور ان کی علمی حیثیت کیا تھی؟ محدثین کے ہاں ان کی توثیق و تعدیل یا تجریح و تقدیح بھی معلوم نہیں، تو ایسے مجہول مصنفین کی بات کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟ محدثین کے ہاں تو روایت کے درست ہونے کے لیے سند کا صحیح ہونا ضروری ہے، تو جس بات کی کوئی پختہ سند ہی نہ ہو اسے قابل حجت کیسے مان لیا جائے۔
اہل سنت کے ثقہ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الإسناد عندي من الدين ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء ولكن إذا قيل له من حدثك؟ بقي
(كتاب العلل الملحق بسنن الترمذي ص 890، مقدمة صحیح مسلم ص 32، الإسناد من الدين ص 17)
”میرے نزدیک سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا، لیکن جب اسے کہا جائے تجھے کسی نے بیان کیا ہے؟ تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔“
عتبہ بن ابی حکیم بیان کرتے ہیں کہ وہ اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ کے پاس تھے اور اس ضعیف متروک راوی کے پاس امام زہری رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام زہری رحمہ اللہ نے اسے کہا:
قاتلك الله يا ابن أبى فروة ما أجرأك على الله لا تسند حديثك تحدثنا بأحاديث ليس لها خطم ولا أزمة
(الإسناد من الدين ص 18، كتاب العلل الملحق بسنن الترمذي ص 897)
”الله تجهے هلاك كرے، اے ابن ابي فروه! تو الله پر كتنا دلير واقع هوا هے؟ اپني روايت كي سند بيان نهيں كرتا. تو هميں ايسي روايات بيان كرتا هے جن كي كوئي لگام اور مهار نهيں هيں.“
خطام و زمام اس لگام کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اونٹ کو چلایا جاتا ہے۔ یعنی جیسے اونٹ کو مہار و لگام کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور اس کی حرکت سے اونٹ کا چلنا معلوم ہو جاتا ہے، اسی طرح احادیث کی پہچان وضبط اس کی اسانید و رجال سے ہوتی ہے۔ جس اونٹ کی لگام نہ ہو وہ انسان کے قابو میں نہیں رہتا اور بھاگ جاتا ہے، لہذا اسانید کے بغیر روایات قابل اعتبار نہیں۔
ثانیاً: یہ واقعہ تاریخی اعتبار سے بھی درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ یزید کی ولی عہدی کی بیعت 52ھ میں لی گئی تھی اور عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ صحیح قول کے مطابق 53ھ میں فوت ہو گئے تھے۔ ملاحظہ ہو ولی الدین خطیب تبریزی کی کتاب الکمال فی اسماء الرجال (ص 603)، تقریب(ص 199)، الکاشف للذھبی (622/1)اور خلاصہ خزرجی (126/2)، لہذا یہ واقعہ درست نہیں، کیونکہ 53ھ میں فوت ہونے والے صحابی کیا دوبارہ زندہ ہو کر 57ھ میں اس دار فانی میں آگئے تھے۔
ثالثاً: واقعہ وفات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یوں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آخری زمانہ تھا۔ اس وقت ان کی عمر 67 برس تھی۔ 57ھ میں ماہ رمضان میں بیمار ہوئیں، چند روز تک علیل رہیں، کوئی خیریت دریافت کرتا تو فرماتیں کہ اچھی ہوں، جو لوگ عیادت کو آتے، بشارت دیتے تو فرماتیں: کاش میں پتھر ہوتی، کاش میں کسی جنگل کی جڑی بوٹی ہوتی۔ اور پھر حکم دیا کہ مجھے بقیع غرقد میں رات کو دفن کیا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ان کی قبر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبد اللہ اور عروہ اور قاسم بن محمد بن ابوبکر، عبد اللہ بن محمد بن ابوبکر اور عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابوبکر اترے۔ (ملاحظہ ہو سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا ص 153 تا 155، أسد الغابة 189/7، الکمال في أسماء الرجال 612، الإصابة 235/8، الاستيعاب 438/4 ،439 وغیرہ۔)
اس سے معلوم ہوا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی طبعی موت سے اس دار فانی سے رخصت ہوئیں اور عشاء کی نماز کے بعد رات کو ان کی نماز جنازہ پڑھائی گئی۔(طبقات ابن سعد 62/8) ان کے بھتیجوں اور بھانجوں نے انھیں قبر میں اتارا اور وہ بقیع غرقد میں دفن کی گئیں۔ سوال میں ذکر کردہ افسانے کی صحیح سند نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حیثیت نہیں، یہ دشمنان صحابہ کرام کی وضع کردہ کہانی حقیقت سے کوسوں دور ہے، کوئی بھی صاحب عقل و خرد اس واقعہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔