سوال:
درج ذیل روایت کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
إن عمر بن الخطاب، أتى النبى صلى الله عليه وسلم بكتاب أصابه من بعض أهل الكتب، فقرأه على النبى صلى الله عليه وسلم، فغضب وقال: أمتهوكون فيها يا ابن الخطاب، والذي نفسي بيده، لقد جئتكم بها بيضاء نقية، لا تسألوهم عن شيء فيخبروكم بحق فتكذبوا به، أو بباطل فتصدقوا به، والذي نفسي بيده، لو أن موسى كان حيا، ما وسعه إلا أن يتبعني
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کتاب لیے حاضر ہوئے، جو انہیں اہل کتاب کے کسی فرد سے ملی تھی۔ انہوں نے اس کتاب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور فرمایا: ابن خطاب! کیا آپ لوگ اپنی شریعت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً میں آپ کے پاس صاف اور چمکدار شریعت لے کر آیا ہوں۔ آپ اہل کتاب سے کچھ بھی نہ پوچھیں، ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کو حق بات بتائیں اور آپ اس کی تکذیب کر دیں یا وہ آپ کو باطل بات بیان کریں اور آپ اس کی تصدیق کر دیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے، تو انہیں بھی میری پیروی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
(مسند الإمام أحمد: 3/387، سنن الدارمي: 435)
جواب:
سند ضعیف ہے۔ مجالد بن سعید ضعیف ہے۔ اس حدیث کے دیگر شواہد بھی ضعیف ہیں۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قال: انتسخت كتابا من أهل الكتاب، فرآه رسول الله صلى الله عليه وسلم فى يدي، فقال: ما هذا الكتاب يا عمر؟ فقلت: انتسخت كتابا من أهل الكتاب لنزداد به علما إلى علمنا، قال: فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرت عيناه، فقالت الأنصار: يا معشر الأنصار السلاح السلاح، أغضب نبيكم صلى الله عليه وسلم، فجاءوا حتى أحدقوا بمنبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أوتيت جوامع الكلم وخواتمه، واختصر لي الحديث اختصارا، ولقد أتيتكم بها بيضاء نقية، فلا تهيكوا، ولا يغرنكم المتهيكون، فقال عمر: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبك رسولا، ثم نزل
میں نے اہل کتاب سے ایک کتاب لکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں وہ کتاب دیکھی، تو فرمایا: عمر! یہ کون سی کتاب ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے اسے اہل کتاب سے لکھا ہے تا کہ ہم اپنے علم میں اضافہ کریں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے حتی کہ آپ کی آنکھیں مبارک سرخ ہو گئیں۔ انصار کہنے لگے: انصار کی جماعت! اسلحہ پکڑیں، آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا گیا ہے۔ انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو گھیرے میں لے لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے جامع و مانع کلمات عطا کیے گئے ہیں اور بات میرے لیے مختصر کر دی گئی ہے۔ میں آپ کے پاس واضح شریعت لے کر آیا ہوں۔ آپ شکوک و شبہات میں مت پڑیں، نہ ہی آپ کو شکوک و شبہات میں مبتلا لوگ دھوکے میں ڈالیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور آپ کے رسول ہونے پر راضی ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔
(الضعفاء الكبير للعقيلي: 1/21)
سند سخت ضعیف ہے۔ عبدالرحمن بن اسحاق ابو شیبہ، کوفی، واسطی ضعیف و منکر الحدیث ہے۔ خلیفہ بن قیس مجہول ہے۔
❀ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في هذا رواية أخرى من غير هذا المعنى بإسناد فيه أيضا لين
اس بارے میں دیگر روایات بھی ہیں، جن کی سندیں ضعیف ہیں۔
(الضعفاء الكبير: 1/21)
❀ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد ضعيف
اس کی سند ضعیف ہے۔
(اتحاف الخيرة المهرة: 1/249)
❀ سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
جاء عمر بن الخطاب إلى النبى صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إني مررت بأخ لي من قريظة، فكتب لي جوامع من التوراة، ألا أعرضها عليك؟ قال: فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال عبد الله: فقلت له: ألا ترى ما بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال عمر: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد صلى الله عليه وسلم رسولا، قال: فسري عن النبى صلى الله عليه وسلم، ثم قال: والذي نفسي بيده، لو أصبح فيكم موسى، فاتبعتموه، وتركتموني لضللتم، إنكم حظي من الأمم، وأنا حظكم من النبيين
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قبیلہ بنو قریظہ سے اپنے ایک بھائی کے پاس سے گزرا۔ اس نے تورات کی کچھ جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ کیا میں آپ کی خدمت میں وہ باتیں پیش نہ کروں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ نہیں دیکھ رہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دور ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام آپ میں آجائیں، پھر آپ مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگیں، تو آپ گمراہ ہو جائیں گے۔ امتوں میں سے آپ میرے حصے میں آئے ہیں اور انبیا میں سے میں آپ کے حصے میں آیا ہوں۔
(مسند الإمام أحمد: 3/470-471، 4/265)
سند باطل ہے۔ جابر بن یزید جعفی ضعیف و متروک ہے۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا عنعنہ ہے۔
❀ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم يصح
یہ روایت ثابت نہیں۔
(التاريخ الكبير: 5/39)
❀ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
جاء عمر بجوامع من التوراة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، جوامع من التوراة أخذتها من أخ لي من بني زريق، فتغير وجه رسول الله، فقال عبد الله ابن زيد الذى أري الأذان: أمسخ الله عقلك؟ ألا ترى الذى بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال عمر: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، وبالقرآن إماما، فسري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال: والذي نفس محمد بيده، لو كان موسى بين أظهركم، ثم اتبعتموه وتركتموني؛ لضللتم ضلالا بعيدا، أنتم حظي من الأمم، وأنا حظكم من النبيين
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تورات کی کچھ جامع عبارات لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تورات کی کچھ جامع عبارات ہیں، جو میں نے بنو زریق سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک بھائی سے لی ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ، جنہیں خواب میں اذان سکھائی گئی تھی، نے کہا: (اے عمر!) کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کی عقل مسخ کر دی ہے؟ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر موجود غصہ نظر نہیں آرہا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی ہوں۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غصہ دور ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر موسیٰ علیہ السلام آپ کے پاس موجود ہوں اور آپ مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگیں، تو آپ بہت دور کی گمراہی میں پڑ جائیں گے۔ امتوں میں سے آپ میرے حصے میں آئے ہیں اور نبیوں میں سے میں آپ کے حصے میں آیا ہوں۔
(جامع السنن والمسانيد لابن كثير: 9/344، مجمع الزوائد للهيثمي: 1/174)
سند ضعیف ہے۔ ابو عامر، قاسم بن محمد، اسدی کے حالات زندگی نہیں ملے۔
❀ حافظ ہيثمي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم أر من ترجمه
میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے اس کے حالات درج کیے ہوں۔
ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں۔ ابو حبیبہ طائی مجہول الحال ہے۔
❀ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا أدري
میں نہیں جانتا یہ کون ہے؟
(مجمع الزوائد: 1/174، تاريخ الدوري: 3/512)
❀ حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے:
إن عمر بن الخطاب رضوان الله عليه قال: يا رسول الله، إن أهل الكتاب يحدثوننا بأحاديث قد أخذت بقلوبنا، وقد هممنا أن نكتبها، فقال: يا ابن الخطاب، أمتهوكن أنتم كما تهوكت اليهود والنصارى؟ أما والذي نفس محمد بيده، لقد جئتكم بها بيضاء نقية، ولكني أعطيت جوامع الكلم، واختصر لي الحديث اختصارا
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب ہمیں بہت سی ایسی باتیں بیان کرتے ہیں، جو ہمارے دلوں کو چھوتی ہیں اور ہم انہیں لکھنے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب! کیا آپ بھی یہود و نصاریٰ کی طرح شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگے ہیں؟ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! یقیناً میں آپ کے پاس ایک واضح اور چمکدار شریعت لے کر آیا ہوں، البتہ مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں اور بات کو میرے لیے مختصر کر دیا گیا ہے۔
(فضائل القرآن لابن الضريس: 89، شعب الإيمان للبيهقي: 178)
سند ضعیف ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ولقا نہیں، نیز وہ مدلس بھی ہیں۔ یوں یہ سند منقطع ہوئی۔
❀ ابو قلابہ رحمہ اللہ سے مروی ہے:
إن عمر بن الخطاب مر برجل يقرأ كتابا سمعه ساعة، فاستحسنه فقال للرجل: أتكتب من هذا الكتاب؟ قال: نعم، فاشترى أديما لنفسه، ثم جاء به إليه فنسخه فى بطنه وظهره، ثم أتى به النبى صلى الله عليه وسلم، فجعل يقرأه عليه، وجعل وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتلون، فضرب رجل من الأنصار بيده الكتاب، وقال: ثكلتك أمك يا ابن الخطاب، ألا ترى إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ اليوم وأنت تقرأ هذا الكتاب؟ فقال النبى صلى الله عليه وسلم عند ذلك: إنما بعثت فاتحا وخاتما، وأعطيت جوامع الكلم وفواتحه، واختصر لي الحديث اختصارا، فلا يهلكنكم المتهوكون
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو کتاب پڑھ رہا تھا، آپ نے کچھ دیر اسے سنا، تو آپ کو وہ کلام اچھا لگا، اس شخص سے کہا: کیا آپ مجھے اس کتاب سے کچھ نقل کر دیں گے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چمڑا خریدا اور اس شخص کے پاس لے کر آئے، تو اس نے چمڑے کے اندر اور باہر تحریر کر دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ تحریر لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کلام پڑھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہونے لگا، ایک انصاری صحابی نے اس تحریر پر ہاتھ مارا اور کہا: ابن الخطاب! آپ کی ماں آپ کو گم پائے، آپ بدستور یہ تحریر پڑھے جا رہے ہیں، آپ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ رہے؟ تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے فاتح (رحمت الہی کو کھولنے والا یا جنت کے دروازے کو کھولنے والا یا نبوت کو کھولنے والا کہ سب سے پہلے میری ختم نبوت کو لکھا گیا) اور خاتم (خاتم النبیین) بنا کر مبعوث کیا گیا ہے، مجھے جامع کلمات دیے گئے اور میرے لیے بات کو مختصر کیا گیا ہے، لہذا کوئی شک و شبہات میں ڈالنے والا آپ کو شک و شبہات کا شکار نہ کر دے۔
(مصنف عبد الرزاق: 10163)
روایت سخت ضعیف ہے۔ ابو قلابہ مرسل بیان کر رہے ہیں۔ عبدالرزاق بن ہمام کا عنعنہ ہے۔ معمر کی اہل بصرہ سے روایت میں کلام ہے۔ ایوب سختیانی بھی بصری ہیں، لہذا روایت معلول ہے۔ الحاصل: یہ روایت تمام متابعات و شواہد کے ساتھ ضعیف و غیر ثابت ہے۔