مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سیدنا عمر بن الخطابؓ: سیرت، فضائل، خلافت اور شہادت کا جامع تذکرہ

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اس مضمون میں ہم اسلام کی اس عظیم المرتبت شخصیت کا تفصیلی تذکرہ پیش کر رہے ہیں جن کا نام سنتے ہی ایمان تازہ ہوجاتا ہے، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی دعا فرمائی، جن کے قبولِ اسلام سے مسلمانوں کو طاقت ملی، جن کی زبان و دل پر اللہ تعالیٰ نے حق جاری کیا، اور جنہیں عشرۂ مبشرہ میں شامل کر کے جنت کی خوشخبری دی گئی۔ ان کی خلافت میں فارس و روم جیسی عظیم سلطنتیں اسلام کے سامنے جھک گئیں۔
یہ عظیم ہستی سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں — جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد امت کے سب سے افضل انسان ہیں۔ اس مضمون میں ان کی سیرت، فضائل، مناقب، کارنامے اور عملی زندگی کا جامع بیان پیش کیا جائے گا۔

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ — تعارف و ابتدائی حالات

فضیلتِ عمر رضی اللہ عنہ — صحابہ کی گواہی

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض لوگوں کو بعض پر فضیلت دیا کرتے تھے۔ ہم ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل سمجھتے تھے… پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم۔‘‘ (صحیح البخاری: 3655)

تاریخِ ولادت

آپ کی ولادت عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی۔ اس طرح آپ حضور ﷺ سے تیرہ سال چھوٹے تھے۔ اس کی دلیل صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ:

’’نبی کریم ﷺ، ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ — تینوں 63 برس کی عمر میں فوت ہوئے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2358، 2352)

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ تقریباً تیرہ برس زندہ رہے، لہٰذا آپ کی ولادت بھی آپ ﷺ کی ولادت کے تقریباً تیرہ سال بعد ہی ثابت ہوتی ہے۔

نسبِ مبارک

آپ کا نسب یوں ہے:

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی

اسی کعب بن لؤی پر آپ کا نسب رسول اللہ ﷺ کے نسبِ مبارک سے جا ملتا ہے۔

● والدہ کا نام

حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم

آپ کے والد کی طرف سے تعلق بنو عدی قبیلے سے تھا جو قریش کا باوقار قبیلہ تھا اور سفارت کاری انہی کے ذمہ تھی۔
جبکہ والدہ کی طرف سے تعلق بنو مخزوم سے تھا جو مکہ کے امیر ترین تجارتی قبائل میں شمار ہوتا تھا۔

کنیت اور لقب

کنیت : ابو حفص

یہ کنیت خود رسول اللہ ﷺ نے رکھی۔ معرکۂ بدر کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:

((یَا أَبَا حَفْص! أَیُضْرَبُ وَجْہُ عَمِّ رَسُولِ اللّٰہِ بِالسَّیْفِ؟))
’’اے ابو حفص! کیا رسول اللہ ﷺ کے چچا کے چہرے پر تلوار اٹھائی جائے گی؟‘‘
(المستدرک للحاکم: 4988)

یہی وہ پہلا دن تھا جب آپ ﷺ نے انہیں “ابو حفص” کہہ کر پکارا۔

لقب: الفاروق

یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا۔
اگرچہ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سب سے پہلے کس نے یہ لقب دیا، مگر واضح ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ لقب اسی لئے دیا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو قوت ملی اور کفر و ایمان الگ واضح ہوگئے۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’جب سے عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، ہم عزت والے ہوگئے۔‘‘
(صحیح البخاری: 3684، 3863)

لقب امیرالمؤمنین

حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلافت پر فائز ہوئے تو تاریخِ اسلام میں سب سے پہلے امیرالمؤمنین کا لقب آپ ہی کو دیا گیا۔
سب سے پہلے یہ لقب لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما نے استعمال کیا۔
(الأدب المفرد للبخاری: 353)

قبولِ اسلام

ابتدائی طور پر عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے سخت مخالف تھے اور کمزور مسلمانوں کو تکلیف بھی پہنچاتے تھے۔ جناب سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’عمر نے اسلام سے پہلے مجھے اور اپنی بہن کو اسلام کی وجہ سے باندھ رکھا تھا۔‘‘
(صحیح البخاری: 3867)

اور نبی کریم ﷺ خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے:

((اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَیْنِ إِلَیْکَ…))
’’اے اللہ! اسلام کو ان دونوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو — ابو جہل یا عمر — اس کے ذریعے طاقت دے۔‘‘
(جامع الترمذی: 3681)

اور اللہ نے نبی ﷺ کی دعا قبول فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ 26 برس کی عمر میں ایمان لائے۔

مشہور واقعہ (اپنی بہن کے گھر سورۂ طٰہٰ سن کر ایمان لانا) سنداً ثابت نہیں۔
صحیح ترین واقعہ وہ ہے جو صحیح البخاری میں مذکور ہے، جہاں آپ نے جنّات کی چیخ اور نبوت کی صداقت کا مشاہدہ کیا۔

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب

اہلِ سنت والجماعت اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل صحابی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے کہ:

’’رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابو بکر اور پھر عمر ہیں۔‘‘
(صحیح البخاری: 3671 — سنن ابی داود: 4629)

➊ رسول اللہ ﷺ کے محبوب ترین مرد

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا:

’’اے اللہ کے رسول! آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’عائشہ‘‘۔
انہوں نے عرض کیا: ’’مردوں میں سے؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابو بکر‘‘۔
عرض کیا: ’’پھر کون؟‘‘
فرمایا: ’’عمر بن الخطاب‘‘
(صحیح البخاری: 3662 — صحیح مسلم: 2384)

اسی محبت کی علامت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے نبی ﷺ کا نکاح ہے، جس کا تفصیلی واقعہ صحیح البخاری (5122) میں مذکور ہے۔

➋ جنت کی بشارت

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اجازت چاہی تو نبی ﷺ نے فرمایا:

((اِفْتَحْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ))
’’اس کے لئے دروازہ کھولو اور اسے جنت کی بشارت دو۔‘‘
وہ ابو بکر تھے۔

پھر دوسرے شخص کے لئے بھی یہی فرمایا، وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
(صحیح البخاری: 3693)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((هَذَانِ سَیِّدَا كُہُولِ أَهْلِ الْجَنَّۃ…))
’’یہ دونوں (ابو بکر و عمر) انبیاء و رسل کے سوا جنت کے تمام بڑے لوگوں کے سردار ہیں۔‘‘
(جامع الترمذی: 3666)

➌ جنت میں عمر رضی اللہ عنہ کا محل

نبی ﷺ فرماتے ہیں:

’’میں نے خواب میں جنت دیکھی۔ وہاں ایک محل میں ایک عورت وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟
فرشتوں نے کہا: یہ عمر بن الخطاب کا ہے…‘‘
(صحیح البخاری: 3680)

ایک اور روایت:

’’میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے ایک سونے کا محل نظر آیا… بتایا گیا یہ عمر کا ہے۔‘‘
(صحیح البخاری: 5226 — صحیح مسلم: 239)

➍ شیطان بھی عمر رضی اللہ عنہ سے ڈرتا تھا

نبی ﷺ نے فرمایا:

((مَا لَقِیَکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ))
’’اے عمر! شیطان جس راستے میں تمہیں دیکھتا ہے، وہ اس کے سوا دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔‘‘
(صحیح البخاری: 3683، صحیح مسلم: 2396)

اور ایک موقع پر فرمایا:

((إِنِّیْ لَأَنْظُرُ إِلٰی شَیَاطِیْنِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ))
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ جن و انس کے شیاطین عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے۔‘‘
(جامع الترمذی: 3691)

➎ موافقاتِ عمر — قرآن ان کی رائے کی تائید میں نازل ہوا

نبی ﷺ نے فرمایا:

((إِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ))
’’اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کر دیا ہے۔‘‘
(جامع الترمذی: 3682)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی…‘‘

① مقامِ ابراہیم کو مصلّی بنانے کی تجویز، جس پر آیت نازل ہوئی:
﴿وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہِیْمَ مُصَلًّی﴾

“اور تم مقامِ ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔”

(البقرۃ: 125)

② ازواجِ مطہرات کے لئے پردے کا حکم:
﴿فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ﴾

“پس تم ان سے پردے کے پیچھے سے سوال کرو۔”

(الاحزاب: 53)

③ ازواجِ مطہرات کے بارے میں فرمایا کہ اگر آپ ﷺ چاہیں تو بہتر بیویاں عطا ہوں گی۔
اسی مفہوم میں آیت نازل ہوئی:
﴿عَسٰی رَبُّہٗٓ…﴾

“امید ہے کہ اس کا رب (ایسا کرے گا / اس پر کرم فرمائے گا)۔”

(التحریم: 5)

❀ بدر کے قیدی بھی عمر کی رائے کے مطابق ثابت ہوئے
تفصیل صحیح مسلم (1763) میں ہے کہ فدیہ لینے کے بارے میں ابتدائی رائے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تھی، لیکن وحی کے نزول نے عمر کی رائے کی تائید کر دی۔

➏ فتنوں کے سامنے ایک مضبوط دروازہ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بتایا:

’’عمر ایک بند دروازے کی طرح ہیں، جب یہ ٹوٹ جائے گا تو فتنوں کی یلغار ہو جائے گی۔‘‘
اور وہ دروازہ قتلِ عمر سے ٹوٹا۔
(صحیح البخاری: 3586)

➐ عمر کے ایمان کی تصدیق نبی ﷺ نے فرمائی

بھیڑیے کے بولنے والے مشہور واقعہ میں نبی ﷺ نے فرمایا:

((فَإِنِّیْ أُؤْمِنُ بِہٖ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ))
’’میں اس (خبر) کی تصدیق کرتا ہوں، اور ابو بکر و عمر بھی تصدیق کرتے ہیں۔‘‘
(صحیح البخاری: 3487)

➑ علم کی بشارت

نبی ﷺ نے خواب میں دودھ پیا اور فرمایا:

’’میں نے باقی دودھ عمر کو دے دیا۔‘‘
صحابہ نے پوچھا: اس کی تعبیر؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’علم۔‘‘
(صحیح البخاری: 82)

➒ نبی ﷺ کا حکم: ’’میرے بعد ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا‘‘

((فَاقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ…))
’’میرے بعد ان دونوں (ابو بکر و عمر) کی اقتداء کرنا۔‘‘
(جامع الترمذی: 3663)

➓ اگر نبوت جاری رہتی تو عمر نبی ہوتے

((لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ))
’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔‘‘
(جامع الترمذی: 3686)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عملی زندگی کے روشن پہلو

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صرف عظیم منصب و فضیلت والے صحابی ہی نہیں تھے بلکہ عملی زندگی میں بھی آپ مثالی کردار کے حامل تھے۔ دین پر عمل، اطاعتِ رسول ﷺ، جہاد، انفاق، عدل و احسان—ہر میدان میں آپ کی زندگانی ایک مکمل نمونہ ہے۔

دین میں مضبوطی اور کتابُ اللہ پر عمل

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

((أَرْحَمُ أُمَّتِیْ بِأُمَّتِیْ أَبُو بَکْرٍ، وَأَشَدُّہُمْ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ عُمَرُ))
’’میری امت میں امت پر سب سے رحم دل ابو بکر ہیں، اور دینِ الٰہی میں سب سے مضبوط عمر ہیں۔‘‘
(جامع الترمذی: 3790)

خواب میں کرتہ — دین کی علامت

نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں نے مختلف لمبائی کے کرتے پہنے ہیں، جبکہ عمر رضی اللہ عنہ کا کرتہ اتنا لمبا کہ گھسیٹ رہے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اس کی تعبیر دین ہے۔‘‘
(صحیح البخاری: 23 — صحیح مسلم: 2390)

یعنی دین داری میں عمر رضی اللہ عنہ سب سے آگے تھے۔

قرآن پر سختی سے عمل پیرا ہونا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول:

’’جب ایک بدوی نے سخت بات کہی، تو میں نے آیت پڑھی:
﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ﴾ (الاعراف: 199)
تو اللہ کی قسم! عمر فوراً رک گئے۔ وہ کتاب اللہ پر مضبوطی سے قائم تھے۔
(صحیح البخاری: 4642)

نبی ﷺ سے شدید محبت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے۔‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
((لَا… حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ))
آخر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
((الْآنَ یَا عُمَرُ))
’’اے عمر! اب بات پوری ہوئی۔‘‘
(صحیح البخاری: 6632)

کامل اطاعتِ رسول ﷺ

قسم نہ اٹھانے کا حکم

نبی ﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ))
’’اللہ نے تمہیں باپوں کی قسم اٹھانے سے منع کیا ہے۔‘‘
عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’اس دن کے بعد کبھی باپ کی قسم نہیں کھائی۔‘‘
(صحیح البخاری: 6647)

طاعون کے متعلق حدیث پر فوری عمل

جب شام میں وبا پھیلی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی:
((إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ… فَلَا تَقْدَمُوا))
’’جہاں وبا ہو وہاں داخل نہ ہو۔‘‘
عمر فوراً واپس پلٹ آئے۔
(صحیح مسلم: 2219)

حجر اسود کا بوسہ — محض اتباعِ سنت

فرمایا:
’’اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔‘‘
(صحیح مسلم: 1270)

 انفاق فی سبیل اللہ

ابو بکر سے سبقت کی کوشش

نبی ﷺ نے صدقے کی ترغیب دی۔ عمر رضی اللہ عنہ آدھا مال لے آئے۔
پوچھا گیا: ’’اہلِ خانہ کیلئے کیا چھوڑا؟‘‘
کہا: ’’اتنا ہی۔‘‘
ابو بکر رضی اللہ عنہ سارا مال لے آئے۔
انہوں نے کہا: ’’میں نے ان کیلئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چھوڑا ہے۔‘‘
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’میں کبھی آپ سے سبقت نہ لے جاؤں گا۔‘‘
(سنن ابی داود: 1678)

خیبر کی زمین — پہلا وقف

آپ کو خیبر میں بہترین زمین ملی۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
((إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا))
’’اگر چاہو اصل روک لو اور آمدنی صدقہ کر دو۔‘‘
آپ نے اسے وقف کر دیا۔
(صحیح البخاری: 2737)

غزوات میں بے مثال خدمات

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام بڑے غزوات میں شرکت کی:
❀ بدر
❀ احد
❀ خندق
❀ حدیبیہ
❀ خیبر
❀ فتحِ مکہ
❀ تبوک
وغیرہ

ہر معرکہ میں شجاعت اور استقامت کے بے شمار واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں۔

زہد و قناعت

حالانکہ قیصر و کسریٰ کے خزانے مدینہ لائے گئے، مگر آپ کی زندگی سادگی سے نہ بدلی۔

❀ آپ نے وفات کے وقت فرمایا کہ مجھ پر 86 ہزار درہم قرض ہے، اسے ادا کیا جائے۔
❀ بیت المال سے صرف اتنا لیتے تھے جتنی ایک عام قریشی خاندان کی ضرورت ہو۔

فرمایا:

’’اللہ کے مال میں میری مثال یتیم کے سرپرست کی ہے؛ اگر غنی ہوں تو نہیں لیتا، اگر محتاج ہوں تو معروف کے مطابق لیتا ہوں اور آسانی پر واپس کر دیتا ہوں۔‘‘
(طبقات ابن سعد: 3/276)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت — ایک عظیم باب

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت اسلامی تاریخ کا سنہری دور ہے۔ عدل، زہد، امن، امنِ عامہ، معاشی خوشحالی اور بے مثال فتوحات—ہر میدان میں آپ کی قیادت انوکھی اور مثالی رہی۔ دنیا آج تک اس دور کو ’’عہدِ عدلِ فاروقی‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔

خلافت کی نامزدگی

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے کچھ پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد فرمایا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس علی اور طلحہ رضی اللہ عنہما آئے اور پوچھا:

’’آپ نے کسے اپنا جانشین بنایا؟‘‘
انہوں نے فرمایا: ’’عمر کو۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’وہ سخت مزاج ہیں! اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟‘‘
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں کہوں گا کہ میں نے ان میں سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا۔‘‘
(إرواء الغلیل: 6/80)

پوری امت نے آپ کی خلافت پر اتفاق کیا، اور ’’امیر المؤمنین‘‘ کے لقب سے پکارا جانے لگا۔

رعایا کی فلاح و بہبود

بیواؤں اور یتیموں کی کفالت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

((لَئِنْ سَلَّمَنِی اللّٰہُ… لَأَدَعَنَّ أَرَامِلَ الْعِرَاقِ لَا یَحْتَجْنَ إِلٰی رَجُلٍ بَعْدِی))
’’اگر اللہ نے مجھے مہلت دی تو میں عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہ رہیں۔‘‘
(صحیح البخاری: 3497)

ایک غریب عورت کی فریاد

ایک عورت نے کہا: ’’میرے بچوں کے پاس پکا کر کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں۔‘‘
عمر رضی اللہ عنہ فوراً گھر گئے، دو بورے غلہ کے بھرے، سامان رکھا، اونٹنی اس کے حوالے کی اور فرمایا:

’’لے جاؤ، اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ تمہیں اور عطا کرے گا۔‘‘
(صحیح البخاری: 3928)

جانوروں کا خیال

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر کہا کرتے تھے:

’’اگر فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی مر جائے، تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ عمر سے اس کا بھی حساب نہ لے۔‘‘
(مصنف ابن ابی شیبہ 13/277)

نرم دل اور رحم دل حکمران

ایک شخص نے کہا: ’’میں نے کبھی اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیا۔‘‘
عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً فرمایا:

’’تو لوگوں پر بھی رحم نہ کرے گا، میں تمہیں کسی کام پر مقرر نہیں کر سکتا۔‘‘
(الأدب المفرد للبخاری)

اسی طرح آپ خطبہ میں فرمایا کرتے تھے:

’’میں اپنے افسروں کو تمہاری کھالیں اتارنے یا مال ہڑپ کرنے کیلئے نہیں بھیجتا بلکہ تمہیں دین سکھانے کیلئے بھیجتا ہوں۔ اگر کوئی ظلم کرے تو فوراً مجھے اطلاع دینا۔‘‘
(مسند احمد 1/279)

تعلیم و تربیت کا اہتمام

ایک موقع پر دو آدمی مسجدِ نبوی میں اونچی آواز سے بات کر رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کنکری مار کر انہیں بلایا اور پوچھا کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟
انہوں نے کہا: ’’طائف کے۔‘‘
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اگر مدینہ کے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے، اس میں آواز بلند نہ کیا کرو۔‘‘
(صحیح البخاری: 458)

عظیم فتوحات — روم و فارس کا زوال

صرف نو برس کی مختصر خلافت میں آپ نے وہ کارنامے سرانجام دیے جن پر تاریخ آج تک حیران ہے۔

فتوحاتِ شام

❀ 13ھ — جنگ فحل

مسلمانوں کو عظیم فتح ملی۔

❀ 14ھ — دمشق کی فتح

❀ شام کے پورے علاقوں کی فتح
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سپہ سالار مقرر ہوئے۔
❀ شمالی شام (سوریہ)
❀ جنوبی شام (اردن)
سب اسلامی ریاست میں شامل ہوگئے۔

❀ 15ھ — فتحِ بیت المقدس

اہلِ بیت المقدس نے شرط رکھی کہ ’’خلیفہ خود آئیں گے تو ہم شہر حوالے کریں گے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے، صلح کی، عبادت گاہوں کی حفاظت کی ضمانت دی، اور مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں ’’مصلیٰ عمر‘‘ تعمیر کروایا۔

✦ فتوحاتِ مصر و لیبیا

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی اجازت سے:
✔ عریش
✔ عین شمس
✔ فسطاط
✔ صعید
اور پھر اسکندریہ فتح کیا۔
۲۱ھ میں پورا مصر اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
۲۲ھ میں طرابلس (لیبیا) بھی فتح کر لیا گیا۔

فتوحاتِ فارس

❀ 13ھ — معرکۂ جسر (ابتدائی آزمائش)

مسلمانوں کو عارضی شکست۔

❀ 13ھ — معرکۂ بویب

مسلمانوں نے عظیم فتح حاصل کی۔

❀ 14ھ — قادسیہ کی فیصلہ کن جنگ

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں فارسی سلطنت کی کمر ٹوٹ گئی۔

❀ 16ھ — فتحِ مدائن

کسریٰ کے محلات اور خزانے نبی ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔

❀ جلولا، تکریت، موصل

تمام علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔

❀ 21ھ — نہاوند (فتح الفتوح)

اس عظیم جنگ کے نتیجے میں پورا ایران اسلام کے زیرنگیں آگیا۔
مسلمان وسط ایشیا، سندھ، بحرِ ہند اور ارمینیہ تک پہنچ گئے۔

نو برس کی فتوحات — تاریخ کا معجزہ

دنیا آج تک حیران ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں مسلمان:

❀ رومی سلطنت
❀ فارسی سلطنت
❀ مصر و لیبیا

— سب کو شکست دے کر دنیا کی سب سے مضبوط طاقت بن گئے۔
یہ سب کچھ عمر رضی اللہ عنہ کی حکمت، عدل، انتظامی قابلیت اور تقویٰ کا نتیجہ تھا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آخری ایام

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے تمام تر بوجھ کے باوجود اپنی رعایا کے لیے ہر وقت فکر اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا خوف رکھا۔ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک وہ اپنے ہر فیصلے کا محاسبہ کرتے رہے۔
آپ ہمیشہ فرماتے:

’’کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی، کاش میں بھولی بسری چیز ہوتا!‘‘
(طبقات ابن سعد)

یہ الفاظ آپ کے شدید خوفِ خدا، عاجزی اور احساسِ مسؤولیت کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

➊ قاتل کا تعین اور حملے کا پس منظر

23ھ کے آخر میں ایک عجمی غلام ابو لؤلؤ فیروز—جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا موالی تھا—نے عمر رضی اللہ عنہ سے کسی معاملے پر سخت بات کی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ:

’’تمہارے کام کا جو بدل ہے وہ مناسب ہے، اور میں تم پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘

غلام اس بات سے ناراض ہوگیا، اور شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر ایک دو دھاری خنجر تیار کیا۔

➋ حملہ اور نمازِ فجر کا واقعہ

صحیح بخاری (3700) اور صحیح مسلم (567) کی روایات کے مطابق:
ایک دن فجر کی نماز میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ’’استووا‘‘ کہہ کر صفیں سیدھی کیں۔ جیسے ہی نماز شروع کی، ابو لؤلؤ نے آگے بڑھ کر آپ پر یکے بعد دیگرے چھ وار کیے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے۔ زخمی حالت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھایا، اور جماعت نے نماز مکمل کی۔

حملہ کرنے والا بھاگنے کی کوشش میں دوسرے نمازیوں کو بھی زخمی کرتا ہوا جب گھیرے میں آیا تو اس نے خودکشی کر لی۔

➌ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش: ’’دفن رسول اللہ ﷺ کے پاس‘‘

شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ نے سب سے پہلے نماز کی فکر کی۔ جب ہوش آیا تو فرمایا:

’’نماز ہو گئی؟‘‘
عرض کیا گیا: ’’جی‘‘
فرمایا:
’’نماز چھوڑنے والے کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘
پھر وضو کیا اور خون بہتے ہونے کے باوجود نماز پڑھی۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: 33767)

اس کے بعد اپنی سب سے بڑی خواہش بیان فرمائی:

’’میری بیٹی عائشہ کے پاس جاؤ، اور پوچھو کہ کیا میں اپنے دونوں ساتھیوں (نبی ﷺ اور ابو بکر) کے ساتھ دفن ہوسکتا ہوں؟‘‘
(صحیح البخاری: 3700)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:

’’میں نے یہ جگہ اپنی خواہش کیلئے رکھی تھی، مگر آج میں عمر کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔‘‘
(صحیح البخاری: 1392)

➍ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زخمی ہونے کے تین دن بعد—26 ذی الحج 23ھ—جامِ شہادت نوش فرمایا۔ وفات کے وقت عمر 63 برس کے تھے، جیسا کہ نبی ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی 63 برس میں فوت ہوئے۔

➎ تدفین

آپ کو غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا، اور نمازِ جنازہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
پھر مدینہ منورہ میں حجرۂ مبارک میں رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔

یہ مقامِ شرف پوری امت میں کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔

➏ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان

حضرت عمر کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’عمر! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ اللہ کی قسم!
تمہارا نام حق کے ساتھ جڑا رہا،
تمہارا فیصلہ عدل پر قائم رہا،
تمہاری سوچ حکمت سے بھری رہی،
اور تم دین کے لیے ایک مضبوط سہارا تھے…
اللہ کی قسم! میں گمان کرتا ہوں کہ اللہ تمہیں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔‘‘
(صحیح البخاری: 3685)

ایک موقع پر فرمایا:

’’ابو بکر اور عمر اس امت میں ایسے ہیں جیسے موسیٰ و ہارون بنی اسرائیل میں تھے۔‘‘
(مسند احمد: 1/148)

➐ امت کا اجماعی اعترافِ فضل

ائمۂ اسلام متفق ہیں کہ:

◈ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل
◈ سب سے عادل حکمران
◈ سب سے دانشمند امام
◈ سب سے طاقتور اور باوقار قائد

— سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’لوگ دین میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے محتاج رہے۔‘‘

➑ فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ جب تک عمر زندہ ہیں فتنوں کا دروازہ بند ہے۔
جب آپ کی شہادت ہوئی تو وہ دروازہ ٹوٹ گیا، اور امت پر فتنوں کا زمانہ آنے لگا۔
(صحیح البخاری: 7096)

➒ شہادت — فضیلت کی معراج

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:

((مَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الشَّہَادَۃَ… بَلَّغَہُ اللّٰہُ مَنَازِلَ الشُّہَدَاءِ))
’’جو سچے دل سے شہادت مانگے، اللہ اسے شہداء کے درجات تک پہنچا دیتا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم: 1909)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہادت کی دعا کیا کرتے تھے:

’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر، اور اپنے نبی ﷺ کے شہر میں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے دونوں دعائیں قبول فرمائیں۔

➓ امت کے دلوں میں ہمیشہ زندہ

عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت صرف ایک خلیفہ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ:

✔ عدل
✔ تقویٰ
✔ حکمت
✔ بہادری
✔ شجاعت
✔ سیاست
✔ انتظامی بصیرت

— ہر میدان میں ان کا کردار وہ معیار بن گیا ہے جس سے تاریخ کے تمام حکمرانوں کو پرکھا جاتا ہے۔

نتیجہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہ مثالی قائد ہیں جن کے کردار سے ہر مسلمان، ہر داعی، ہر عالم اور ہر حکمران کو رہنمائی ملتی ہے۔
ان کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ:

◈ اللہ کا خوف حکمرانی کی بنیاد ہے
◈ عدل کے بغیر ریاست قائم نہیں رہ سکتی
◈ دین کی پیروی سے طاقت ملتی ہے
◈ سنتِ رسول ﷺ ہی کامیابی کا راستہ ہے

اللہ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔