سوال:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ افضل ہیں یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ؟
جواب:
اہل سنت والجماعت کے نزدیک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں، بے شک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ومناقب ہیں، آپ سابقین اولین میں سے ہیں، چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 40ھ میں ہوئی، اس وقت روئے زمین پر آپ رضی اللہ عنہ ہی افضل ترین تھے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نخير بين الناس فى زمن النبى صلى الله عليه وسلم فنخير أبا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضي الله عنهم
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہم صحابہ کے مابین افضلیت کی بات کرتے تھے، ہم (صحابہ میں) سب سے افضل اور بہتر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو، اس کے بعد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو افضل اور بہتر قرار دیتے تھے۔
(صحيح البخاري: 3655)
❀ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اپنے والد گرامی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
أى الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، وخشيت أن يقول: عثمان، قلت: ثم أنت؟ قال: ما أنا إلا رجل من المسلمين
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین ہستی کون ہے؟ فرمایا: ابو بکر رضی اللہ عنہ، عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ، پھر اس ڈر سے کہ مزید پوچھا، تو آپ عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے، میں نے کہا: ابا جان! پھر تو آپ ہیں نا؟ فرمایا: میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔
(صحيح البخاري: 3671، سنن أبي داود: 4629، مصنف ابن أبي شيبة: 473/7، السنة لابن أبي عاصم: 1204، 1206، الشريعة للآجري: 1866، 1869، الاعتقاد للبيهقي: 517، واللفظ له، وسنده صحيح)
❀ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منسوب کتاب میں ہے:
أفضل الناس بعد النبيين عليهم الصلاة والسلام أبو بكر الصديق ثم عمر بن الخطاب الفاروق ثم عثمان بن عفان ذو النورين ثم على بن أبى طالب المرتضى رضوان الله عليهم أجمعين
انبیاء علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر بن خطاب فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اس کے بعد سیدنا ذوالنورین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں، اس کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
(الفقه الأكبر: 41)
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (233ھ) فرماتے ہیں:
خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر ثم عثمان ثم علي، هذا قولنا وهذا مذهبنا
اس امت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ، پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ، پھر علی رضی اللہ عنہ ہیں، یہی ہمارا مسلک اور یہی ہمارا مذہب ہے۔
(تاريخ يحيى بن معين: 1620)
❀ امام ابو بکر ابن ابی عاصم رحمہ اللہ (287ھ) اہل سنت کا متفقہ عقیدہ بیان کرتے ہیں:
أبو بكر الصديق أفضل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بعده، وهو الخليفة خلافة النبوة، بويع يوم بويع وهو أفضلهم وهو أحقهم بها، ثم عمر بن الخطاب بعده على مثل ذلك، ثم عثمان بن عفان بعده على مثل ذلك، ثم على بن أبى طالب بعده على مثل ذلك، رحمة الله عليهم جميعا
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے افضل ہیں، ان کی خلافت علیٰ منہاج النبوة ہے، جس دن ان کی بیعت کی گئی، اس دن وہ ہی سب سے زیادہ خلافت کے حق دار تھے، پھر ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ افضل ہیں، ان کی خلافت بھی علیٰ منہاج النبوة تھی، ان کے بعد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ افضل ہیں، ان کی خلافت بھی علیٰ منہاج النبوة تھی، ان کے بعد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ افضل ہیں، ان کی خلافت بھی علیٰ منہاج النبوة تھی، سب پر اللہ کی رحمت ہو۔
(السنة: 645/2)