مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو بندوں کے برابر قرار کیوں دیا گیا؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو بندوں کے برابر قرار کیوں دیا گیا؟

جواب:

سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی گواہی دو بندوں کے برابر ہے، اس کا سبب عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا جو کہ صحابی ہیں، سے بیان کرتے ہیں:
إن النبى صلى الله عليه وسلم ابتاع فرسا من أعرابي، فاستتبعه النبى صلى الله عليه وسلم ليقضيه ثمن فرسه، فأسرع رسول الله صلى الله عليه وسلم المشي وأبطأ الأعرابي، فطفق رجال يعترضون الأعرابي، فيساومونه بالفرس ولا يشعرون أن النبى صلى الله عليه وسلم ابتاعه، فنادى الأعرابي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن كنت مبتاعا هذا الفرس وإلا بعته؟ فقام النبى صلى الله عليه وسلم حين سمع نداء الأعرابي، فقال: أو ليس قد ابتعته منك؟ فقال الأعرابي: لا، والله ما بعتكه، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: بلى، قد ابتعته منك، فطفق الأعرابي يقول: هلم شهيدا، فقال خزيمة بن ثابت: أنا أشهد أنك قد بايعته، فأقبل النبى صلى الله عليه وسلم على خزيمة فقال: بم تشهد؟، فقال: بتصديقك يا رسول الله، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادة خزيمة بشهادة رجلين
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے ساتھ لے آئے تا کہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، بعض لوگوں نے گھوڑے کی قیمت اس سے زیادہ لگائی، جس قیمت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدا تھا، تو دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں، تو خرید لیجیے، ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں نے آپ سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے یہ آپ کو فروخت نہیں کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں یہ آپ سے خرید چکا ہوں، پھر دیہاتی کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجیے، تو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم یہ گھوڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: آپ کیسے گواہی دے رہے ہیں؟ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی وجہ سے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر قرار دے دی۔
(سنن أبي داود: 3607، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/18) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
صحیح بخاری (2807) میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو بندوں کے برابر قرار دیا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔