سیدنا جابر بن سمرہؓ کی حدیث اور تشہد میں اشارے سے سلام

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اور تشہد میں اشارے سے سلام

تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمھیں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھتا ہوں جیسا کہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ نماز میں سکون اختیار کرو! پھر آپ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ہم مختلف حلقوں میں بکھرے ہوئے ہیں تو آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمھیں جدا جدا دیکھ رہا ہوں؟ پھر آپ دوبارہ تشریف لائے تو فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صفیں بناتے ہیں؟ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: وہ( فرشتے) پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔
عبید اللہ بن القبطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (سیدنا) جابر بن سمرہ (رضی اللہ عنہ )نے فرمایا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم «السلام علیکم ورحمۃ اللہ» ،«السلام علیکم ورحمۃ اللہ» کہتے، اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے دائیں اور بائیں طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہاتھوں سے کیا اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ تم میں سے ہر آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ اپنی ران پر ہاتھ رکھے پھر دائیں اور بائیں طرف اپنے بھائی پر سلام کہہ دے۔
ابن القبطیہ رحمہ اللہ سے ہی روایت ہے کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (یعنی آپ کے پیچھے) نماز پڑھی تو ہم سلام کے وقت اپنے ہاتھوں کے ساتھ «السلام علیکم» «السلام علیکم» کہتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: تمھیں کیا ہوا ہے کہ تم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ جب تم میں سے کوئی شخص سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف چہرہ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔ (صحیح مسلم ج 1 ص 181 ح 430، 431 ترقیم دارالسلام: 971-968)
تمیم بن طرفہ کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمھیں جدا جدا دیکھ رہا ہوں؟ اور وہ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔ (مسند احمد ج 5 ص 93 ح 20874 وسندہ صحیح، الموسوعة الحدیثیة ج 34 ص 446)
ایک ہی صحابی سے دونوں شاگردوں (تمیم بن طرفہ اور عبید اللہ بن القبطیہ) کی روایت ایک ہی حدیث ہے اور اس سے ترک رفع یدین کا مسئلہ کشید کرنا کئی وجہ سے غلط ہے۔ مثلاً:
➊ زمانہ تدوین حدیث میں محدثین کرام میں سے کسی ایک محدث نے بھی اس حدیث کو ترک رفع یدین کے استدلال میں نقل نہیں کیا اور ان کے مقابلے میں بعض فقہائے اہل الرائے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
➋ محدثین کرام نے اس حدیث کو تشہد کے وقت سلام کے بارے میں ذکر کیا ہے۔
مثلاً:
◈ امام شافعی رحمہ اللہ (کتاب الام ج 1 ص 122) ”باب السلام فى الصلوة“
◈ ابو داود رحمہ اللہ (سنن ابی داود قبل ح 998، 999) ”باب فى السلام“
◈ نسائی رحمہ اللہ (المجتبی قبل ح 1185) ”باب السلام بالأيدي فى الصلوة“
(المجتبی قبل ح 1319) ”باب موضع اليدين عند السلام“
(المجتبی قبل ح 1327)” باب السلام باليدين“
(السنن الكبرى للنسائی 353/1 قبل ح 1107) ”السلام بالأيدي فى الصلوة“
(السنن الكبرى 1394/1 قبل ح 1249)” السلام باليدين“
◈ ابن خزیمہ رحمہ اللہ (صحیح ابن خزیمہ361/1 قبل ح 733) ”باب الزجر عن الإشارة باليد يمينا وشمالا عند السلام من الصلوة“
(صحیح ابن خزیمہ 103/3 قبل ح 1708) ”باب نية المصلي بالسلام من عن يمينه إذا سلم عن يمينه ومن عن شماله إذا سلم عن يساره“
◈ عبد الرزاق رحمہ اللہ (مصنف عبد الرزاق 220/2 ح 3135)” باب التسليم“
◈ ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق رحمہ اللہ (مسند ابی عوانہ 2/238-240 قبل ح 1626)
بيان الدليل على أن التسليمة الواحدة غير كافية فى جماعة من تسليم التشهد حتى يسلم تسليمتين … إلخ
◈ بیہقی (السنن الكبرى 181/2)” باب كراهة الإيماء باليد عند التسليم من الصلاة“
◈ بغوی (شرح السنة 206/3 قبل 696) ”باب التسليم فى الصلاة“
◈ ابو نعیم الاصبہانی (المسند المستخرج علی صحیح الامام مسلم 54/2ح 962) ” باب الكراهية أن يضرب الرجل بيديه عن يمينه وعن شماله فى الصلاة“
◈ عبد الحق الاشبیلی (الاحکام الشرعیة الكبرى 283/2، مکتبہ شاملہ) باب كيفية السلام من الصلاة وكم يسلم؟
ان کے علاوہ بعض حنفی حضرات نے بھی اس حدیث پر اسی قسم کے ابواب باندھے ہیں۔ مثلاً:
◈ طحاوی (شرح معانی الآثار 1/268-269) باب السلام فى الصلاة كيف هو؟
◈ ابن فرقد شیبانی (کتاب الحجد ج1ص 145، إن صح سند الكتاب إليه) باب التشهد والسلام والصلاة على النبى صلی اللہ علیہ وسلم
➌ محدثین کرام اور علمائے عظام نے صراحت کی ہے کہ اس حدیث کا تعلق رفع یدین کے ساتھ نہیں بلکہ تشہد کے وقت سلام سے ہے۔ مثلاً:
① امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ (متوفی 256ھ) نے فرمایا:
فإنما كان هذا فى التشهد لا فى القيام، كان يسلم بعضهم على بعض صلى الله فنهى النبى صلی اللہ علیہ وسلم عن رفع الأيدي فى التشهد ولا يحتج بهذا من له حظ من العلم، هذا معروف مشهور لا اختلاف فيه
یہ روایت تو صرف تشہد کے بارے میں ہے، قیام کے بارے میں نہیں ہے۔ بعض لوگ (نماز میں) دوسرے لوگوں کو (ہاتھوں کے اشارے سے) سلام کہتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد میں ہاتھ اٹھانے سے منع فرما دیا۔ جس کے پاس علم کا تھوڑا سا بھی حصہ ہے، وہ اس روایت سے (ترک رفع یدین پر) حجت نہیں پکڑتا۔ یہ بات (تمام علمائے حدیث میں) مشہور ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (جزء رفع الیدین: 37 ص 61-62)
② اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حبان نے اپنی تبویب کے ذریعے سے فرمایا:
بأن القوم إنما أمروا بالسكون فى الصلوة عند الإشارة بالتسليم دون رفع اليدين عند الركوع
یہ کہ لوگوں کو تو نماز میں رکوع کے رفع یدین (سے منع) کے بجائے سلام کے اشارے کے وقت سکون کا حکم دیا گیا تھا۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان 199/5 قبل ح 1877، دوسرا نسخه ح 1880)
③ حافظ ابن عبدالبر اندلسی (متوفی 463ھ) نے فرمایا:
وقد احتج بعض المتأخرين للكوفيين ومن ذهب مذهبهم فى رفع اليدين بما حدثنا … وهذا لا حجة فيه لأن الذى نهاهم عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم غير الذى كان يفعله لأنه محال أن ينهاهم عما سن لهم وإنما رأى أقواما يعبثون بأيديهم ويرفعونها فى غير مواضع الرفع فنها هم عن ذلك.
بعض متاخرین نے کوفیوں اور رفع یدین کے بارے میں ان کے ہم مذہب لوگوں کے لیے اس حدیث سے حجت پکڑی ہے جو ہمیں بیان کی … (پھر انھوں نے سیدنا جابر بن سمرہ والی حدیث بسند تمیم بن طرفہ ذکر کی اور فرمایا:) اور اس میں (ان کے لیے) کوئی حجت (دلیل) نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو انھیں اس فعل سے روکا ہے جو آپ خود نہیں کرتے تھے، کیونکہ یہ محال ہے کہ آپ انھیں اس فعل سے منع کرتے جسے آپ نے ان کے لیے خود جاری فرمایا تھا، اور آپ نے (بعض) لوگوں کو ہاتھوں کے ساتھ عبث (فضول) کام کرتے ہوئے دیکھا اور رفع یدین کے بغیر دوسرے مقامات پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا تو انھیں اس سے منع فرما دیا۔ (التمهيد لمافی الموطاً من المعاني والاسانید 221/9)
④ علامہ نووی نے کہا:
وأما حديث جابر بن سمرة فاحتجاجهم به من أعجب الأشياء وأقبح أنواع الجهالة بالسنة لأن الحديث لم يرد فى رفع الأيدي فى الركوع والرفع منه ولكنهم كانوا يرفعون أيديهم فى حالة السلام من الصلاة ويشيرون بها إلى الجانبين يريدون بذلك السلام على من عن الجانبين، وهذا لا خلاف فيه بين أهل الحديث ومن له أدنى اختلاط بأهل الحديث
رہی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث تو ان (لوگوں) کا اس سے حجت پکڑنا بہت عجیب چیزوں میں سے ہے اور سنت سے جہالت کی اقسام میں سے بدترین قسم ہے، کیونکہ یہ حدیث رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے بارے میں وارد (اور متعلق) نہیں لیکن وہ (ممانعت سے پہلے صحابہ) نماز میں حالتِ سلام کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے اور دونوں طرف ان کے ساتھ اشارے کرتے تھے، اس طرح سے وہ دونوں طرف اپنے قریبی ساتھیوں کو سلام کہنے کا ارادہ کرتے تھے اور اس میں محدثین اور جس کا اہلِ حدیث (محدثین) سے معمولی تعلق ہو، کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (المجموع شرح المہذب ج 3 ص 403)
⑤ ابن سید الناس الیعمری (متوفی 734ھ) نے فرمایا:
وأما حديث جابر بن سمرة فلا تعلق له برفع اليدين فى التكبير ولكنه ذكر للرد على قوم كانوا يرفعون أيديهم فى حالة السلام من الصلوة ويشيرون بها إلى الجانبين مسلمين على من حولهم فنهوا عن ذلك ….
اور رہی حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ تو اس کا تکبیر کے وقت رفع یدین سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اسے ان لوگوں کے رد میں ذکر کیا گیا ہے جو نماز میں حالت سلام کے وقت اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے اور دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کرتے تھے، لہذا انھیں اس سے منع کر دیا گیا۔ (النفخ الشذى شرح جامع الترمذی ج 4 ص 398)
⑥ حافظ ابن الملقن (متوفی 804ھ) نے کہا:
من أقبح الجهالات لسنة سيدنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لأنه لم يرد فى رفع الأيدي فى الركوع والرفع منه وإنما كانوا يرفعون أيديهم فى حالة السلام من الصلوة… وهذا لا (اختلاف) فيه بين أهل الحديث ومن له أدنى اختلاط بأهله
اس حدیث سے استدلال انتہائی بُری جہالت ہے جسے سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ روا رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ حدیث رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے بارے میں وارد نہیں ہوئی۔ وہ تو نماز کی حالت سلام میں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے … اس میں اہل حدیث (محدثین) کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور جس شخص کا حدیث کے ساتھ ذرہ برابر تعلق ہے وہ بھی تسلیم کرتا ہے (کہ اسے رفع یدین قبل الرکوع وبعدہ کے خلاف پیش کرنا غلط ہے۔) [البدر المنير ج 3 ص 485]
⑦ حافظ ابن حجر العسقلانی نے کہا:
ولا دليل فيه على منع الرفع على الهيئة المخصوصة فى الموضع المخصوص وهو الركوع والرفع منه، لأنه مختصر من حديث طويل
مخصوص مقام پر مخصوص حالت میں رفع یدین یعنی رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی ممانعت کی اس حدیث میں کوئی دلیل نہیں، کیونکہ یہ طویل حدیث سے مختصر ہے۔ (تلخیص الحبیر ج 1 ص 221 تحت ح 328)
⑧ علی بن ابی العز الحنفی (متوفی 792ھ) نے فرمایا:
وما استدل به من حديث جابر بن سمرة رضى الله عنه لا يقوي وأيضا فلا نسلم أن الأمر بالسكون فى الصلوة بنا فى الرفع عند الركوع والرفع منه لأن الأمر بالسكون ليس المراد منه ترك الحركة فى الصلوة مطلقا بل الحركة المنافية للصلاة بدليل شرع الحركة للركوع والسجود ورفع اليدين عند تكبيرة الافتتاح وتكبيرة القنوت وتكبيرات العيدين فإن قيل: خرج ذلك بدليل، قيل: وكذلك خرج الرفع عند الركوع والرفع منه بدليل فعلم أن المراد منه الإشارة بالسلام باليد والله أعلم
اور (سیدنا) جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو استدلال کیا گیا ہے۔ قوی نہیں ہے.. اور ہم یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ نماز میں سکون کے حکم سے رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی نفی ہوتی ہے، کیونکہ سکون کے حکم سے نماز میں حرکت کا قطعاً ترک کر دینا مراد نہیں بلکہ نماز کے مخالف حرکت سے منع مراد ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رکوع اور سجود کے لیے حرکت مشروع (بلکہ ضروری) ہے، تکبیر افتتاح، تکبیر قنوت اور تکبیرات عیدین میں رفع یدین( کیا جاتا) ہے، پھر اگر کہا جائے کہ یہ چیزیں دلیل سے (اس حدیث کے مزعوم استدلال سے) خارج ہیں تو کہا جائے گا: اس طرح رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین اس (حدیث کے مزعوم استدلال) سے خارج ہے، پس معلوم ہو گیا کہ اس سے مراد سلام کے وقت ہاتھ سے اشارہ ہے۔ واللہ اعلم (التنبه على مشكلات الهدایہ ج 2 ص 570-571)
⑨ ابن الجوزی (متوفی 597ھ) نے فرمایا:
وقد احتج بعض أصحاب أبى حنيفة بهذا الحديث فى منعهم رفع اليدين فى الركوع وعند الرفع منه وليس لهم فيه حجة لأنه قد روي مفسرا بعد حديثين
بعض اصحاب ابی حنیفہ (یعنی بعض حنفیہ) نے اس حدیث کے ساتھ رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کی ممانعت کی دلیل پکڑی ہے اور اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ ان دو حدیثوں کے بعد (صحیح مسلم میں) مفسر (تفصیل سے) مروی ہے۔ (المشكل من حديث الصحيحين لابن الجوزي 1/295 ح429، المكتبة الشاملة)
⑩ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنے کے بعد اس کی شرح میں فرمایا:
وأحق الناس باتباع هذا: هم أهل الحديث. من ظن أن نهيه عن رفع الأيدي هو النهي عن رفعها إلى منكبه حين الركوع وحين الرفع منه وحمله على ذلك فقد غلط
اور لوگوں میں اس حدیث سے ثابت شدہ باتوں کی اتباع کے سب سے زیادہ حقدار اہل حدیث (محدثین اور حدیث پر عمل کرنے والے یعنی محدثین کے عوام) ہیں۔ اور جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اس (حدیث) میں ہاتھ اٹھانے کی ممانعت سے مراد رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین ہے اور وہ اسے اس پر محمول کرتا ہے تو اس شخص نے غلطی کی ہے۔ (القواعد النورانیہ الفقہیہ لابن تیمیہ ج 1ص 47، مجموع فتاوی ج 22 ص 561، جلاء العينين لشيخنا ابی محمد بدیع الدین شاہ الراشدی السندھی رحمہ اللہ نقله من القواعد النورانیه ص 48)
اس کے بعد ابن تیمیہ نے بتایا کہ سرکش گھوڑا تو دائیں اور بائیں طرف دُم ہلاتا ہے اور یہ ایسی حرکت ہوتی ہے جس میں سکون نہیں ہوتا۔ رہا رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کا مسئلہ تو اس کے مشروع (شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلاة والسلام میں ثابت) ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے، لہذا اس حدیث سے وہ کیسے ممنوع ہو سکتا ہے؟ (مجموع فتاوی ج 22 ص 562)
⋆ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (متوفی 656ھ) نے اس حدیث کی شرح میں کہا:
كانوا يشيرون عند السلام من الصلاة بأيديهم يمينا وشمالا وتشبيه أيديهم بأذناب الخيل الشمس تشبيه واقع، فإنها تحرك أذنابها يمينا وشمالا. فلما رأهم على تلك الحالة أمرهم بالسكون فى الصلاة وهذا دليل على أبى حنيفة فى أن حكم الصلاة باق على المصلي إلى أن يسلم، ويلزم منه: أنه إن أحدث فى تلك الحالة – أعني فى حالة الجلوس الأخير للسلام ـ أعاد الصلاة
وہ نماز میں سلام کے وقت اپنے ہاتھوں کے ساتھ دائیں اور بائیں طرف اشارے کرتے تھے اور ان کے ہاتھوں کو سرکش گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دینا حقیقت (یعنی صحیح) ہے، کیونکہ وہ (سرکش گھوڑے) اپنی دموں کو دائیں اور بائیں طرف حرکت دیتے ہیں، پس جب آپ نے انھیں اس حالت میں دیکھا تو نماز میں سکون کرنے کا حکم دیا اور یہ ابوحنیفہ کے خلاف دلیل ہے کہ نمازی پر سلام پھیر لینے تک نماز کا حکم باقی رہتا ہے، اور اس حدیث سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اگر اس حالت یعنی سلام والے آخری تشہد میں وضو ٹوٹ جائے تو نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی۔ (المفهم لما اشكل من تلخیص کتاب مسلم ج 2 ص 61 تحت ح 340-341)
➍ بہت سے حنفی اور حنفی کی طرف منسوب فرقوں کے علماء نے بھی اپنے قول یا فعل سے یہ صراحت کی ہے کہ اس حدیث کا تعلق رکوع والے رفع یدین سے نہیں بلکہ تشہد کے وقت سلام سے ہے۔ مثلاً:
① علی بن علی بن ابی العز الحنفی رحمہ اللہ کا قول فقرہ نمبر 3 کی شق نمبر 8 کے تحت گزر چکا ہے۔
② ابوالحسن محمد بن عبد الہادی السندھی (متوفی 1138ھ) نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی شرح میں کہا:
وبهذه الرواية تبين أن الحديث مسوق للنهي عن رفع الأيدي عند السلام اشارة إلى الجانبين ولا دلالة فيه على النهي عن الرفع عند الركوع وعند الرفع منه
اور اس روایت سے واضح ہو گیا کہ یہ حدیث سلام کے وقت ہاتھ اٹھا کر دونوں طرف اشارہ کرنے سے ممانعت کے بارے میں بیان کی گئی ہے اور اس میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (حاشیۃ السندھی علی سنن النسائی ج 1ص 176، کتاب السھو)
③ محمود حسن دیوبندی نے کہا:
باقی اذناب خیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں۔ کیونکہ وہ سلام کے بارے میں ہے کہ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم بوقت سلام نماز میں اشارہ بالید بھی کرتے تھے۔ آپ نے منع فرما دیا۔ (تقاریر شیخ الہند ترتیب عبد الحفیظ بلیاوی ص 65)
اسی عبارت کا دوسرا حوالہ: الورد الشذی علی جامع الترمذی (جمع اصغر حسین دیوبندی ص 63)
④ اثر فعلی تھانوی دیوبندی نے کہا:
مسلم کی حدیث مالي اراكم رافعي ايديكم الخ میں مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس سے رفع یدین حالت سلام میں مراد ہے اور یہ حنفیہ کو زیادہ مفید ہے کیونکہ حالت سلام میں من وجہ داخل اور من وجہ خارج ہے … (ملفوظات حکیم الامت ج 26 ص 397، الکلام الحسن ج 2 ص 276)
تنبیہ: اس کے بعد یعقوب نانوتوی کا جو فلسفہ مذکور ہے، وہ صحیح اور متواتر احادیث کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
⑤ محمد تقی عثمانی دیوبندی نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں کہا:
لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے، کیونکہ ابن القبطیہ کی روایت میں سلام کے وقت کی جو تصریح موجود ہے اس کی موجودگی میں ظاہر اور متبادر یہی ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث رفع عند السلام ہی سے متعلق ہے، اور دونوں حدیثوں کو الگ الگ قرار دینا جب کہ دونوں کا راوی بھی ایک ہے اور متن بھی قریب قریب ہے بعد سے خالی نہیں، حقیقت یہی ہے کہ حدیث ایک ہی ہے، اور رفع عند السلام سے متعلق، ابن القبطیہ کا طریق مفصل ہے، اور دوسرا طریق مختصر و مجمل، لہذا دوسرے طریق کو پہلے طریق پر ہی محمول کرنا چاہئے، شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب نوراللہ نے اس حدیث کو حنفیہ کے دلائل میں ذکر نہیں کیا۔ (درس ترمذی ترتیب رشید اشرف سیفی دیوبندی ج 2 ص 36-37)
شاہ صاحب سے مراد انورشاہ کشمیری دیوبندی ہیں اور عبارتِ مذکورہ میں ان کی کتاب نیل الفرقدین کی طرف اشارہ ہے۔
⑥ مغلطائی حنفی نے کہا: وأما استدلال بعض الحنفية بحديث جابر بن سمرة من عند مسلم: مالى أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب شمس، فليس بصحيح لأنهم إنما كان ذلك حالة السلام فيما ذكره البخاري وغيره
اور رہا بعض حنفیہ کا صحیح مسلم سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال: مجھے کیا ہے کہ میں تمھیں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھتا ہوں جیسا کہ سرکش (گھوڑوں کی) دمیں ہیں، تو (یہ) صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ بات حالت سلام کے بارے میں ہے جیسا کہ بخاری وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ (شرح سنن ابن ماجہ لمغلطائی ج1ص 1474 شاملہ، تیسرا نسخہ 298/5 چوتھا نسخہ 1474/5)
شرح سنن ابن ماجہ لمغلطائی کا تیسرا نسخہ میری معلومات کے مطابق ادارۃ العلوم الاثریہ (فیصل آباد) کے کتب خانے میں موجود ہے اور مکتبہ ابن عباس سے 2008ء میں پہلی دفعہ (طبعہ اولیٰ) چھپا ہے۔ چوتھا نسخہ مکتبہ نزار مصطفی الباز (مکہ، ریاض) نے پہلی دفعہ 1999ء (1419ھ) میں کامل عویضہ کی تحقیق سے شائع کیا تھا۔
⑦ طحاوی حنفی نے اس حدیث کو ترک رفع یدین کے دلائل میں ذکر نہیں کیا۔ دیکھئے شرح معانی الآثار (222/1-228 باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا؟)
بلکہ نماز میں سلام والے باب میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے یہی مضمون فقرہ نمبر 2 شق نمبر 11
معلوم ہوا کہ طحاوی کے نزدیک اس حدیث کو ترک رفع یدین کے مسئلے میں پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔
⑧ محمد عابد بن احمد علی السندھی نے کہا: أما حديث: مالي أراكم رافعي أيديكم إلخ فلا يليق الاستدلال بهذا الحديث فى نفي الرفع فافهم
رہی حدیث: کیا ہے کہ میں تمھیں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھتا ہوں الخ تو اس حدیث کے ساتھ رفع یدین کی نفی پر استدلال مناسب نہیں ہے، لہذا اس بات کو سمجھ لیں۔(المواہب اللطیفہ بحوالہ مرعاة المفاتیح ج 3 ص 18، دوسرا نسخہ ج 2 ص 257)
محمد عابد سندھی کی حنفی ہونے کے لیے دیکھئے حدائق الحنفیہ (ص 490)
⑨ امیر علی حنفی نے کہا: أجمع المحدثون على هذا التأويل والسلام من تتمة الصلوة، نازع بعض الناس فيه فقال: بل هذا النهي عن رفع اليدين فى الصلاة عند الركوع والرفع منه … إلخ
اس تفسیر پر محدثین کا اجماع ہے اور سلام نماز کا اختتام ہے۔ بعض لوگوں نے اس میں نزاع (اختلاف) کیا اور کہا: بلکہ اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین سے منع کیا گیا ہے۔ الخ (حاشیہ صحیح مسلم طبع نولکشور لکھنؤ ج1 ص 182، بحوالہ مرعاة المفاتیح ج 3 ص 18، دوسرا نسخہ ج 2 ص 257)
بعض لوگوں نے امیر علی کے حنفی ہونے کا انکار کیا ہے، لیکن شیر محمد دیوبندی (مماتی) نے کہا:
حضرت مولانا سید امیر علی حنفی فرماتے ہیں کہ۔۔۔ (آئین تسکین الصددر ص 199، دوسرا نسخہ ص 206)
(محمد ادریس ظفر صاحب نے کہا:) محمد حسن قلندرانی بریلوی نے کہا:
” حضرت علامہ مولانا امیر علی حنفی رحمہ اللہ مترجم فتاوی عالمگیری اور مترجم تفسیر مواهب الرحمن“ (غائبانہ نماز جنازہ کی شرعی حیثیت ص 17)
⑩ رفع یدین کو منسوخ سمجھنے والے عابد الرحمن صدیقی کاندھلوی (تقلیدی) نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی شرح میں کہا: (فائدہ) یعنی سلام کے وقت ہاتھ اٹھانے کی حاجت نہیں۔ بندہ مترجم کہتا ہے کہ ان احادیث سے آج کل کے دستور کی بھی تردید ہوتی ہے۔ کہ جب ملاقات کے وقت سلام کرتے ہیں۔ تو ہاتھ ضرور اٹھاتے ہیں۔ (صحیح مسلم مترجم ج 1ص ص 204 مطبوعہ قرآن منزل مقابل مولوی مسافر خانہ، کراچی)
اس مضمون میں ذکر شدہ حوالوں کا خلاصہ درج ذیل ہے:
جن محدثین کرام اور علمائے حنفیہ نے اس حدیث کو سلام اور تشہد کے ابواب میں ذکر کیا ہے، ان کے نام درج ذیل ہیں:
شافعی، ابو داود، نسائی، ابن خزیمہ، عبدالرزاق، ابوعوانہ، بیہقی، بغوی، ابونعیم الاصبہانی، عبد الحق اشبیلی، طحاوی حنفی اور ابن فرقد شیبانی حنفی۔ دیکھئے فقرہ نمبر 2
درج ذیل محدثین کرام اور علمائے عظام نے یہ صراحت کی ہے کہ اس حدیث کا تعلق رفع یدین کے ساتھ نہیں بلکہ تشہد کے وقت سلام سے ہے:
بخاری، ابن حبان، ابن عبدالبر، نووی، ابن سید الناس، ابن الملقن، ابن حجر عسقلانی، علی بن ابی العز الحنفی، ابن الجوزی اور ابن تیمیہ۔ دیکھئے فقرہ نمبر 3
ابوالعباس احمد بن عمر القرطبی نے بھی اس حدیث کو تشہد والے سلام سے متعلق قرار دیا ہے۔
درج ذیل حنفی اور حنفی کی طرف منسوب علماء نے یہ صراحت کی ہے، یا ان کے کلام سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق سلام سے ہے اور رفع یدین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے:
علی بن ابی العز الحنفی، ابو الحسن محمد بن عبد الہادی السندھی، محمود حسن دیوبندی، محمد یعقوب نانوتوی، محمد تقی عثمانی، مغلطائی حنفی، طحاوی، محمد عابد سندھی، امیر علی حنفی اور عابد الرحمن صدیقی کاندھلوی تقلیدی۔ دیکھئے فقرہ نمبر 4
تیس سے زیادہ ان اہل حدیث اور غیر اہل حدیث جمہور علماء کے مقابلے میں قدوری (التجرید 519/2-520 فقره: 2223) زیلعی، عینی اور بعض متاخرین آل تقلید کا اس حدیث کو رفع یدین کے خلاف پیش کرنا غلط اور مردود ہے۔
➎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین قبل الرکوع وبعدہ کا ثبوت احادیث صحیحہ متواترہ سے ہے اور کسی ایک صحیح حدیث سے بھی یہ ثابت نہیں کہ آپ نے تشہد میں سلام کے وقت اپنے ہاتھوں سے دونوں طرف اشارہ کیا ہو اور نہ یہ ثابت ہے کہ آپ نے اپنے عمل کو شریر گھوڑوں کی دمیں ملنے سے تشبیہ دی ہے، لہذا جو لوگ ایسی تشبیہ دینے کی جرات کرتے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے مرتکب ہیں۔
➏ امام ابوحنیفہ سے یہ قطعاً ثابت نہیں کہ انھوں نے ترک رفع یدین کے مسئلے پر سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہو، لہذا ایسا استدلال کرنے والے امام ابو حنیفہ کے باغی اور مخالف ہیں۔
➐ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کی کسی سند میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کی صراحت نہیں، لہذا مفسر کے مقابلے میں غیر مفسر کو پیش کرنا غلط ہے۔
➑ بعض آل تقلید اس بات پر بضد ہیں کہ اس حدیث سے نماز میں ہر رفع یدین کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، تو عرض ہے کہ آپ جیسے لوگ تکبیر تحریمہ، تکبیر وتر اور تکبیرات عیدین میں کیوں رفع یدین کرتے ہیں؟
اگر ان مقامات پر رفع یدین کی تخصیص دلیل سے ثابت ہے تو پھر رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی تخصیص بھی یقینی اور قطعی صحیح دلائل سے ثابت ہے، لہذا آپ لوگ وہاں کیوں نہیں مانتے؟
➒ خیر القرون (300ھ تک) میں کسی ایک ثقہ و صدوق سنی عالم سے اس حدیث کے ساتھ ترک رفع یدین پر استدلال ثابت نہیں، لہذا خیر القرون کے اجماع کے مقابلے میں شر القرون والے بعض علماء اور بعض اہل تقلید کی کیا حیثیت ہے؟!
➓ سرکش گھوڑوں کی دم حالت سرکشی میں اوپر نیچے نہیں بلکہ دائیں بائیں ہلتی ہیں، جیسا کہ قرطبی اور ابن تیمیہ کی تشریح سے ثابت ہے اور اس بات کا مشاہدہ اب بھی سرکش گھوڑوں کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے، لہذا حدیث مذکور کو رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے خلاف پیش کرنا عقلاً بھی باطل ہے۔
⓫ مسند احمد میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے کہ وهم قعود اور وہ بیٹھے ہوتے تھے۔ (ج 5 ص 93 وسندہ صحیح)
رفع یدین حالت قیام میں رکوع سے پہلے اور بعد میں ہوتا ہے، حالت قعود (یعنی حالتِ تشہد) میں نہیں ہوتا، لہذا اس حدیث سے آل تقلید کا استدلال اصلاً باطل و مردود ہے۔
وما علينا إلا البلاغ
(21 ستمبر 2010ء)
تحریر: محترم مولانا محمد ادریس ظفر حفظہ اللہ

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

سیدنا جابر بن سمرہؓ کی حدیث اور تشہد میں اشارے سے سلام