سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور رفع یدین

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور رفع یدین

امام ابو طاہر محمد بن عبد الرحمن المخلص نے فرمایا:
حدثنا يحيى قال: حدثنا عمرو بن على قال: حدثنا ابن أبى عدي عن محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة أنه كان يرفع يديه فى كل خفض ورفع ويقول: أنا أشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوسلمہ (بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہر (رکوع کے لئے) جھکتے وقت اور ہر (رکوع سے )اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور فرماتے: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہوں۔ (المخلصیات 2/139 ح 1329، وسندہ حسن)
یحیی سے مراد امام یحیی بن محمد بن صاعد ہیں اور ان سے یہ روایت امام دار قطنی نے بھی کتاب العلل (283/9) میں بیان کی ہے۔
تنبیہ: بریکٹوں میں رکوع کا اضافہ جزء رفع الیدین للبخاری (ح 22) اور صحیح بخاری (736) وغیرہما کی احادیث صحیحہ کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے، نیز یاد رہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہی نماز تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز تھی۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے (سیدنا ) ابو ہریرہ( رضی اللہ عنہ) کے ساتھ نماز پڑھی ہے، وہ رفع یدین کرتے تھے جب تکبیر کہتے اور جب رکوع کرتے [اور جب رکوع سے اٹھتے] (دیکھیے جزء رفع الیدین: 22 وسندہ صحیح)
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور بریکٹ کے الفاظ دوسرے قلمی نسخے سے لئے گئے ہیں۔ (رفع یدین کے مسئلے پر تفصیل کے لئے دیکھیے: نور العینین فی اثبات مسئلہ رفع الیدین)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾