مضمون کے اہم نکات
➎
سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ اور نماز میں رفع یدین
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين و رضي الله عن أصحابه أجمعين و رحمة الله على التابعين و من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين . أما بعد:
اہل سنت یعنی اہل حدیث کا نماز میں رفع یدین کے بارے میں دعویٰ درج ذیل ہے:
سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز ، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے اور اس رفع یدین کا منسوخ یا ممنوع ہونا یا آخری عمر میں متروک ہونا کسی صحیح و مقبول حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
اس دعوے کی تائید میں بہت سے دلائل ہیں، جن میں سے بعض کا میری کتاب ” نور العينين فی اثبات مسئلہ رفع الیدین میں مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال فـعـلـيـكـم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين . کو مد نظر رکھتے ہوئے سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ ان کی بیان کردہ ایک عظیم الشان حدیث کا ترجمہ تحقیق اور مفہوم پیش خدمت ہے، جس سے رفع یدین کا مسلسل اور غیر منقطع عمل ہونا ثابت ہے:
مشہور عالم امام بیہقی رحمہ اللہ (متوفی 458ھ) نے فرمایا: أخبرنا أبو عبد الله الحافظ : ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الزاهد إملاء من أصل كتابه . قال قال أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي : صليت خلف أبى النعمان محمد بن الفضل فرفع يديه حين افتتح الصلوة و حين ركع و حين رفع رأسه من الركوع . فسألته عن ذلك فقال: صليت خلف حماد بن زيد فرفع يديه حين افتتح الصلوة و حين ركع و حين رفع رأسه من الركوع . فسألته عن ذلك فقال: صليت خلف أيوب السختياني فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع . فسألته فقال : رأيت عطاء بن أبى رباح يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع. فسألته فقال : صليت خلف عبد الله بن الزبير فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة و إذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع. فسألته فقال عبد الله بن الزبير : صليت خلف أبى بكر الصديق رضى الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع . وقال أبو بكر : صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة و إذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع رواته ثقات
ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر (حدیث) بیان کی۔ (کہا: ) ہمیں ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الصفار الزاہد نے اپنی اصل کتاب سے املاء کراتے ہوئے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا: ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل السلمی نے فرمایا: میں نے ابوالنعمان محمد بن الفضل کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے رفع یدین کیا جب نماز شروع کی اور جب رکوع کیا اور جب رکوع سے سر اُٹھایا، پھر میں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے حماد بن زید کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے رفع یدین کیا جب نماز شروع کی اور جب رکوع کیا اور جب رکوع سے سر اُٹھایا، پھر میں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے ایوب السختیانی کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ رفع یدین کرتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ پھر میں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے عطاء بن ابی رباح کو دیکھا ، وہ رفع یدین کرتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے ، پھر میں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ رفع یدین کرتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اُٹھاتے ۔ میں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھا تو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ رفع یدین کرتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے۔
اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ رفع یدین کرتے تھے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (السنن الکبری للبیہقی 2/73)
حافظ ذہبی نے فرمایا: رواته ثقات اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (المهذب في اختصار السنن الكبير 2 / 49 ح1943، دوسرا نسخہ 522/1 ح 2257)
حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا: و رجاله ثقات اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔(التلخيص الحبير ج 1 ص 219 ح 328)
عرض ہے کہ اس حدیث کی سند اُصولِ حدیث اور اسماء الرجال کی رُو سے بالکل صحیح ہے۔ اس حدیث کے تمام راویوں کے مختصر اور جامع حالات درج ذیل ہیں:
① امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ:
( متوفی 458ھ)
اُن کے ثقہ و صدوق ہونے پر اجماع ہے اور ان کے بارے میں محدثین کرام کی دس گواہیاں پیش خدمت ہیں:
➊ حافظ ابوالحسن عبد الغافر بن اسماعیل الفارسی (متوفی 529ھ) نے فرمایا:
الإمام الحافظ الفقيه الأصولي الدين الورع ، واحد زمانه فى الحفظ و فرد أقرانه فى الإتقان والضبط . امام حافظ فقیہ اُصولی دیندار پرہیز گار، حفظ میں یکتائے روزگار اور اپنے زمانے میں ضبط واتقان ( ثقاہت ) میں یکہ و تنہا تھے۔
(الحلقة الاولی من تاریخ نیسابور، المنتخب من السياق ص127 ت 231)
➋ ابن الجوزی (متوفی 597ھ) نے کہا : و كان واحد زمانه فى الحفظ والإتقان ، حسن التصنيف وہ اپنے زمانے میں حافظے اور اتقان ( ثقہ ومتقن ہونے ) میں اکیلے تھے، اچھی کتابیں لکھنے والے تھے۔ (المنتظم ج6 ص 97 وفیات 458ھ )
➌ ابوالقاسم زاہر بن طاہر بن محمد الشحامی (متوفی 533ھ) نے فرمایا:
الشيخ الإمام الحافظ أبو بكر أحمد بن الحسين بن على البيهقي رحمه الله (السنن الکبری کا مقدمہ ج 1ص 2)
➍ ابوسعد عبد الکریم بن محمد بن منصور السمعانی (متوفی 562 ھ ) نے کہا:
كان إماما فقيها حافظا جمع بين معرفة الحديث و فقهه و كان تتبع نصوص الشافعي و جمع كتابا فيها
وہ امام فقیہ حافظ تھے، انھوں نے معرفت حدیث اور فقہ الحدیث جمع کر لی اور شافعی کے اقوال اکٹھے کر کے ان میں ایک کتاب لکھی تھی … (الانساب 438/1 بیہق)
➎ ابن نقطہ بغدادی (متوفی 629 ھ ) نے کہا: ”الحافظ الإمام “ حافظ امام ۔ ( التنقید ج 1ص 147، ترجمه 157)
➏ یاقوت الحموی (متوفی 626 ھ ) نے کہا: و هو الإمام الحافظ الفقيه فى أصول الدين ، الورع ، أوحد الدهر فى الحفظ و الإتقان مع الدين المتين اور وہ امام حافظ، اصول دین میں فقیہ، پرہیزگار، مضبوط دینداری کے ساتھ اپنے زمانے میں حافظ اور ثقہ ہونے میں اکیلے (یعنی بے مثال ) تھے۔ ( معجم البلدان ج 1 ص 538 ، بیہق)
➐ مورخ ابن خلکان (متوفی 681 ھ ) نے کہا : الفقيه الشافعي الحافظ الكبير المشهور ، واحد زمانه و فرد أقرانه فى الفنون فقیہ شافعی حافظ کبیر مشہور ، اپنے زمانے میں اکیلے اور فنون میں اپنے ساتھیوں پر مقدم تھے۔ (وفیات الاعیان 75/1)
تنبیہ: شافعی کا مطلب مقلد ہونا نہیں ہے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ان شاء اللہ
➑ حافظ ذہبی نے فرمایا: هو الحافظ العلامة الثبت الفقيه ، شيخ الإسلام وہ حافظ علامہ ثقہ فقیہ، شیخ الاسلام ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء 163/18)
➒ حافظ ابن کثیر (متوفی 774 ھ) نے فرمایا: وكان واحد زمانه فى الإتقان والحفظ و التصنيف ، فقيها محدثا أصوليا وہ ثقاہت، حفظ اور تصنیف میں اپنے زمانے میں یکہ و تنہا تھے، فقیہ محدث (اور ) اُصولی تھے۔ (البدایہ والنہایہ نسخہ محققه 165/13، وفیات 458ھ)
➓ حافظ ابن ناصر الدین الدمشقی رحمہ اللہ نے فرمایا: كان واحد زمانه و فرد أقرانه حفظا و اتقانا وثقة و عمدة وهو شيخ خراسان … وہ اپنے زمانے میں یکہ و تنہا اور حفظ، اتقان، ثقہ اور قابل اعتماد ہونے میں اپنے ساتھیوں میں اکیلے (بے مثال ) تھے اور وہ خراسان کے شیخ ہیں ۔ (شذرات الذہب ج 3 ص 304-305)
امام بیہقی پر روایت حدیث میں کسی قسم کی کوئی جرح نہیں، لہذا اُن کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے۔
اگر کوئی کہے کہ امام بیہقی تو امام شافعی کے مقلد تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام بیہقی امام شافعی کے مقلد نہیں تھے اور اس کی دس (10) دلیلیں پیش خدمت ہیں:
➊ امام بیہقی نے قاضی کے بارے میں لکھا ہے: فإنه غير جائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره پس بے شک اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے زمانے والوں میں سے کسی ایک کی تقلید کرے… (السنن الکبری ج 10 ص 113)
جب قاضی کے لئے اپنے زمانے کے علماء کی تقلید ناجائز ہے تو سابقہ زمانے والے علماء کی تقلید بدرجہ اولی نا جائز ہے اور یہ معلوم ہے کہ امام بیہقی قاضی کے درجے سے افضل تھے۔
➋ امام بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ نقل کیا کہ لا تقلدوا دينكم الرجال … اور اپنے دین میں مردوں کی تقلید نہ کرو… (السنن الکبری ج 2 ص 10، میری کتاب: دین میں تقلید کا مسئلہ ص 35)
اس فتوے کی مخالفت امام بیہقی سے اُن کی کسی کتاب میں ثابت نہیں ہے، لہذا یہ ہوہی نہیں سکتا کہ اس حکماً مرفوع حدیث کے مقابلے میں وہ تقلید کرتے ہوں گے۔
➌ امام بیہقی نے سید نا عمر رضی اللہ عنہ کا حکم حسن لذاتہ سند کے ساتھ نقل کیا کہ کتاب اللہ کے مقابلے میں لوگوں کی طرف التفات نہ کرو۔ (السنن الکبری 115/10)
بیہقی سے اس فاروقی فتوے کی مخالفت ثابت نہیں ہے۔
➍ امام بیہقی بہت بڑے عالم تھے اور عالم کا مقلد ہونا محال ہے، کیونکہ مقلد تو جاہل ہوتا ہے۔ سرفراز خان دیوبندی نے لکھا ہے:
”اور تقلید جاہل ہی کیلئے ہے“ (الکلام المفید فی اثبات التقلید ص 234)
➎ امام بیہقی سے یہ قطعاً ثابت نہیں کہ انھوں نے فرمایا ہو : ” میں مقلد ہوں“
➏ امام بیہقی کے کسی شاگرد سے ان کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہے کہ میرے استاذ مقلد تھے۔
➐ کسی عالم کو شافعی قرار دینا اُس کے مقلد ہونے کی دلیل نہیں ہے، مثلاً ابوبکر القفال الشافعی ، ابو علی الشافعی اور قاضی حسین الشافعی سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: لسنا مقلدين للشافعي، بل وافق رأينا رأيه ہم شافعی کے مقلد نہیں ہیں بلکہ ہماری رائے اُن کی رائے کے موافق ہوگئی ہے۔ ( تقریرات الرافعی اسراء، التقرير والتخمیر 453/3، دین میں تقلید کا مسئلہ ص 46)
➑ امام بیہقی نے فرمایا کہ میں نے ہر ایک کے اقوال کو کتاب وسنت اور آثار پر پیش کیا ہے پھر (امام) شافعی کو اتباع ( یعنی اتباع کتاب وسنت ) میں سب سے زیادہ پایا ہے … (معرفة السنن والآثار ج 1 ص 125-126 مخطوط 28 – 29)
معلوم ہوا کہ بیہقی نے شافعی کے اقوال کو اپنے اجتہاد کے ساتھ ترجیح دی۔
➒ امام بیہقی نے امام ابن ابی حاتم کی کتاب آداب الشافعی و مناقبہ سے امام شافعی کا قول نقل کیا: و لا تقلدوني اور میری تقلید نہ کرو۔ (مناقب الشافعی للبیہقی ج 1 ص 473)
یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ اس قول کے باوجود امام بیہقی تقلید کرتے ؟!
➓ تقلید کی بدعت چوتھی صدی ہجری میں شروع ہوئی ۔ دیکھئے اعلام الموقعین لابن القیم (208/2) الرد علیٰ من اخلد الی الارض (ص133) اور دین میں تقلید کا مسئلہ (ص32)
امام بیہقی کا بدعت تقلید میں مبتلا ہونا ثابت نہیں بلکہ انھوں نے اپنی کتاب میں (اگر نماز چار یا تین رکعتوں والی ہو تو) دورکعتوں سے قیام پر رفع یدین کا باب لکھ کر امام شافعی کی تقلید کے پرخچے اڑا دیئے ہیں:” باب رفع اليدين عند القيام من الركعتين“ (السنن الکبری ج 2 ص 136)
② ابو عبد الله الحافظ (الحاکم النیسابوری صاحب المستدرک)
درج ذیل محدثین و علماء سے آپ کی توثیق و تعریف ثابت ہے:
✿ خطیب بغدادی
✿ ابن الجوزی
✿ذہبی
✿ ابن کثیر
✿ ابوسعد السمعانی
✿حافظ ابن حجر
✿عبد الغافر بن اسماعیل الفارسی
✿ عبدالوہاب بن علی السبکی
✿ ابوالخیر محمد بن محمد الجزری
✿ بیہقی
ان کے مقابلے میں حافظ محمد بن طاہر المقدس کی جرح مردود ہے۔
تنبیہ: امام حاکم پر ابن الفلکی کی طرف منسوب جرح يميل إلى التشيع اور شیخ الاسلام ابو اسماعیل الہروی کی طرف منسوب جرح ”حدیث میں امام اور رافضی خبیث“ ان دونوں علماء سے باسند صحیح ثابت نہیں، لہذا یہ جرح تین وجہ سے مردود ہے:
◈ باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔
◈ جمہور کی توثیق کے خلاف ہے۔
◈ حاکم کی کتابوں مثلاً مستدرک وغیرہ سے یہ ظاہر ہے کہ وہ شیعہ نہیں بلکہ سنی تھے۔
تفصیلی حوالوں کے لئے دیکھئے میری کتاب : توضیح الاحکام ( فتاویٰ علمیہ ج 1ص 572 – 578) اور المستدرک (80/3 قبل ح 4477 و من مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ )
ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی نے امام حاکم کے بارے میں لکھا ہے کہ ”جس کو تذکرۃ الحفاظ میں رافضی خبیث لکھا ہے۔“ (تجلیات صفدر ج 2 ص 259)
عرض ہے کہ اوکاڑوی کی یہ جرح چار وجہ سے مردود اور باطل ہے:
● تذکرة الحفاظ للذہبی میں محمد بن طاہر المقدسی سے منقول ہے کہ میں نے ابو اسماعیل الانصاری سے حاکم کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ثقة فــي الــحـديـث، رافضي خبيث وہ حدیث میں ثقہ تھے، رافضی خبیث تھے۔ ( ج 3 ص 1045 ت 962)
یہ جرح محمد بن طاہر سے باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔
● یہ جرح جمہور کی توثیق کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
● حاکم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور سید نا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب لکھے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شیعہ ان صحابہ کی فضیلت کا قائل ہو، بلکہ شیعہ تو ان صحابہ کو بُرا کہتے ہیں۔ (العیاذ باللہ )
● اوکاڑوی کے استاد اور حیاتی دیوبندیوں کے ”امام“ سرفراز خان صفدر دیوبندی نے امام حاکم کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ وہی امام ہیں جن کو الحاکم کہتے ہیں۔ اور جن کی کتاب مستدرک شائع ہو چکی ہے علامہ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ وہ الحافظ الکبیر اور امام المحدثین تھے (تذکرۃ الحفاظ 3 ص 227) (احسن الکلام ج 1ص 104، دوسرا نسخه ج 1ص134-135)
اوکاڑوی پارٹی کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر جمہور محدثین کی تحقیق آپ لوگ نہیں مانتے تو اپنے خود ساختہ امامِ اہلِ سنت کی تحقیق ہی مان لیں۔!
③ امام ابو عبد اللہ حمد بن عبد اللہ بن احمد الزاہد الصفار الاصفہانی رحمہ اللہ کی توثیق و تعریف:
دس محدثین و علماء سے پیش خدمت ہے:
➊ بیہقی نے روایت مذکورہ میں انھیں ثقہ کہا۔
➋ حاکم نے اُن کی بیان کردہ ایک حدیث کو صحيح على شرط الشيخين کہہ کر اُن کی توثیق کردی۔ (دیکھئے المستدرک 30/1 ح 82)
حاکم نے تاریخ نیسا پور میں انھیں اپنے زمانے میں خراسان کا محدث ( اور ) مجاب الدعوۃ قرار دیا یعنی آپ کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ (الانساب 544/3)
➌ ذہبی نے انھیں ثقہ کہا اور فرمایا: الشيخ الإمام المحدث القدوة (سیر اعلام النبلاء 437/15)
➍ حافظ ابن حجر العسقلانی نے انھیں ثقہ کہا۔
➎ ابو نعیم الاصبہانی نے کہا: أحد العباد وہ عبادت گزارلوگوں میں سے ایک تھے۔ (اخبار اصبہان ج 2 ص 271 )
➏ ابو سعد السمعانی نے فرمایا: و كان زاهدا حسن السيرة ورعا كثير الخير اور وہ زاہد، اچھی سیرت والے، پر ہیز گار ( اور ) بہت نیکی کرنے والے تھے۔ (الانساب ج 3 ص 544 )
➐ ابن الجوزی نے انھیں خراسان کا محدث اور مجاب الدعوۃ قرار دیا۔ (المنتظم ج 14 ص 83ت 2527، وفیات 339ھ )
➑ حافظ ابن کثیر نے انھیں خراسان کا محدث عصر اور مجاب الدعوہ ( یعنی مستجاب الدعوات) قرار دیا ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج 12 ص 184)
➒ ابن الاثیر الجزری (متوفی 630ھ) نے فرمایا: كان زاهدا حسن السيرة ورعا وہ زاہد، اچھی سیرت والے پر ہیز گار تھے۔ (اللباب فی تہذیب الانساب 51/2)
➓ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی (متوفی 764ھ) نے انھیں خراسان کا محدث عصر قرار دیا ۔ ( الوافی الوفیات ج 3 ص 256 ت 1369)
آپ نے اپنے استاذ ابو اسماعیل السلمی سے حدیث سنی ہے۔ دیکھئے المستدرک ( ج 1ص 117 ح403)
اور آپ کا مدلس ہونا بھی ثابت نہیں، لہذا یہ حدیث متصل اور صحیح ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے استاذ محترم مولانا فیض الرحمن الثوری رحمہ اللہ کا حاشیہ بر: جلاء العينين بتخریج روایات جزء رفع الیدین (ص 18)
فائدہ : محمد بن عبد الله الصفار اگر چه متابعت کے محتاج نہیں ، لیکن عرض ہے کہ عبد اللہ بن یحیی بن مہران بن خالد بن عثمان بن عبدالله الحرشی : ابن ابی ذکر یا القاذی رحمہ اللہ نے بعینہ بي حديث: ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل الترمذي کہہ کر اُن کی متابعت تامہ کر رکھی ہے۔ دیکھنے منتقی حدیث ابی الحسن احمد بن ابراہیم بن عبدو یہ العبد وی النیسابوری یعنی جزء العبد وی (ح24) مجموعه اجزاء حدیثیہ تحقیق مشہور بن حسن ( ج 2 ص 316)
④ ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل بن یوسف السلمی الترمذی رحمہ اللہ:
ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل بن یوسف السلمی الترمذی رحمہ اللہ کی توثیق جمہور محدثین سے ثابت ہے، جس میں سے دس حوالے درج ذیل ہیں:
➊ ان کے بارے میں امام دارقطنی نے فرمایا: ثقة صدوق (سوالات الحاكم النيسابورى للدارقطنی : 526)
➋ حافظ ابن حبان نے انھیں کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ ( ج 9 ص 132)
➌ خطیب بغدادی نے فرمایا: و كان فهما متقنا مشهورا بمذهب السنة اور آپ سمجھ دار، ثقہ ( اور ) اہل سنت کے مذہب کے ساتھ مشہور تھے۔ ( تاریخ بغداد 42/2)
➍ حاکم نیشاپوری نے محمد بن اسماعیل السلمی کی بیان کردہ حدیث کو صحيح الإسناد کہا۔ (المستدرک ج 1ص 72 ح 244 و وافقه الذہبی )
➎ حافظ ابوعوانہ نے اُن سے اپنی صحیح ابی عوانہ میں بہت سی روایتیں بیان کیں۔ مثلاً دیکھئے صحیح ابی عوانہ ( ج 1ص 302 ح676 ، ج 2 ص 312 ح 1818)
➏ ابو سعد السمعانی نے کہا: فقيه عالم ثقه صدوق .. فقيه عالم ثقة صدوق (الانساب ج1 ص 461 ترندی)
➐ حافظ ذہبی نے فرمایا: الإمام الحافظ الثقة (سیر اعلام النبلا 13/ 242)
اور ابن ابی حاتم کی جرح نقل کر کے فرمایا: انبوم الحال على توثيقه و إمامته ان کی توثیق اور امامت پر حال مستحکم (یعنی قطعی فیصلہ ) ہو چکا ہے۔ (النبلا 243/13)
➑ حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا: ثقة حافظ لم يتضح قول أبى حاتم فيه ثقہ حافظ ہیں ابوحاتم (یعنی ابن ابی حاتم ) کا قول اُن کے بارے میں واضح نہیں ہوا ہے۔ (تقریب التهذيب : 5738)
➒ ابن ناصر الدین الدمشقی نے فرمایا: ثقه منتقن (شذرات الذہب ج 2 ص 176)
➓ محمد بن علی بن احمد الداوودی ( متوفی 945ھ) نے کہا: ثقه حافظ إلخ (طبقات المفسرین ص 373ت 464)
اس عظیم الشان توثیق کے مقابلے میں امام عبد الرحمن بن ابی حاتم الرازی نے کہا:
سمعت منه بمكة و تكلموا فيه میں نے اس سے مکہ میں سنا اور انھوں نے اس میں کلام کیا ہے۔ (الجرح والتعدیل 191/7)
یہ جرح چار وجہ سے مردود اور باطل ہے:
◈ ان میں کلام کرنے والے ( جارحین ) نا معلوم یعنی مجہول ہیں اور مجہول کی جرح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
◈ ان میں کیا کلام کیا گیا تھا ؟ معلوم نہیں یعنی جرح نا معلوم ہے۔
◈ یہ جرح جمہور محدثین کی توثیق کے خلاف ہے۔
◈ علمائے کرام مثلاً حافظ ابن حجر وغیرہ نے اس جرح کو رد کر دیا اور حاکم نیشاپوری نے فرمایا: لم يتكلم فيه أبو حاتم ابوحاتم (الرازی) نے اُن پر کوئی کلام نہیں کیا۔ ( سوالات الحاكم للدارقطنی : 175)
جب امام ابن ابی حاتم کے والد امام ابو حاتم نے امام محمد بن اسماعیل السلمی پر کوئی جرح نہیں کی تو پھر مجہول جارحین کی مجہول جرح کا کیا اعتبار ہے؟
فائدہ: خطیب بغدادی نے محمد بن اسماعیل السلمی الترمذی کے بارے میں فرمایا:
و روى عنه أيضا أبو عيسى الترمذي و أبو عبدالرحمن النسائي فى صحيحيهما اور اُن سے ابوعیسیٰ الترمذی اور ابو عبد الرحمن النسائی دونوں نے بھی اپنی اپنی صحیح کتابوں میں روایت کی ہے۔ (تاریخ بغداد ج 2 ص 42 ت 435)
معلوم ہوا کہ وہ امام ترمذی اور امام نسائی دونوں کے نزدیک صحیح الحدیث ثقہ تھے۔
⑤ امام ابو النعمان محمد بن الفضل السد وی البصری:
عارم رحمہ اللہ کوکئی محدثین نے ثقہ و صدوق قرار دیا ، جن میں سے دس حوالے درج ذیل ہیں:
➊ ابو حاتم الرازی نے فرمایا : ثقة اور فرمایا : جب عارم تجھے حدیث بیان کریں تو اُس پر مہر لگا دو۔
➋ محمد بن مسلم بن وارہ نے فرمایا: الصدوق المأمون (الجرح والتعديل 58/8)
➌ امام عجلی نے فرمایا: بـصـري ثقة رجـل صـالـح … و كان ثقة يـعـد مـن أصحاب الحديث بصری ثقہ نیک آدمی … اور آپ ثقہ تھے ، اصحاب الحدیث میں شمار کئے جاتے تھے۔ (معرفة الثقات /التاریخ 806 ترجمه عارم )
➍ امام محمد بن یحیی الذہلی رحمہ اللہ نے فرمایا: و كان بعيدا من العرامة ثقة صدوقا مسلما وہ بد اخلاقی سے دُور تھے، ثقہ صدوق مسلمان تھے۔ (منتقی ابن الجارود: 198)
➎ امام نسائی نے فرمایا: و كان أحد الثقات قبل أن يختلط اور وہ اختلاط سے پہلے ثقہ راویوں میں سے ایک تھے۔ (السنن الکبری للنسائی:9593)
➏ حاکم نیشاپوری نے فرمایا: حافظ ثقة (المستدرک1/100 ح 341)
➐ محدث خلیلی قزوینی نے فرمایا: ثم من بعدهم من المتقنين أبو النعمان عارم، معتمد فى حديثه پھر ان کے بعد ثقہ راویوں میں سے ابوالنعمان عارم، ان کی حدیث پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ( الارشاد فی معرفتہ علماء الحدیث 498/2 ت 213)
➑ عقیلی نے کہا : فمن سمع من عارم قبل الإختلاط فهو أحد ثقات المسلمين و إنما الكلام فيه بعد الإختلاط . پس جس نے عارم سے (اُن کے ) اختلاط سے پہلے سنا تو وہ مسلمانوں کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں اور ان پر کلام تو اختلاط کے بعد پر ہی ہے۔ (کتاب الضعفاء ج 4ص134، دوسرانسخه ص 1278)
➒ امام بخاری نے صحیح بخاری میں ابو النعمان سے بہت سی روایتیں بیان کیں جو اس کی دلیل ہے کہ وہ امام بخاری کے نزدیک ثقہ و صدوق اور صحیح الحدیث تھے۔
➓ امام مسلم نے صحیح مسلم میں ابو النعمان السدوسی سے حدیثیں بیان کیں، جو اُن کی طرف سے ابوالنعمان کی توثیق ہے۔
اگر کوئی کہے کہ” ابو النعمان آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، لہذا یہ حدیث ضعیف ہے“ تو عرض ہے کہ یہ اعتراض پانچ وجہ سے مردود ہے:
◈ حافظ ذہبی نے ابوالنعمان کے بارے میں فرمایا: ثقة شهير ، يقال : اختلط بآخره مشہور ثقہ کہا جاتا ہے کہ وہ آخر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔ (معرفة الرواة المتكلم فيهم بمالا یوجب الردص 169)
اور فرمایا: تغير قبل موته فما حدث وہ اپنی وفات سے پہلے تغیر (اختلاط ) کا شکار ہوئے تو کوئی حدیث بیان نہیں کی۔ (الکاشف 79/3ت 5197)
جب اختلاط کے بعد امام ابوالنعمان نے کوئی حدیث بیان ہی نہیں کی تو پھر اعتراض کیسا؟
◈ ابو النعمان کو اختلاط کیسا ہوا تھا ؟ اس کی تشریح میں ابو حاتم الرازی کا قول پیش خدمت ہے: و زال عقله اور اُن کی عقل زائل ہو گئی تھی۔ (الجرح والتعدیل ج 8 ص 59)
جس کی عقل زائل ہو جائے وہ پاگل ہوتا ہے، لہذا اگر ایک ثقہ راوی آخری عمر میں پاگل ہو گئے تھے تو وہ مرفوع القلم ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ کسی قسم کے مجرم نہیں۔
جو شخص پاگل ہو جائے وہ حدیثیں بیان نہیں کرتا اور نہ کوئی ہوش مند شخص کسی پاگل سے حدیثیں سنتا ہے، لہذا حدیث مذکور پر اختلاط کا اعتراض غلط ہے۔
◈ ثقہ حافظ امام ابو اسماعیل اسلمی نے فرمایا کہ میں نے ابوالنعمان کے پیچھے نماز پڑھی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابوالنعمان اس وقت اختلاط کا شکار نہیں ہوئے تھے اور نہ پاگل ہوئے تھے بلکہ لوگوں کو نمازیں پڑھاتے تھے۔ پاگل کے پیچھے وہی نماز پڑھتا ہے جو خود پاگل ہو۔
◈ امام بیہقی نے رواته ثقات کہہ کر اور اس حدیث سے استدلال کر کے یہ گواہی دے دی ہے کہ اس حدیث کے راوی ایک دوسرے سے روایت کرنے میں ثقہ ہیں، لہذا ثابت ہوا کہ یہاں اختلاط کا اعتراض مردود ہے۔
◈ امام عبدالرزاق نے فرمایا: مکے والوں نے شروع نماز میں رفع یدین، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اُٹھاتے وقت ( رفع یدین ) ابن جریج سے لیا، انھوں نے عطاء ( بن ابی رباح) سے ، عطاء نے ابن الزبير رضی اللہ عنہما سے اور ابن الزبير نے ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے۔ (الاوسط لابن المنذر 3 / 147 ح 1388، وسنده صحیح و دسر انسخه 3 / 304 ح 1383)
عقیلی کے نانا ابو خالد یزید بن محمد بن حماد العقیلی المکی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے بصرہ میں ابوالنعمان عارم سے زیادہ اچھی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا، اور لوگ کہتے تھے : انھوں نے حماد بن زید سے نماز سیکھی اور حماد نے ایوب سے سیکھی تھی ۔ الخ
(کتاب الضعفاء 122/4، دوسرا نسخه 1277-1278)
فائدہ : طاہر القادری صاحب نے بھی ابوالنعمان پر اختلاط کے الزام کا زبردست جواب دیا ہے۔ دیکھئے کتاب: عقیدہ توسُّل (مطبوعہ منہاج القرآن لاہور ، ص 232 – 234)
⑥ حماد بن زید:
صحیحین کے بنیادی راوی ، بہت بڑے امام ، فقیہ اور بالا جماع ثقہ تھے۔ انھیں ابن سعد، مجلی اور ابن حبان وغیر ہم نے ثقہ کہا بلکہ امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ليس أحد فى أيوب أثبت من حماد بن زيد ایوب سے روایت میں حماد بن زید سے زیادہ ثقہ کوئی نہیں ہے۔ (کتاب الجرح والتعدیل 139/3، وسندہ صحیح)
سیہ روایت بھی ایوب السختیانی سے ہی ہے۔
⑦ ایوب بن ابی تمیمہ السختیانی رحمہ اللہ :
صحیحین کے بنیادی راوی، بہت بڑے امام، فقیہ اور بالا جماع ثقہ تھے۔ انھیں امام یحییٰ بن معین ، ابن سعد، ابو حاتم الرازی اور ابن حبان و غیر ہم نے ثقہ قرار دیا۔
⑧ امام عطاء بن ابی رباح المکی جلیل القدر تابعی :
صحیحین کے بنیادی راوی، بہت بڑے امام ، فقیہ اور بالا جماع ثقہ تھے۔ انھیں ابن سعد ، بجلی ابو زرعہ الرازی اور ابن حبان وغیر ہم نے ثقہ قرار دیا۔
فائدہ: ایک اور روایت سے بھی ثابت ہے کہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (جزء رفع الیدین 62 وسندہ حسن)
⑨ سیدنا عبد الله بن الزبير رضی اللہ عنہما :
سیدنا عبد الله بن الزبير رضی اللہ عنہما مشہور صحابی اور جلیل القدر امام تھے۔
فائدہ: ابوالزبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر اور عبد اللہ بن الزبير رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا، وہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (کتاب الاثرم بحوالہ التمہید 217/9 وسند الاثرم صحیح)
سید نا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے ترک رفع یدین کسی روایت میں بھی ثابت نہیں ہے۔
⑩ سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ:
سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ اول، امیر المومنین اور یقیناً جنتی ہیں۔
تنبیہ : سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کسی صحیح یا مقبول روایت سے ثابت نہیں ہے۔ محمد بن جابر الیمامی والی روایت ضعیف ، مردود اور باطل ہے۔
محمد بن جابر کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا۔ دیکھئے مجمع الزوائد (191/5)
خلاصة التحقیق: اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ مسلسل رفع یدین والی حدیث بلحاظ اصول الحدیث واسماء الرجال اور بلحاظ سند و متن بالکل صحیح ہے۔
حدیث کی تشریح : اس حدیث اور اس کی تشریح سے درج ذیل باتیں ثابت ہیں:
◈ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز ، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
◈رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
◈ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
◈ سید نا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کے بعد امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
◈ امام عطاء کے بعد امام ایوب السختیانی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
◈ امام ایوب السختیانی کے بعد امام حماد بن زید رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
امام حماد بن زید کے بعد امام بخاری کے مشہور استاذ امام ابوالنعمان السد وسی (متوفی 224ھ) رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
معلوم ہوا کہ خیر القرون کے بہترین دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تیسری صدی ہجری تک رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین پر اہل سنت کے جلیل القدر اماموں اور ثقہ راویان حدیث کا مسلسل اور غیر منقطع عمل رہا ہے، لہذا رفع یدین کو منسوخ، ممنوع یا متروک سمجھنا غلط اور باطل ہے۔ اگر رفع یدین منسوخ ہوتا تو سید نا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یا آپ کی زندگی کے آخری زمانے میں کبھی رفع یدین نہ کرتے ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آخری نمازیں پڑھی تھیں بلکہ آپ کے مصلے پر آخری نماز پڑھائی بھی تھیں۔ کیا انھیں رفع یدین کے منسوخ یا متروک ہونے کا علم نہ ہوسکا تھا ؟ اگر رفع یدین منسوخ یا متروک ہوتا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ یا ان کے بعد اُن کے نواسے سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کبھی رفع یدین نہ کرتے ، انھوں نے نماز اپنے نانا سے سیکھی تھی اور نانا بھی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ہیں ۔
◈ محد ثین کرام میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو ضعیف نہیں کہا۔
◈ جو لوگ رفع یدین کے منسوخ یا متروک ہونے کے قائل ہیں ، وہ قیامت تک ایسی کوئی حدیث مسلسل پیش نہیں کر سکتے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں رفع یدین ترک کر دیا تھا، پھر آپ کے صحابی نے رفع یدین ترک کر دیا، پھر صحابی کے شاگر د تابعی نے رفع یدین ترک کر دیا ، پھر اس تابعی کے شاگر د تبع تابعی نے رفع یدین ترک کر دیا تھا۔ الخ
◈ یہ حدیث اس بات پر فیصلہ کن ہے کہ رفع یدین آخر میں نہ تو متروک ہوا تھا اور نہ منسوخ ہوا تھا۔
اس صحیح حدیث پر بعض الناس کے اعتراضات اور ان کے جوابات
① ایک شخص نے امام بیہقتی کے بارے میں لکھا ہے کہ جو امام شافعی رحمہ اللہ کے مقلد ہیں اور احناف کے خلاف سخت تعصب رکھتے تھے اور تقلید امام شافعی رحمہ اللہ میں اتنے سخت تھے کہ ابومحمد الجوینی جیسے عظیم محدث نے جب امام شافعی رحمہ اللہ کی تقلید چھوڑ کر خود اجتہاد کا ارادہ فرمایا تو امام بیہقی نے انہیں خط لکھ کر منع کیا کہ آپ کے لیے تقلید امام شافعی کو چھوڑ نا ہرگز جائز نہیں (طبقات الشافعية ).. (تجلیات صفدر ج 2 ص 384)
ان جھوٹے اعتراضات کے علی الترتیب جوابات درج ذیل ہیں:
◈ امام بیہقی مقلد نہیں تھے بلکہ بہت بڑے عالم تھے۔ دیکھئے یہی مضمون ( ترجمہ حدیث کے بعد ( فقرہ :1)
◈ امام بیہقی احناف کے خلاف کسی قسم کا تعصب نہیں رکھتے تھے۔
◈ امام بیہقی نے ابو محمد الجوینی کو تقلید چھوڑنے سے ہر گز منع نہیں کیا بلکہ انھوں نے بعض شافعیہ پر رد کیا جو کتب المنتقدمین کو ”تقلیداً“ لے لیتے تھے۔
دیکھئے طبقات الشافعیہ للسبکی ( ج 3 ص 104، ترجمه عبد اللہ بن یوسف الجوینی )
اور فرمایا: و اجتهادي فى طلبه اور میں طلب حدیث میں اجتہاد (خوب محنت ) کرتا ہوں۔ (ص 104)
بیہقی نے یہ نہیں فرمایا کہ ”تقلید امام شافعی کو چھوڑ نا ہرگز جائز نہیں“ لہذا تجلیات صفدر والے نے صریح جھوٹ بولا ہے۔
بیہقی نے تو ابومحمد الجوینی کی بیان کردہ بعض ضعیف روایات پر رد کیا اور انھیں تحقیق کی ترغیب دی۔
② بعض الناس نے امام حاکم کو رافضی خبیث اور غالی شیعہ لکھا ہے۔ (دیکھئے تجلیات صفد ر ج 2 ص 385)
یہ دونوں الزامات باطل ہیں، جیسا کہ تحقیق روایات حدیث فقرہ نمبر 2 کے تحت گزر چکا ہے۔
③ بعض الناس نے لکھا ہے : دوسرے راوی الصفار کا سماع آپ اس کے استاد السلمی سے ثابت نہ کر سکتے تھے۔ اگر ہمت ہے تو کر کے دکھاؤ۔ (تجلیات صفدر ج 2 ص 259)
عرض ہے کہ ابو عبد اللہ محمد بن عبد الله الصفار نے فرمایا:
ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل (المستندرک ج 1ص 117 ح 403)
سماع ثابت ہو گیا ،لہذا اعتراض باطل ہے۔
④ بعض الناس نے لکھا ہے : پھر یہ سلمی خود متکلم فیہ راوی ہے۔( تجلیات صفدر ج 2 ص 259)
عرض ہے کہ سلمی رحمہ اللہ کو دس سے زیادہ محدثین نے ثقہ و صدوق قرار دیا، لہذا ان پر مجہول جارحین کی مجہول جرح مردود ہے۔ دیکھئے یہی مضمون تو ثیق روایانِ حدیث فقرہ نمبر4
⑤ ابونعیم الفضل بن دكين الكوفى رحمہ اللہ 218 ھ یا 219 ھ میں فوت ہوئے۔ دیکھئے تہذیب الکمال (35/6)
امام ابو اسماعیل السلمی نے فرمایا: ثنا الفضل بن دكين ہمیں فضل بن دکین نے حدیث بیان کی۔
(كتاب الاسماء والصفات اللبیہقی ص 180-181، دوسرا نسخه ص 235 باب ما جاء فی اثبات صفة البصر والرؤية )
معلوم ہوا کہ 218 ہجری میں ابو اسماعیل سمجھدار نوجوان تھے۔
محمد بن الفضل السدوی 223ھ یا 224ھ میں فوت ہوئے۔ (تقریب التہذیب: 6226)
امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا:
فمن كتب عنه قبل سنة عشرين و مأتين فسماعه جيد . جس نے اُن (ابوالنعمان) سے 220 ھ سے پہلے لکھا ہے تو اس کا سماع اچھا ہے۔ (الجرح والتعدیل 59/8 )
جو طالب علم 218 ھ میں حدیثیں پڑھ رہا تھا کیا وہ 220ھ سے پہلے ابوالنعمان کی مجلس میں نہیں پہنچ سکتا تھا ؟ معلوم ہوا کہ سلمی کا ابو النعمان سے سماع اُن کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔
نیز دیکھئے توثیق راویان حدیث فقرہ: 5
⑥ بعض الناس نے کہا: گویا اسے بھی ساری زندگی میں ایک ہی آدمی رفع یدین کرنے والا ملا۔ (تجلیات صفدر ج 2 ص 260)
عرض ہے کہ یہ بات بلا دلیل ہے اور عدم ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔
دوسرے یہ کہ اگر حماد بن زید رحمہ اللہ کو ترک رفع یدین کی کوئی صحیح حدیث کسی راوی سے پہنچتی تو وہ اسے ضرور بیان کرتے اور کبھی حق نہ چھپاتے ۔ ان کا ترک رفع یدین والی کوئی حدیث بیان نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ 79 اھ تک بصرے میں ترک رفع یدین کا نام ونشان تک نہیں تھا۔
⑦ بعض الناس نے لکھا ہے کہ اور میں نے اس سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری صدی کے نصف اول میں ساری دنیا میں صرف بصرہ میں ہی ایک شخص رفع یدین کرنے والا تھا۔ (تجلیات صفدر ج 2 ص 260)
انھوں نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ یہ کیا ہے؟ بلکہ فسألته عن ذلك کا مطلب ہے: میں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھا۔
اس کا مطلب ہے کہ حماد بن زید نے اپنے اطمینان اور روایتِ حدیث محفوظ کرنے کے لئے اپنے استاد سے اُن کے عمل کی دلیل پوچھی تھی ، دلیل پوچھنا کوئی جرم نہیں ہے اور نہ اس کی دلیل ہے کہ باقی سارے لوگ اس کے بالکل الٹ چل رہے تھے۔
شاگرد کا اپنے اُستاد سے سوال کرنا اس بات کی قطعا دلیل نہیں کہ اُس زمانے میں تمام مسلمانوں کا اس مسئلے کے خلاف عمل تھایا یہ کہ یہ مسئلہ عجیب اور نرالا ہے۔
اس بات کی فی الحال تین دلیلیں پیش خدمت ہیں:
◈ سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تھا۔ (دیکھئے صحیح بخاری:202)
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اُن کے زمانے میں تمام صحابہ و تابعین یا عام علماء موزوں پر مسح کے قائل نہیں تھے؟ ہر گز یہ مطلب نہیں لہذا ”تجلیاتی“ منکر حدیث کا اعتراض باطل ہے۔
◈ الله چار رکعتوں والی نماز میں بائیس (22) تکبیریں ہوتی ہیں، جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز میں بائیس تکبیریں کہیں تو عکرمہ تابعی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا تھا۔ (دیکھئے صحیح بخاری: 788، اور الحدیث حضرو: 66 ص 21-22)
◈ ابو جمرہ الضبعی رحمہ اللہ نے حج تمتع کیا تھا، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسئلہ پوچھا تھا۔ دیکھنے صحیح مسلم (1242، دار السلام: 3015)
کیا مسئلہ پوچھنے کی وجہ سے حج تمتع بھی ممنوع، متروک یا منسوخ ہو جائے گا؟
معلوم ہوا کہ یہ اصول ہی باطل ہے کہ پوچھنے یا دلیل مانگنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا اس مسئلے پر عمل نہیں تھا۔!!
بعض الناس نے میمون مکی ( مجہول) وغیرہ کی ضعیف و مردود روایتیں پیش کر کے سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث کا جواب دینے کی کوشش کی ہے جو کہ اصولاً باطل اور مردود ہے۔ وما علينا إلا البلاغ (29/مئی 2010ء)