مضمون کے اہم نکات
برتنوں کی تعریف اور اصل حکم
یہاں برتنوں سے مراد ایسے برتن ہیں جو کھانے اور پانی وغیرہ کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں وہ لوہے کے ہوں یا لکڑی کے چمڑے کے ہوں یا کسی اور دھات سے بنے ہوں۔
برتنوں کے استعمال میں اصل حکم ان کے جواز کا ہے لہٰذا ہر وہ برتن جو پاک صاف ہو اس کا استعمال جائز ہے۔
البتہ درج ذیل برتنوں کا استعمال حرام ہے:
سونے اور چاندی کے برتنوں کی حرمت
وہ برتن جو خالص سونے یا چاندی کے بنے ہوں، یا ان میں سونے چاندی کی ملاوٹ ہو، یا ان پر ان میں سے کسی دھات کی پالش ہو — سب کا استعمال حرام ہے۔
ہاں! اگر ٹوٹے ہوئے برتن کو سونے یا چاندی کے تار سے جوڑ دیا جائے تو اس کی اجازت ہے۔
نبی ﷺ کا حکم: سونے چاندی کے برتن ممنوع
"لا تشربوا في آنية الذهب والفضة، ولا تأكلوا في صحافهما؛ فإنها لهم في الدنيا، ولكم في الآخرة”
ترجمہ: سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو، اور نہ ان کی پلیٹوں میں کھاؤ؛ کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہیں، اور آخرت میں تمہارے لیے۔
صحیح البخاری الاطعۃ باب الاکل فی اناء مفضض حدیث 5426۔ وصحیح مسلم اللباس والزینۃ باب تحریم استعمال اناء الذھب حدیث 2067۔
چاندی کے برتن میں پینے کی سخت وعید
"الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ”
ترجمہ: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہوتا ہے۔
صحیح البخاری الاشربۃ باب انیہ الفضۃ حدیث 5634۔ صحیح مسلم اللباس والزینۃ باب تحریم استعمال اوانی الذہب والفضۃ حدیث 2065 واللفظ لہ۔
ٹوٹے برتن کو چاندی سے جوڑنے کی اجازت
"أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ – صلى الله عليه وسلم – اِنْكَسَرَ، فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ”
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ نے اس کے ٹوٹے حصے کی جگہ چاندی کی ایک کلپ لگوائی۔
صحیح البخاری فرض الخمس باب ماذکر من درع النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعصاہ حدیث 3109۔
امام نووی کا فتویٰ
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا یا کسی بھی صورت میں ان کا استعمال بالاتفاق حرام ہے۔”
شرح صحیح مسلم للنووی 14/41۔
یہ حرمت مرد و عورت دونوں کے لیے ہے
حرمت استعمال کا یہ حکم مردوں اور عورتوں دونوں پر برابر لاگو ہوتا ہے۔
البتہ عورتیں زیور کی شکل میں سونا چاندی استعمال کر سکتی ہیں — برتن کی صورت میں نہیں۔
کافروں کے برتنوں کا حکم
مسلمانوں کے لیے کافروں کے برتنوں کا استعمال جائز ہے بشرطیکہ ان پر نجاست نہ ہو۔
اگر نجاست محسوس ہو تو دھو کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مردار جانور کی کھال کا حکم
مردار جانور کا چمڑا بغیر رنگے استعمال کرنا حرام ہے۔
لیکن اگر اسے رنگ (دباغت) دے دی جائے تو اس کا استعمال جائز ہے — یہی جمہور کا مسلک ہے۔
نبی ﷺ کا حکم: رنگ دباغت نجاست زائل کر دیتی ہے
"يطهرها الماء والقَرَظ”
ترجمہ: اسے پانی اور قرظ (کیکر جیسا پودا جس سے کھال رنگی جاتی ہے) پاک کر دیتے ہیں۔
وسنن ابی داؤد اللباس باب فی اھب المیتہ حدیث۔ سنن النسائی الغیرۃ باب مایدبغ بہ جلود المیۃ حدیث 4253۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دباغ الأديم طهوره”
ترجمہ: کھال کی رنگائی (دباغت) ہی اس کی پاکی ہے۔
مسند احمد 3/476۔ سنن ابی داؤد اللباس باب فی اھب المیتہ حدیث 4125۔ المعجم الکبیر للطبرانی حدیث 6341 واللفظ لہ۔
کافروں کے بنے یا رنگے کپڑوں کا استعمال
کافروں کے کپڑوں پر نجاست کے آثار نہ ہوں تو ان کا استعمال جائز ہے۔
کیونکہ:
◈کسی چیز کا اصل حکم پاک ہونا ہے
◈محض شک سے حکم نہیں بدلتا
◈رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کفار کے بنائے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے
واللہ تعالیٰ اعلم۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب