مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سونے اور چاندی کے استعمال کے شرعی احکام

فونٹ سائز:

سوال

کیا سونے اور چاندی کے ورق کھانے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ اور کیا سونے اور چاندی کے برتن کھانے پینے کے علاوہ دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟

جواب از فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

سونے اور چاندی کے ورق

اگر طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بوقت ضرورت سونے اور چاندی کے ورق کھائے جا سکتے ہیں۔ کھانے میں ان کے استعمال کی حرمت پر کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)
شیخ عبد الرحمن البراک نے مٹھائی وغیرہ پر لگے سونے اور چاندی کے ورق کھانے کو جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور مبالغہ نہ ہو۔

دیگر استعمال

جہاں تک سونے اور چاندی کے برتنوں کا تعلق ہے، مردوں کے لیے ان کا استعمال کچھ مخصوص مقدار کے ساتھ منع ہے، خصوصاً جب یہ کھانے پینے کے لیے استعمال ہوں۔
[موقع الاسلام سؤال وجواب]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔