مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سورۃ توبہ کی تبلیغ کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کیوں بھیجا گیا؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سورۃ توبہ کی پیغام رسانی کے لیے کیوں بھیجا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر فرما دیا تھا؟

جواب:

حجۃ الوداع سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنایا، انہیں حکم دیا کہ وہ حج کے ساتھ سورۃ توبہ کی تبلیغ بھی کریں کہ آج کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے۔ بعد میں سورۃ براءت کی تبلیغ کا چارج سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، کیونکہ عرب کے ہاں معاہدہ توڑنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ جس نے معاہدہ کیا ہو، وہی شخص معاہدہ ختم کرے یا اس کے خاندان اور قبیلے کا کوئی فرد معاہدہ ختم کرے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اسی دستور کا پاس رکھتے ہوئے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے سورۃ توبہ کی تبلیغ کی ذمہ داری لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دے دی، کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔ گویا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صرف معاہدہ ختم کرنے کی ذمہ داری دی تھی، البته امیر حج بدستور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی رہے۔
❀ علامہ احمد بن عبد اللہ طبری رحمہ اللہ (694ھ) فرماتے ہیں:
إن تبليغ هذا الواقعة خاص، وكانت له سبب، وهو أن عادة العرب كانت أن يعلن بفسخ العهد من عقده أو رجل من قبيلته، فقد كان النبى صلى الله عليه وسلم أنجز هذا الأمر بخلاف عادتهم لأبي بكر، ثم أمر الله أن يرسل رجل من قبيلته ليتم الحجة عليهم وتقطع حيلتهم ولا يتعلقوا بعادتهم، ولم يكن التبليغ خاصا بأهل بيته، فقد علم قطعا أن التبليغ والرسالة وتعليم الأحكام والبلاغات كانت متفرقة فى مناطق مختلفة
یہ تبلیغ اس واقعہ سے خاص ہے، اس کی ایک وجہ تھی، وہ یہ کہ عرب میں معاہدہ ختم کرنے کا دستور یہ تھا کہ اس کا اعلان وہی کرے جس نے عہد کیا یا اس کے قبیلے کا کوئی آدمی کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام جاہلی دستور سے ہٹ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا، لیکن اللہ نے حکم دیا کہ اپنے قبیلے کا کوئی آدمی اس کام کے لیے بھیجیں تا کہ حجت تمام ہو جائے اور ان کے حیلے کٹ جائیں اور وہ اپنے دستور کو دلیل نہ بنائیں پھریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے ساتھ تبلیغ خاص نہ تھی، یہ بات تو قطعی طور پر معلوم ہے کہ تبلیغ، رسالت، احکام کی تعلیم اور پیغامات کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام رساں مختلف علاقوں میں مختلف رہے ہیں۔
(ذخائر العقبى، ص 129)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
ولى أبا بكر إقامة الحج سنة تسع، وبعث فى الركب عليا يقرأ على الناس سورة براءة، فقيل: لأن أولها نزل بعد خروج أبى بكر إلى الحج، وقيل: بل لأن عادة العرب كانت أنه لا يحل العقود ويعقدها إلا المطاع، أو رجل من أهل بيته، وقيل: أردفه به عونا له ومساعدا، ولهذا قال له الصديق: أمير أو مأمور؟ قال: بل مأمور
نو ہجری کو حج کی امارت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سورۃ براءت دے کر بھیج دیا تا کہ وہ لوگوں پر اس کی تلاوت کریں، بعض کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سفر حج پر روانہ ہو جانے کے بعد یہ سب سے پہلی نازل ہونے والی سورت تھی، بعض کہتے ہیں کہ عربوں کی عادت یہ تھی کہ عہد و پیمان کی لکھت پڑھنے کا معاملہ صرف سردار کیا کرتا تھا، یا اس کے گھر والوں میں سے کوئی یہ ذمہ داری سرانجام دیتا، یا پھر اس کا سیکرٹری یہ کام کیا کرتا تھا، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تھا: اللہ کے رسول! علی امیر ہیں یا مامور؟ فرمایا: یہ تو مامور (امیر کے ماتحت) ہیں۔
(زاد المعاد: 1/126)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔