سوال:
کیا سورت الاعراف (204) سے فاتحہ خلف الامام کی نفی ہوتی ہے؟ نیز اس بارے چند اقوال صحابہ کی تحقیق درکار ہے؟
جواب:
جو لوگ مقتدی کو سورت فاتحہ پڑھنے سے روکتے ہیں، وہ سورت الاعراف کی آیت (204) پیش کرتے ہیں، اس استدلال پر مختصر اور تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
(الأعراف: 204)
”جب قرآن کی تلاوت کی جائے، تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تا کہ تم پر رحمت ہو۔“
جائزہ:
① خیر القرون میں کسی نے اس آیت سے مقتدی کو سورت فاتحہ پڑھنے سے منع نہیں کیا۔
② یہ آیت کریمہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر نازل ہوئی، اس کے باوجود آپ صلى الله عليه وسلم نے مقتدی کو جہری نمازوں میں فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا ہے، کبھی منع نہیں کیا۔
③ آیت کریمہ عام ہے۔ قرآن کے عمومی حکم سے حدیث استثنا کر سکتی ہے۔ مقتدی کے لیے مطلقاً قرآت کرنا منع ہے، لیکن فاتحہ کو حدیث نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت اعراف کے بارے فرماتے ہیں:
يعني فى الصلاة المفروضة.
”یعنی فرض نماز میں۔“
(القراءة للبيهقي، ص 88)
روایت ضعیف ہے۔
① علی بن ابی طلحہ کا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں۔
② عبداللہ بن صالح، کاتب لیث، کثیر الغلط راوی ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے فرماتے ہیں:
في الصلاة.
”یہ نماز کے بارے میں ہے۔“
(القراءة للبيهقي، ص 87)
سند سخت ضعیف ہے۔
① ابومقدام ہشام بن زیاد ”ضعیف و متروک “ہے۔
② حسن بصری مدلس و کثیر الارسال ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كانت بنو إسرائيل إذا قرأت أئمتهم جاوبوهم فكره الله ذلك لهذه الأمة قال:﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾
”جب بنی اسرائیل کے ائمہ قرآت کرتے تھے، تو مقتدی بھی ساتھ پڑھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ عمل اس امت کے لیے ناپسند کیا اور فرمایا: ”جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو۔“
(الدر المنثور للسيوطي: 156/3)
بے سند روایت ہے۔
تنبیہ :
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مقتدیوں سے فرمایا:
لعلكم تقرؤون؟ قلنا: نعم، قال: ألا تفقهون؟ ما لكم لا تعقلون؟ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (الأعراف: 204).
شاید آپ قرآت کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں، فرمایا: آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (الأعراف: 204) ”جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تا کہ تم پر رحمت ہو۔“
(تفسير ابن أبي حاتم: 1775، وسنده حسن)
اس میں یہ ذکر نہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے مقتدیوں کو فاتحہ سے روکا ہے، اس میں مطلق قرآت کا ذکر ہے، یہ فاتحہ کے بعد والی قرآت پر محمول ہے۔