مرکزی مواد پر جائیں
21 شعبان، 1447 ہجری

سودی کاروبار اور کھانے پینے کا تعلق حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا سودی کاروبار کرنے والے کے گھر سے کھانا جائز ہے؟

جواب :

جس شخص کے بارے میں یہ بات معلوم ہو کہ اس کا کاروبار سود پر مبنی ہے تو اس کی رقم سے خریدی ہوئی کوئی چیز بھی کھانا یا پینا جائز نہیں، کیونکہ سود صریح حرام اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے مترادف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور سودی معاملات پر گواہی دینے والے پر لعنت کی ہے اور انھیں برابر کے لعنتی قرار دیا ہے۔
(مسلم کتاب المساقاة باب لعن آكل الربا وموكله ح 1598)
اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود کے ستر درجے ہیں اور سب سے چھوٹا درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے بدکاری کرے۔
(ابن ماجہ کتاب التجارات باب التغليظ في الربا ح 2274)
لہذا اتنے بڑے گناہ سے اجتناب اور ہر طرح کے سودی معاملے سے مکمل گریز کیا جائے، تا کہ آخرت سنور جائے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔