مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سودی کاروباری شخص سے تعلقات اور دعوت قبول کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، جلد 2، صفحہ 217
مضمون کے اہم نکات

سودی معاملات کرنے والوں سے تعلقات، لین دین اور دعوت و قبولِ دعوت کی شرعی حیثیت

سوال:

سودی معاملات میں ملوث افراد سے تعلقات رکھنا، ان کے ساتھ لین دین کرنا اور ان کی دعوت کو قبول کرنا شریعت کی روشنی میں کیسا ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◈ سودی معاملات کرنے والا شخص فاسق و فاجر شمار ہوتا ہے۔

◈ اگر کوئی دنیوی نفع مقصود ہو تو ایسے شخص سے:

➊ تعلقات قائم کرنے،

➋ لین دین کرنے،

➌ اور دعوت قبول کرنے سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔

◈ لیکن اگر اس سے دینی فائدہ حاصل ہونے کی امید ہو تو:

➊ ایسے شخص سے تعلقات رکھنا،

➋ لین دین کرنا،

➌ اور اس کی دعوت قبول کرنا جائز ہے۔

دعوت قبول کرنے کی شرعی دلیل:

◈ ان احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی دعوت قبول فرمائی۔

➋ یہ بات واضح ہے کہ سودی لین دین یہودیوں کا خاص وطیرہ رہا ہے۔

➌ اس کے باوجود:

یہودیوں کا حلال کھانا قرآن کی نص کے مطابق مسلمانوں کے لیے حلال قرار دیا گیا ہے۔

حوالہ:

مصنف عبدالرزاق میں بھی اس بارے میں ذکر موجود ہے:

➊ جلد ۸، صفحہ ۱۵۱، حدیث نمبر ۱۴۶۸۱

➋ قول الحسن البصری، باب: طعام الامراء و اکل الربا وغیرہ

اہم تنبیہ:

◈ اگر کسی دعوت یا کھانے کے متعلق یقینی طور پر علم ہو جائے کہ:

➊ وہ خالص سودی مال سے تیار کیا گیا ہے یا

➋ خریدا گیا ہے تو:

ایسا کھانا نہیں کھانا چاہئے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔