سوال:
کیا بینک کی چوکیداری کی نوکری جائز ہے؟
جواب:
بینک میں کام کرنے والے مینیجر وغیرہ چونکہ سودی کاروبار میں شریک ہونے کی وجہ سے لعنت کے حقدار ہو جاتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں پر لعنت کی ہے اور انھیں گناہ میں برابر قرار دیا ہے۔
(مسلم، کتاب المساقاة، باب لعن أكل الربا وموكله 1598)
اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ سود کھانے اور کھلانے پر لعنت کے ساتھ سود لکھنے والے اور گواہوں پر لعنت کیوں ہے؟ نہ انھوں نے سود لیا اور نہ سود دیا۔ یاد رہے کہ اس پر لعنت سودی معاملے میں تعاون کی وجہ سے ہے اور گناہ پر تعاون حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
(المائدة: 2)
”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، زیادتی اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈر جاؤ، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔“
بینک کی چوکیداری کرنے والا شخص بھی سودی رقم کا تحفظ کر کے گناہ پر تعاون کر رہا ہے، اس لیے اس کی نوکری درست نہیں۔