مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سنن ابی داود کی روایت: سند کا ضعف اور محدثین کی تصریح

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

درج ذیل روایت کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن النبى صلى الله عليه وسلم أتي بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: ما بال هذا؟ فقيل: يا رسول الله، يتشبه بالنساء، فأمر به فنفى إلى النقيع، فقالوا: يا رسول الله، ألا نقتله؟ فقال: إني نهيت عن قتل المصلين
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مخنث کو پیش کیا گیا، جس نے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگائی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے نقیع کی طرف جلا وطن کر دیا جائے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کریں؟ فرمایا: مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
(سنن أبي داود: 4928)

جواب:

اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
➊ ابو ہاشم مجہول ہے۔
➋ ابو یسار قرشی مجہول ہے۔
❀ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أبو هاشم، وأبو يسار مجهولان، ولا يثبت الحديث
ابو ہاشم اور ابو یسار دونوں مجہول ہیں، یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
(علل الدارقطني: 11/230)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔