مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سنن ابی داؤد کی تین مرتبہ مسح کی روایت کا مفہوم

فونٹ سائز:

سوال:

سنن ابی داؤد کی روایت میں تین مرتبہ مسح کا ذکر ہے، اس کا مفہوم واضح کریں؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

1. روایت کی صحت اور ضعف:

  • اس روایت کی صحت اور ضعف کے بارے میں علماء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
  • کچھ علماء اس روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔

2. جمہور علماء کی رائے:

  • جمہور اہل علم کا فتویٰ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مسح کرنا کافی ہے۔
  • درایتی طور پر یہ بات واضح ہے کہ اگر تین مرتبہ مسح کیا جائے تو یہ مسح نہیں رہے گا بلکہ غسل کی شکل اختیار کر لے گا۔

3. شاذ روایت کا حکم:

    • یہ بیان شاذ ہے۔
    • شاذ روایت وہ ہوتی ہے جس کی سند صحیح ہو لیکن وہ قابلِ عمل نہ ہو۔
    • شاذ روایت میں ثقہ راوی دیگر ثقہ روایات سے اختلاف کرتا ہے، اور اس کی روایت جمہور کے اصول کے مطابق قابل قبول نہیں ہوتی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔