مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سنن ابن ماجہ کی اسماء اللہ سے متعلق حدیث کی سند کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 489

سوال

یہ حدیث سنن ابن ماجہ باب اسماء اللہ تعالیٰ میں مذکور ہے۔ براہ کرم اس کی سند کی وضاحت فرما دیں۔

حدیث کا متن

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله علیہ وسلم یَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ بِاِسْمِکَ الطَّاہِرِ الطَّیِّبِ الْمُبَارَکِ الْاَحَبِّ اِلَیْکَ الَّذِیْ اِذَا دُعِیْتَ بِہِ اَجَبْتَ وَاِذَا سُئِلْتَ بِہٖ اَعْطَیْتَ وَاِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِہٖ رَحِمْتَ وَاِذَا اسْتُفْرِجْتَ بِہٖ فَرَّجْتَ قَالَتْ وَقَالَ ذَاتَ یَوْمٍ یَا عَائِشَۃُ ہَلْ عَلِمْتِ اَنَّ اﷲَ قَدْ دَلَّنِیْ عَلَی الْاِسْمِ الَّذِیْ اِذَا دُعِیَ بِہٖ اَجَابَ قَالَتْ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ فَعَلِّمْنِیْہِ قَالَ اِنَّہٗ لاَ یَنْبَغِیْ لَکِ یَا عَائِشَۃُ قَالَتْ فَتَنحَّیْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَۃً ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَاْسَہٗ ثُمَّ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ عَلِّمْنِیْہِ قَالَ اِنَّہٗ لاَ یَنْبَغِیْ لَکِ یَا عَائِشَۃُ اَنْ اُعَلِّمَکِ اِنَّہٗ لاَ یَنْبَغِیْ لَکِ اَنْ تَسْاَلِیْنَ بِہٖ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا قَالَتْ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قُلْتُ (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَدْعُوْکَ اﷲَ وَاَدْعُوْکَ الرَّحْمٰنَ وَاَدْعُوْکَ الْبَرَّ الرَّحِیْمَ وَاَدْعُوْکَ بِاَسْمَآئِکَ الْحُسْنٰی کُلِّہَا مَا عَلِمْتُ مِنْہَا وَمَا لَمْ اَعْلَمْ اَنْ تَغْفِرَ لِیْ وَتَرْحَمَنِیْ) قَالَتْ فَاسْتَضْحَکَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله علیہ وسلم ثُمَّ قَالَ اِنَّہٗ لَفِیْ الْاَسْمَآئِ الَّتِیْ دَعَوْتِ بِہَا

اردو ترجمہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:

"اللّٰہُمَّ! میں تجھ سے تیرے اُس پاک، پاکیزہ، بابرکت اور تجھے سب سے زیادہ محبوب نام کے وسیلے سے سوال کرتی ہوں کہ جب تجھے اس نام کے ساتھ پکارا جائے تو تو جواب دیتا ہے، جب اس کے ساتھ مانگا جائے تو عطا کرتا ہے، جب اس کے ذریعے رحم طلب کیا جائے تو رحم کرتا ہے، اور جب اس سے مشکل کشائی چاہی جائے تو کشادگی عطا کرتا ہے۔”

ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتا دیا ہے کہ جب اس کے ذریعے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے؟”

میں نے عرض کیا: "یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، وہ نام مجھے سکھا دیجئے۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
یہ سن کر میں ہٹ گئی اور کچھ دیر بیٹھی رہی، پھر میں اٹھی اور آپ کا سر مبارک چوما اور عرض کیا: "یارسول اللہ! وہ نام مجھے بتا دیجئے۔”
آپ نے فرمایا: "اے عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں سکھاؤں، اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ تم اس نام کے وسیلے سے دنیا کی کوئی چیز مانگو۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی:

"اللّٰہُمَّ! میں تجھ کو اللہ کہہ کر پکارتا ہوں، تجھ کو رحمن کہہ کر پکارتا ہوں، تجھ کو برّ و رحیم کہہ کر پکارتا ہوں، اور تجھ کو تیرے تمام اچھے ناموں کے ساتھ پکارتا ہوں، جنہیں میں جانتی ہوں اور جنہیں نہیں جانتی، کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔”

یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:
"یقیناً اسمِ اعظم انہی ناموں میں سے ہے جن کے ساتھ تم نے دعا کی ہے۔”

— محمد یعقوب احمد

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اسناد کی وضاحت:
سنن ابن ماجہ کی یہ روایت جس کا آپ نے ذکر کیا، اس کی سند میں ابو شیبہ نامی ایک راوی موجود ہے، جو مہمل ہے۔ اصولِ حدیث کے مطابق، مہمل راوی مجہول شمار ہوتا ہے، جب تک کسی ثقہ راوی کے ساتھ اس کی تعیین ثابت نہ ہو۔

شیخ البانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب ضعیف ابن ماجہ میں شامل کیا ہے۔

واللہ اعلم

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔