سننِ مؤکدہ اور فجر کی سنن کی فضیلت و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سنن کی فضیلت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من عبد مسلم يصلي لله كل يوم اثنتي عشرة ركعة تطوعا غير فريضة إلا بنى الله له بيتا فى الجنة
جو مسلمان بندہ ہر روز اللہ کے لیے فرض کے علاوہ بارہ رکعات نفل ادا کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل السنن الراتبة: 728/103]
ان کی تفصیل سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء فيمن صلى في يوم: 415۔ صحیح]
❀نماز عصر سے قبل چار رکعت سنت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رحم الله امرأ صلى قبل العصر أربعا
اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے۔
[ابو داؤد، کتاب صلاة التطوع، باب الصلاة قبل العصر: 1271۔ ترمذی: 430۔ حسن]
❀نماز مغرب سے پہلے دو رکعات نفل پڑھنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلوا قبل صلاة المغرب ركعتين قال فى الثالثة: لمن شاء
نماز مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھو اور تیسری مرتبہ فرمایا: جس کا دل چاہے پڑھے۔
[بخاری، کتاب التهجد، باب الصلاة قبل المغرب: 1183۔ ابو داؤد: 1281]
عشاء سے پہلے وقت ہو تو نفل نماز پڑھنی چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بين كل أذانين صلاة، بين كل أذانين صلاة ثم قال فى الثالثة: لمن شاء
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھنی چاہیے، ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھنی چاہیے پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو چاہے پڑھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب بين كل أذانين صلاة لمن شاء: 627۔ مسلم: 1940]

سنن کے مسائل:

❀ سنن دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الليل والنهار مثنى مثنى
رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعات ہے۔
[ابو داؤد، کتاب صلاة التطوع، باب صلاة النهار: 1295۔ نسائی: 1666۔ ابن ماجه: 1322۔ صحیح]
ابو داؤد (1270) کی جس روایت میں چار رکعتیں ایک سلام سے پڑھنے کا ذکر ہے اسے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے، لہذا سنن دو دو کر کے پڑھنا ہی افضل ہے۔
سنن گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإن أفضل الصلاة صلاة المرء فى بيته إلا المكتوبة
بلاشبہ آدمی کی افضل نماز گھر میں پڑھی جانے والی ہے، سوائے فرض نماز کے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب صلاة الليل: 731۔ مسلم: 781]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد والی سنن کی پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھا کرتے تھے۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الركعتين: 431]

فجر کی سنن کی فضیلت و اہمیت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فجر کی دو سنتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے افضل ہیں۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر: 725]
❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نمازوں میں سب سے زیادہ اہتمام فجر کی سنن کا فرماتے تھے۔
[بخاری، کتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر: 1169۔ مسلم: 724/94]
❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعات سنن سفر اور حضر میں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔
[بخاری، کتاب التهجد، باب المداومة على ركعتي الفجر: 1159]

فجر کی سنن پڑھنے کا طریقہ:

❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے پہلے دو رکعات بالکل ہلکی پڑھتے تھے۔
[بخاری، کتاب التهجد، باب ما يقرأ في ركعتي الفجر: 1170۔ مسلم: 724/92]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب ركعتي سنة الفجر: 726]

فجر کی سنن کے بعد لیٹنا:

❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے۔
[بخاری، کتاب التهجد، باب الضجعة على الشق الأيمن بعد ركعتي الفجر: 1160۔ مسلم: 1718]

جماعت کے دوران میں سنن پڑھنا:

❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
جب نماز کے لیے جماعت کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض نماز کے کوئی نماز نہیں ہوتی۔
[مسلم، کتاب المسافرين، باب كراهة الشروع في نافلة: 710، 712]
یعنی جماعت کے دوران میں پڑھی گئی سنن مقبول نہیں ہوں گی۔
❀فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو بھی سنن نہیں پڑھنی چاہییں۔ مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، جبکہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی اور وہ ابھی فجر سے پہلے والی دو رکعات پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ کہا لیکن ہمیں علم نہ ہوا کہ کیا کہا ہے؟ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا اور پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگ جائے۔
[مسند أحمد: 23455، حدیث: 22991۔ بخاری: 663۔ مسلم: 711]
❀سنتوں کے دوران میں جماعت کھڑی ہو جائے تو سنن چھوڑ دیں۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ صبح کی نماز کی اقامت ہو گئی اور ایک آدمی کھڑا فجر کی سنن پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے کپڑوں سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: کیا تو صبح کی چار رکعات پڑھے گا؟
[مسند أحمد: 1/238، حدیث: 2130۔ حسن]
جماعت کھڑی ہوتی ہے اور بعض بھائی آ کر سنن ادا کرنے لگ جاتے ہیں کہ ان کے نزدیک سنن کی اہمیت ہے، لیکن فرض اور جماعت کی کوئی اہمیت ہی نہیں اور بعض اوقات ان کی رکعت بھی نکل جاتی ہے۔

فجر کی سنن کی قضا:

نماز فجر قضا ہو جائے تو بھی پہلے سنتیں ادا کی جائیں، پھر فرض ادا کیے جائیں۔ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فجر قضا ہو گئی کہ سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سنن پڑھیں، پھر فجر کی جماعت کروائی۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة: 681۔ بخاری: 595]
❀اگر فجر کی سنتیں جماعت سے پہلے نہ پڑھ سکیں تو فرضوں کے بعد پڑھی جا سکتی ہیں۔ سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور اقامت ہو گئی تھی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے لگا ہوں تو فرمایا: اے قیس! کیا دو نمازیں اکٹھی پڑھنے لگے ہو؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھیں (وہ پڑھنے لگا ہوں)۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب کوئی حرج نہیں۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء فيمن تفوته الركعتان: 422۔ ابو داؤد: 1267۔ صحیح]
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں یہ فجر کی جماعت کھڑی ہو جاتی تو سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔
❀اگر فجر کی سنتیں ادا کرنے کا وقت نہ ملے تو وہ طلوع آفتاب کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فجر کی سنن کی قضا طلوع آفتاب کے بعد ہی کی جا سکتی ہے، طلوع آفتاب سے پہلے پڑھنا جائز نہیں اور وہ اس کی دلیل میں جو روایت پیش کرتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے، پھر وہ قتادہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف بھی ہے۔
وہ دوسری دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں آئے، جماعت کھڑی ہو چکی تھی اور انھوں نے ابھی تک فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں، تو وہ جماعت میں شامل ہو گئے، پھر وہ اپنی جگہ بیٹھے رہے، جب سورج طلوع ہو گیا تو انھوں نے فجر کی سنتیں پڑھیں۔ لیکن یہ روایت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ فجر کی سنتیں قضا ہو جائیں تو طلوع آفتاب سے پہلے نہیں پڑھنی چاہییں، یا لازمی طور پر طلوع آفتاب کے بعد ادا کرنی چاہییں اور اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کھڑی ہو تو سنتیں ادا کرنا درست نہیں، بلکہ جماعت کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، جبکہ ہمارے بھائی اس مسئلے پر عمل کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتیں فجر کی قضا سنتیں طلوع آفتاب سے پہلے ادا کرنے کی مخالف نہیں ہیں، لہذا فجر کی سنتیں قضا ہونے کی صورت میں انھیں وقت ملتے ہی فوراً ادا کرنا چاہیے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾