سمندری جانداروں کی حلت و حرمت کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال:

مضمون کے اہم نکات

کیا سمندر کا ہر جاندار (زندہ یا مردار) حلال ہے؟

جواب از فضیلۃ الباحث کامران الٰہی ظہیر حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سمندری جانوروں کا اصولی حکم:

سمندر کے وہ جانور جو فطرتاً پانی میں رہتے ہیں، اصولی طور پر حلال ہیں۔

حدیث کا حوالہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔”
[سنن ابو داؤد: 83]
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے “صحیح ابو داؤد” میں صحیح قرار دیا ہے۔

قاعدہ کلیہ:

سمندری جانوروں کے حوالے سے عمومی اصول یہ ہے کہ:

  • جو جانور صرف پانی میں رہتے ہیں، انہیں کھانا جائز ہے۔
  • جو جانور خشکی اور پانی دونوں میں رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ سب حلال نہیں ہیں۔

حرام جانوروں کا ذکر:

  • وہ جانور جنہیں قتل کرنے کا حکم ہے، حرام ہیں۔
  • پنجوں یا کچیلوں سے شکار کرنے والے جانور بھی حرام ہیں۔

سمندری مخلوق:

سمندر کی مخلوق ان ممنوعہ زمروں سے الگ ہے اور عمومی طور پر حلال قرار دی گئی ہے۔