سلمان رشدی کی کتاب پر فتویٰ اور علما کی رائے

ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 548

سوال

سلمان رشدی اور اس کی کتاب کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میں نے اس کی کتاب مکمل طور پر نہیں پڑھی، لیکن مختلف رسائل و جرائد میں اس کے کچھ اقتباسات دیکھے ہیں، جیسے الاعتصام وغیرہ میں۔ اس خبیث شخص نے شانِ رسالت، قرآن، اسلام اور اہلِ اسلام کے بارے میں جو گستاخانہ اور بےہودہ کلمات لکھے ہیں، وہ کسی بھی اللہ سے ڈرنے والے انسان کے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔

اللہ کی قسم! اس کی اس گھناؤنی حرکت کے مقابلے میں ہمیں متحد ہونا چاہیے، دینی حمیت اور غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اور ہر ممکن طریقے سے اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ اس کی خبیث حرکت کو عام کیا جائے تاکہ اس کا مؤثر سدباب کیا جاسکے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️