صفاتِ باری تعالیٰ اور سلف صالحین
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
قد أثنى الله تبارك وتعالى على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في القرآن والتوراة والإنجيل، وسبق لهم على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم، من الفضل ما ليس لأحد بعدهم، فرحمهم الله وهناهم بما آتاهم من ذلك ببلوغ أعلى منازل الصديقين والشهداء والصالحين، هم أدوا إلينا سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وشاهدوه والوحي ينزل عليه، فعلموا ما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم عاما وخاصا، وعزما وإرشادا وعرفوا من سنته ما عرفنا وجهلنا، وهم فوقنا في كل علم واجتهاد، وورع وعقل، وأمر استدرك به علم واستنبط به وآراؤهم لنا أحمد وأولى بنا من آرائنا عندنا لأنفسنا.
اللہ نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و ستائش قرآنِ کریم، تورات اور انجیل میں فرمائی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی انھیں ایسی خیر سے نوازا ہے، جو بعد والوں کو نصیب نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی خاص رحمت نازل کرے اور صدیقین، شہدا اور صالحین کے اعلیٰ مراتب پر فائز کرے۔ یہ تو وہ ہستیاں ہیں، جنھوں نے ہم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنتیں پہنچائیں، براہِ راست نزولِ وحی کا مشاہدہ کیا۔ جن عام، خاص، فرض، مستحب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا، ان کا علم حاصل کیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے واقف تھے، جن سے ہم واقف ہیں اور ہم بعض سے نا آشنا بھی ہیں۔ وہ ہم سے علم، اجتہاد، تقویٰ و ورع، عقل اور ہر فقہی و اجتہادی مسئلہ میں فوقیت رکھتے ہیں۔ ہماری اپنی آراء ہمارے لیے اس قدر بہتر نہیں، جس قدر ان کی آراء ہمارے لیے قابلِ ستائش اور اَولیٰ ہیں۔
(مناقب الشافعي للبيهقي 442/1)
شیخ الاسلام، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں:
كل قول ينفرد به المتأخر عن المتقدمين ولم يسبقه إليه أحد منهم فإنه يكون خطأ، كما قال الإمام أحمد بن حنبل: إياك أن تتكلم في مسألة ليس لك فيها إمام.
متاخرین کا ہر وہ قول، جو متقدمین سے منفرد ہو، سلف صالحین میں سے کسی نے وہ بات نہ کہی ہو، تو وہ خطا ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے (اپنے شاگرد میمونی رحمہ اللہ کو نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا: ایسے مسئلہ میں گفتگو مت کریں، جس میں آپ کا کوئی (سلف میں) امام نہ ہو۔
(مجموع الفتاوى: 291/21)
شیخ الاسلام ثانی، علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (751ھ) لکھتے ہیں:
ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصحيح من وجوه متعددة أنه قال: خير القرون القرن الذي بعثت فيهم، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن القرون قرنه مطلقا، وذلك يقتضي تقديمهم في كل باب من أبواب الخير، إلا لو كانوا خيرا من بعض الوجوه، فلا يكونون خير القرون مطلقا، فلو جاز أن يخطئ الرجل منهم في حكم وسائرهم لم يفتوا بالصواب، وإنما ظفر بالصواب من بعدهم، وأخطأوا هم، لزم أن يكون ذلك القرن خيرا منهم من ذلك الوجه، لأن القرن المشتمل على الصواب خير من القرن المشتمل على الخطأ في ذلك الفن، ثم هذا يتعدد في مسائل عديدة؛ لأن من يقول: قول الصحابي ليس بحجة، يجوز عنده أن يكون من بعدهم أصاب في كل مسألة قال فيها الصحابي قولا، ولم يخالفه صحابي آخر، وفات هذا الصواب الصحابة، ومعلوم أن هذا يأتي في مسائل كثيرة تفوق العد والإحصاء، فكيف يكونون خيرا ممن بعدهم وقد امتاز القرن الذي بعدهم بالصواب فيما يفوق العد والإحصاء مما أخطأوا فيه؟ ومعلوم أن فضيلة العلم ومعرفة الصواب أكمل الفضائل، وأشرفها، فيا سبحان الله، أي وصمة أعظم من أن يكون الصديق أو الفاروق أو عثمان أو علي أو ابن مسعود أو سلمان الفارسي أو عبادة بن الصامت، وأضرابهم رضي الله عنهم، قد أخبر عن حكم الله أنه كيت وكيت في مسائل كثيرة، وأخطأ في ذلك، ولم يشتمل قرنهم على ناطق بالصواب في تلك المسائل حتى تبع من بعدهم فعرفوا حكم الله الذي جهله أولئك السادة، وأصابوا الحق الذي أخطأه أولئك الأئمة؟ سبحانك هذا بهتان عظيم.
کئی طرق سے ثابت صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: سب سے بہترین لوگوں کا زمانہ وہ ہے، جن میں میں مبعوث ہوا ہوں، پھر بعد والے، پھر ان کے بعد والے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باخبر کیا ہے کہ ان کا زمانہ مطلقاً سب سے بہترین ہے۔ اس حدیث کا تقاضا ہے کہ آپ کے زمانے کے لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) خیر کے ہر کام میں مقدم ہیں، اور اگر صحابہ کرام کا بہتر ہونا صرف چند امور میں ہوتا، تو وہ مطلقاً خیر القرون نہ ہوتے۔ اگر ایسا ممکن ہو کہ کسی صحابی نے کسی مسئلہ میں فتویٰ دیتے ہوئے غلطی کھائی، دوسرے صحابہ نے درست فتویٰ بھی نہ دیا اور بعد میں آنے والا درستی پالے اور صحابہ کرام کو غلط ثابت کر دے، تو اس سے لازم آتا ہے کہ اس مسئلہ میں بعد والا زمانہ بہترین ہے، کیوں کہ جس زمانے میں درست بات ہوئی ہے، وہ اس فن میں خطا والے زمانے سے افضل اور برتر ہے۔ یوں کئی مسائل میں بعد والا زمانہ افضل ٹھہرے گا، کیوں کہ قولِ صحابی کو حجت نہ ماننے والوں کے نزدیک جائز ٹھہرے گا کہ بعد والوں کا قول ہر اس مسئلہ میں درست ہے، جس میں کسی صحابی نے فتویٰ دیا ہو اور کسی دوسرے صحابی نے نکیر نہ فرمائی ہو، نیز یہ لازم آئے گا کہ درست بات صحابہ سے چوک گئی۔ یہ بات تو طے ہے کہ ایسا بے شمار مسائل میں ہوا ہے۔ تو صحابہ کرام بعد والوں سے افضل کیسے؟ جب کہ بعد والے بے شمار مسائل میں درست ہیں، جن میں صحابہ غلطی کھا گئے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ علم و معرفت کی فضیلت اکمل اور اشرف فضیلت ہے۔ تعجب ہے! اس سے بڑی رسوائی کیا ہو سکتی ہے کہ صدیق، فاروق، عثمان، علی، ابن مسعود، سلمان فارسی، عبادہ بن صامت یا دیگر صحابہ کرام میں سے کوئی حکمِ الٰہی کے متعلق خبر دے کہ یہ ایسے ایسے ہے، تو بے شمار مسائل میں خطا کا مرتکب ٹھہرے اور ان مسائل میں ان کا زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی صواب نہ ہو، حتیٰ کہ ہمیں ان کے بعد ایسے لوگ ملیں، جو حکمِ الٰہی کی اس حقیقت کو پہچان جائیں، جس سے صحابہ کی سعادت مند جماعت نا آشنا رہ گئی اور بعد والے ان مسائل میں درستی کو پالیں، جن میں یہ ائمہ ہدیٰ خطا کا شکار ہو گئے۔
سبحانك هذا بهتان عظيم.
(إعلام الموقعين عن رب العالمين: 77/4-78)
علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) لکھتے ہیں:
أن يتحرى كتب المتقدمين من أهل العلم المراد، فإنهم أقعد به من غيرهم من المتأخرين، وأصل ذلك التجربة والخبر. أما التجربة، فهو أمر مشاهد في أي علم كان، فالمتأخر لا يبلغ من الرسوخ في علم ما يبلغه المتقدم، وحسبك من ذلك أهل كل علم عملي أو نظري، فأعمال المتقدمين في إصلاح دنياهم ودينهم على خلاف أعمال المتأخرين، وعلومهم في التحقيق أقعد، فتحقق الصحابة بعلوم الشريعة ليس كتحقق التابعين، والتابعون ليسوا كتابعيهم، وهكذا إلى الآن، ومن طالع سيرهم، وأقوالهم، وحكاياتهم؛ أبصر العجب في هذا المعنى. وأما الخبر، ففي الحديث: «خير القرون قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم»، وفي هذا إشارة إلى أن كل قرن مع ما بعده كذلك.
(طالب علم کو) اہلِ علم متقدمین کی کتب کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے، کیوں کہ متقدمین کا علم بہ نسبت متاخرین اہلِ علم کے زیادہ گہرا ہے۔ اس کی دلیل تجربہ اور حدیث ہے۔
تجربہ: علم کے ہر میدان میں یہ بات طشت از بام ہے، کیوں کہ متاخر علمی رسوخ کے اس مرتبہ تک نہیں پہنچ سکے، جہاں تک متقدم پہنچ گئے تھے۔ میدانِ علم کا ہو یا عمل کا، آپ کو متقدمین ہی کافی ہیں۔ دین و دنیا کی اصلاح میں متقدمین کے کارنامے متاخرین سے ہٹ کر ہیں اور تحقیق میں ان کے علوم و فنون سمندر کی گہرائی رکھتے ہیں۔ صحابہ کرام کی شرعی علوم میں تحقیق تابعین کی تحقیق کی طرح نہیں ہے، تابعین کی اتباع تابعین کی تحقیق کی طرح نہیں ہے اور اسی طرح آج تک۔ جو ان کی سیرت، اقوال اور واقعات کا مطالعہ کر لے، وہ تعجب کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
حدیث: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر بعد والوں کا، پھر ان کے بعد والوں کا۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ہر زمانے کی اپنے سے بعد والے زمانے کے ساتھ یہی نسبت ہوگی۔
(الموافقات: 74/1)
نیز فرماتے ہیں:
الحذر الحذر من مخالفة الأولين، فلو كان ثم فضل ما لكان الأولون أحق به.
پہلوں کی مخالفت سے مجتنب رہے، کیونکہ ہر خیر کے اول مصداق سلف ہیں۔
(الموافقات: 65/5)
علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) لکھتے ہیں:
قد ابتلينا بجهلة من الناس يعتقدون في بعض من توسع في القول من المتأخرين أنه أعلم ممن تقدم، فمنهم من يظن في شخص أنه أعلم من كل من تقدم من الصحابة ومن بعدهم لكثرة بيانه ومقاله، ومنهم من يقول: هو أعلم من الفقهاء المشهورين المتبوعين، وهذا يلزم منه ما قبله، لأن هؤلاء الفقهاء المشهورين المتبوعين أكثر قولا ممن كان قبلهم، فإذا كان من بعدهم أعلم منهم لاتساع قوله: كان أعلم ممن كان أقل منهم قولا بطريق الأولى، كالثوري والأوزاعي والليث، وابن المبارك، وطبقتهم، وممن قبلهم من التابعين والصحابة أيضا، فإن هؤلاء كلهم أقل كلاما ممن جاء بعدهم، وهذا تنقص عظيم بالسلف الصالح، وإساءة ظن بهم، ونسبته لهم إلى الجهل وقصور العلم، ولا حول ولا قوة إلا بالله، ولقد صدق ابن مسعود في قوله في الصحابة أنهم أبر الأمة قلوبا، وأعمقها علوما، وأقلها تكلفا، وروي نحوه عن ابن عمر أيضا، وفي هذا إشارة إلى أن من بعدهم أقل علوما وأكثر تكلفا، وقال ابن مسعود أيضا: إنكم في زمان كثير علماؤه قليل خطباؤه، وسيأتي بعدكم زمان قليل علماؤه كثير خطباؤه، فمن كثر علمه وقل قوله فهو الممدوح، ومن كان بالعكس فهو مذموم.
ہمارا پالا ایسے جاہلوں سے پڑا ہے کہ جو بعض لمبی لمبی گفتگو کرنے والے متاخرین کو متقدمین سے افضل گردانتے ہیں۔ پھر ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ متاخر کثرتِ کلام اور وضاحت کی بنا پر مطلقاً متقدمین صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بڑا عالم ہے، بعض اسے مشہور متبوع ائمہ کرام سے بڑا عالم قرار دیتے ہیں۔ اس سے پہلی بات ہی لازم آتی ہے، کیوں کہ متبوع ائمہ کی گفتگو پہلوں سے نسبتاً طویل ہے۔ اس قول کا تقاضا یہ ہے کہ جب متاخرین ائمہ متبوعین سے اعلم ہیں، تو اپنے جیسے مختصر گفتگو کرنے والوں سے بطریقِ اَولیٰ اعلم ٹھہریں گے، جیسے ائمہ کرام سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ اور ان کے طبقے کے دیگر محدثین کرام۔ اسی طرح ان سے پہلے صحابہ کرام اور تابعین عظام بھی۔ یہ سب ہستیاں متاخرین کی بہ نسبت مختصر (اور جامع) کلام کرتی تھیں۔ اس قول سے سلف صالحین کی شان میں تنقیص، سوء ظنی، جہالت اور کم علمی لازم آتی ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ! سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا تھا: “صحابہ کرام امت میں سب سے زیادہ نیک دل، گہرا علم رکھنے والے اور بے تکلف ہیں۔” تقریباً اسی طرح کی بات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ اس اثر سے ثابت ہوتا ہے کہ متاخرین میں علم کم اور تکلف زیادہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں: “آپ ایسے زمانے میں ہیں کہ جس میں علما زیادہ اور خطبا کم ہیں، آپ کے بعد ایسا زمانہ آنے والا ہے، جس میں علما کم اور خطبا زیادہ ہوں گے۔ لہٰذا جس کی گفتگو علمی اور مختصر ہو گی وہ تو قابلِ ستائش ہے اور جس کی ایسی نہ ہوئی، وہ مذموم ہے۔”
(بیان فضل علم السلف على الخلف، ص 4-5)