مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سلام کے جواب کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

سلام کے جواب کا کیا حکم ہے؟

جواب :

سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾
(النساء : 86)
” جب تمہیں سلام کہا جائے ، تو اس سے بہتر جواب لوٹا ؤ، یا (کم از کم ) اس جیسا۔“
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774 ھ) فرماتے ہیں:
قول العلماء قاطبة : أن الرد واجب على من سلم عليه، فيأثم إن لم يفعل؛ لأنه خالف أمر الله .
”تمام علما کا کہنا ہے کہ سلام کا لوٹانا واجب ہے، اگر وہ سلام کا جواب نہیں دے گا، تو گناہ گار ٹھہرے گا، کیونکہ اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی ہے۔“
(تفسير ابن كثير : 370/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔