سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

اس تحقیقی مضمون کا مقصد یہ ہے کہ امام سفیان بن سعید الثوریؒ (م 161ھ) کی تدلیس کے بارے میں محدثین کے اقوال کو جمع کیا جائے۔ جمہور محدثین نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ سفیان ثوری کبھی کبھار تدلیس کرتے تھے اور بعض اوقات ضعیف یا مجہول راویوں سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی معنعن روایت سماع کی تصریح یا معتبر متابعت کے بغیر حجت نہیں۔
یہ بات صرف چند افراد کی نہیں بلکہ 30 ائمہ حدیث نے صراحت کے ساتھ بیان کی ہے۔ علاوہ ازیں بعض غیرمحدثین (دیوبندی اور بریلوی اکابر) نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔

ائمہ و محدثین کی تصریحات

سفیان ثوری کا اپنا اعتراف

قَالَ وَنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ فِي الْمُرْتَدَّةِ فَقَالَ: أَمَّا مِنْ ثِقَةٍ.
(الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة، ص 148)

📌 ترجمہ:
عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے عاصم کی روایت (مرتدہ کے بارے میں) کے متعلق سوال کیا، تو سفیان نے فرمایا: "یہ ثقہ سے نہیں ہے۔”

مزید روایت:

3459 – نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , نا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ قَالَ: «تُسْتَحْيَا».
(سنن الدارقطني 3/112)

حافظ ذہبی (م 748ھ):

82 – سُفْيَانُ بنُ سَعِيْدِ بنِ مَسْرُوْقٍ الثَّوْرِيُّ … وَكَانَ يُدَلِّسُ فِي رِوَايَتِهِ، وَرُبَّمَا دَلَّسَ عَنِ الضُّعَفَاءِ.
(سير أعلام النبلاء 7/229)

📌 ترجمہ:
امام سفیان ثوری اپنی روایات میں تدلیس کرتے تھے اور کبھی کبھار ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کر لیتے تھے۔

علی بن المدینی (م 234ھ):

قَالَ عَلِيٌّ: وَالنَّاسُ يَحْتَاجُونَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ إِلَى يَحْيَى الْقَطَّانِ لِحَالِ الْإِخْبَارِ، يَعْنِي أَنَّ سُفْيَانَ كَانَ يُدَلِّسُ، وَأَنَّ يَحْيَى الْقَطَّانَ كَانَ يُوقِفُهُ عَلَى مَا سَمِعَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعْ.
(الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي 1/364)

📌 ترجمہ:
علی بن مدینی فرماتے ہیں: لوگ سفیان کی حدیث میں یحییٰ القطان کے محتاج تھے کیونکہ سفیان تدلیس کرتے تھے، جبکہ یحییٰ القطان ان کی صرف وہی روایات بیان کرتے جن میں سماع کی صراحت ہوتی۔

یحییٰ بن سعید القطان (م 198ھ):

قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مَا كَتَبْتُ عَنْ سُفْيَانَ شَيْئًا إِلَّا قَالَ "حَدَّثَنِي” أَوْ "حَدَّثَنَا” إِلَّا حَدِيثَيْنِ.
(العلل ومعرفة الرجال لابن أبي حاتم 2/37)

📌 ترجمہ:
یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: میں نے سفیان سے صرف وہی روایت لکھی جس میں انہوں نے "حدثنی” یا "حدثنا” کہا، سوائے دو حدیثوں کے۔

حافظ ابن حبان (م 354ھ):

وأما المدلسون الذين هم ثقات وعدول فإنا لا نحتج بأخبارهم إلا ما بينوا السماع فيما رووا مثل الثوري والأعمش وأبي إسحاق وأضرابهم…
(الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان 1/161)

📌 ترجمہ:
مدلسین اگرچہ ثقہ اور عادل ہوں، تب بھی ہم ان کی صرف انہی روایات کو حجت مانتے ہیں جن میں وہ سماع کی تصریح کریں، مثلاً: ثوری، اعمش، ابو اسحاق وغیرہ۔

حاکم نیشاپوری (م 405ھ):

…فَمِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، رَوَى عَنْ أَبِي هَمَّامٍ السَّكُونِيِّ، وَأَبِي مِسْكِينٍ، وَأَبِي خَالِدٍ الطَّائِيِّ، وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْمَجْهُولِينَ…
(معرفة علوم الحديث ص 104)

📌 ترجمہ:
سفیان ثوری ان ائمہ میں سے ہیں جو مجہول راویوں سے بھی تدلیس کرتے تھے، جیسے ابو ہمام سکونی، ابو مسکین اور ابو خالد طائی وغیرہ۔

ابو حاتم الرازی (م 277ھ):

2255 – سَأَلْتُ أَبِي عَنْ حَدِيثٍ رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللهُ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً؟
قَالَ أَبِي: إِنَّمَا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ الْمَسْعُودِيُّ، وَالرَّبِيعُ بْنُ الرُّكَيْنِ، وَأَبُو وَكِيعٍ، وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَإِنَّهُ لَا يُسْنِدُهُ إِلَّا الْفِرْيَابِيُّ، وَلَا أَظُنُّ الثَّوْرِيَّ سَمِعَهُ مِنْ قَيْسٍ؛ أَرَاهُ مُدَلَّسًا.
(العلل لابن أبي حاتم 2255)

📌 ترجمہ:
ابو حاتم فرماتے ہیں: مجھے نہیں لگتا کہ یہ حدیث سفیان نے قیس سے سنی ہے، بلکہ میں اسے مدلس سمجھتا ہوں۔

ہشیم بن بشیر → ابن المبارک:

قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: قُلْتُ لِهُشَيْمٍ: مَا لَكَ تُدَلِّسُ وَقَدْ سَمِعْتَ كَثِيرًا؟
قَالَ: كَانَ كَبِيرَاكَ يُدَلِّسَانِ: الْأَعْمَشُ وَالثَّوْرِيُّ.
(التمهيد لابن عبد البر 1/28)

📌 ترجمہ:
ابن المبارک نے ہشیم سے کہا: تم کیوں تدلیس کرتے ہو حالانکہ بہت کچھ سن رکھا ہے؟ ہشیم نے جواب دیا: تمہارے بڑے (اساتذہ) بھی تدلیس کرتے تھے: اعمش اور ثوری۔

امام نووی (م 676ھ):

…أَنَّ سُفْيَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْمُدَلِّسِينَ … وَالْمُدَلِّسُ لَا يُحْتَجُّ بِعَنْعَنَتِهِ بِالِاتِّفَاقِ إِلَّا إِذَا ثَبَتَ سَمَاعُهُ.
(شرح صحيح مسلم للنووي 1/27)

📌 ترجمہ:
امام نووی فرماتے ہیں: سفیان ثوری مدلسین میں سے ہیں، اور مدلس کی عن والی روایت بالاتفاق حجت نہیں جب تک کہ سماع کی تصریح ثابت نہ ہو۔

یحییٰ بن معین (م 233ھ):

سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ … قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ مِنَ الثَّوْرِيِّ وَكَانَ يُدَلِّسُ.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 4/145)

📌 ترجمہ:
یحییٰ بن معین نے فرمایا: ابواسحاق کی حدیث کے بارے میں سب سے زیادہ علم سفیان کو تھا، لیکن وہ تدلیس کرتے تھے۔

امام بخاری (م 256ھ):

قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَعْرِفُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَلَا عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَلَا عَنْ مَنْصُورٍ… مَا أَقَلَّ تَدْلِيسَهُ.
(علل الترمذي الكبير 2/976)

📌 ترجمہ:
امام بخاری نے کہا: میں نہیں جانتا کہ سفیان نے حبیب بن ابی ثابت، سلمہ بن کہیل یا منصور سے (سماعا) روایت کی ہو۔ وہ ان سے تدلیس کرتے تھے، البتہ بہت کم۔

ابوبکر نیشاپوری (م 319ھ):

إن حديث ابن عباس لا يصح لأن الثوري دلسه.
(الأوسط لابن المنذر 5/147)

📌 ترجمہ:
ابوبکر نیشاپوری نے کہا: ابن عباس کی حدیث صحیح نہیں کیونکہ اس میں سفیان نے تدلیس کی ہے۔

ابو عاصم الضحاک بن مخلد (م 212ھ):

نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ …
قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: نَرَى أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ إِنَّمَا دَلَّسَهُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، فَكَتَبْتُهُمَا جَمِيعًا.
(سنن الدارقطني 3459)

📌 ترجمہ:
ابو عاصم نے فرمایا: ہمارا خیال ہے کہ سفیان ثوری نے یہ روایت ابو حنیفہ سے تدلیس کی ہے۔

امام نسائی (م 303ھ):

…والثوري.
(ذكر المدلسين للنسائي ص 85)

📌 ترجمہ:
امام نسائی نے سفیان ثوری کو مدلسین کی فہرست میں ذکر کیا اور فرمایا کہ ان کا عنعنہ مضر ہوتا ہے، جیسے قتادہ، مغیرہ، حجاج بن أرطاۃ وغیرہ۔

زین الدین العراقی (م 806ھ):

21 ـ ع: سفيان بن سعيد الثوري مشهور بالتدليس.
(المدلسين للعراقي ص 34)

📌 ترجمہ:
سفیان بن سعید الثوری تدلیس کے لیے مشہور ہیں۔

ابو محمد المقدسی (م 765ھ):

…الثوري ثقة حافظ، إلا أنه كان يدلس أحيانًا.
(قصيدة أبي محمود المقدسي ص 44)

📌 ترجمہ:
سفیان ثوری ثقہ اور حافظ ہیں لیکن کبھی کبھار تدلیس بھی کرتے تھے۔

جلال الدین سیوطی (م 911ھ):

18- سفيان الثوري مشهور به [بالتدليس].
(أسماء المدلسين للسيـوطي ص 52)

📌 ترجمہ:
سیوطی نے بھی تصریح کی کہ سفیان ثوری مدلسین میں شامل اور تدلیس کے مشہور ہیں۔

ابن رجب الحنبلی (م 795ھ):

وقد كان الثوري وغيره يدلسون عمن لم يسمعوا منه أيضاً.
(شرح علل الترمذي 1/186)

📌 ترجمہ:
سفیان ثوری اور دیگر بعض لوگ ان راویوں سے بھی تدلیس کرتے تھے جن سے انہوں نے سماع نہیں کیا ہوتا تھا۔

ابو نعیم فضل بن دکین (م 218ھ):

قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ يَقُولُ: كَانَ سُفْيَانُ إِذَا تَحَدَّثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ بِمَا سَمِعَ، يَقُولُ: "حَدَّثَنَا” وَ”أَخْبَرَنَا”. وَإِذَا دَلَّسَ عَنْهُ، يَقُولُ: "قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ”.
(تاريخ أبي زرعة الدمشقي 1/541)

📌 ترجمہ:
ابو نعیم نے کہا: جب سفیان عمرو بن مرہ سے سنی ہوئی حدیث بیان کرتے تو "حدثنا” اور "أخبرنا” کہتے۔ لیکن جب تدلیس کرتے تو صرف "قال عمرو بن مرہ” کہہ دیتے۔

علی بن الجعد (م 230ھ):

قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: "أَخْبَرَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ” … ثُمَّ قَالَ: "هُوَ عُبَيْدَةُ”، كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُسَمِّيهِ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.”
(سؤالات البرذعي لأبي زرعة ص 903)

📌 ترجمہ:
علی بن الجعد نے فرمایا: میں نے سفیان کو کہتے سنا "ہمیں اہل کوفہ کے ایک شیخ نے خبر دی”۔ پوچھا گیا وہ کون؟ کہا "عبیدہ”۔ گویا وہ اس کا نام ظاہر کرنے میں جھجک رہے تھے کیونکہ وہ زیادہ قوی راوی نہ تھا۔

خطیب بغدادی (م 463ھ):

وَكَانَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَبَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ يَفْعَلُونَ مِثْلَ هَذَا.
(الكفاية في علم الرواية ص 364)

📌 ترجمہ:
خطيب بغدادی نے کہا: سلیمان الاعمش، سفیان الثوری اور بقیہ بن الولید ایسا کرتے تھے کہ سند سے بعض کمزور یا مجہول راویوں کو حذف کر دیتے۔

امام دارقطنی (م 385ھ):

فَدَلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ الثَّوْرِيَّ دَلَّسَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
(العلل للدارقطني 13/273)

📌 ترجمہ:
دارقطنی نے کہا: یہ اس بات پر دلیل ہے کہ ثوری نے یہ روایت ابن عیینہ سے تدلیس کی ہے۔

عبد اللہ بن المبارک (م 181ھ):

سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: حَدَّثْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ بِحَدِيثٍ، ثُمَّ جِئْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا هُوَ يُدَلِّسُهُ عَنِّي، فَلَمَّا رَآنِي اسْتَحْيَا فَقَالَ: نَرْوِي عَنْكَ، نَرْوِي عَنْكَ.
(الكامل لابن عدي 3/465)

📌 ترجمہ:
ابن المبارک نے فرمایا: میں نے سفیان کو ایک حدیث سنائی۔ بعد میں جب آیا تو وہی حدیث میری طرف منسوب کر کے تدلیس کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر شرمندہ ہوگئے اور کہنے لگے: "ہم آپ ہی سے روایت کر رہے ہیں”۔

حافظ صلاح الدین العلائی (م 761ھ):

والثالثُ: من يُدَلِّسُ عَنْ أَقْوَامٍ مَجْهُولِينَ لَا يُدْرَى مَنْ هُمْ، كَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
(جامع التحصيل ص 112)

📌 ترجمہ:
تیسرے طبقے میں وہ لوگ ہیں جو مجہول افراد سے تدلیس کرتے تھے، جیسے سفیان ثوری۔

ابن الملقن (م 804ھ):

وَالْأَعْمَشُ، وَالسُّفْيَانَانِ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ وَغَيْرُهُمْ… وَهَذَا لِأَنَّ التَّدْلِيسَ لَيْسَ كَذِبًا، وَإِنَّمَا هُوَ ضَرْبٌ مِنَ الْإِيهَامِ… وَالْحُكْمُ أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنَ الْمُدَلِّسِ حَتَّى يُبَيِّنَ.
(المقنع في علوم الحديث ص 108)

📌 ترجمہ:
اعمش، دونوں سفیان (یعنی ثوری و ابن عیینہ)، ہشیم بن بشیر وغیرہ تدلیس کرتے تھے۔ تدلیس جھوٹ تو نہیں، لیکن ایک طرح کا وہم ڈالنا ہے۔ اس لیے مدلس کی روایت صرف اسی وقت قبول کی جاتی ہے جب وہ سماع کی صراحت کرے۔

یعقوب بن سفیان الفسوی (م 277ھ):

وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَأَبِي إِسْحَاقَ وَالْأَعْمَشِ، مَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّهُ مُدَلِّسٌ، يَقُومُ مَقَامَ الْحُجَّةِ.
(المعرفة والتاريخ 2/690)

📌 ترجمہ:
سفیان ثوری، ابو اسحاق اور اعمش کی احادیث جب تک تدلیس ثابت نہ ہو جائیں حجت کے قائم مقام ہیں۔

شمس الدین قسطلانی (م 923ھ):

أن سفيان مدلس، وعنعنة المدلس لا يُحْتَجُّ بها إلا أن يثبت سماعه بطريق آخر.
(إرشاد الساري شرح صحيح البخاري 1/29)

📌 ترجمہ:
سفیان مدلس تھے اور مدلس کی عنعنہ والی روایت پر حجت نہیں پکڑی جاتی جب تک کہ کسی دوسری سند سے سماع کی تصریح ثابت نہ ہو۔

محمد بن یوسف الکرمانی الحنفی (م 786ھ):

أن سفيان من المدلسين، والمدلس لا يُحْتَجُّ بِعنعنته إلا أن يثبت سماعه.
(شرح الكرماني على صحيح البخاري 1/128)

📌 ترجمہ:
سفیان مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی جب تک کہ دوسری سند سے سماع ثابت نہ ہو۔

بدر الدین العینی الحنفی (م 855ھ):

وسفيان من المدلسين، والمدلس لا يُحْتَجُّ بِعنعنته إلا أن يثبت سماعه من طريق آخر.
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري 1/32)

📌 ترجمہ:
سفیان مدلس تھے اور مدلس کی عنعنہ والی روایت حجت نہیں جب تک کہ کسی دوسری طریق سے سماع ثابت نہ ہو۔

ابن ترکمانی الحنفی (م 750ھ):

…الثوري مدلس، وقد عنعن.
(الجوهر النقي على سنن البيهقي 3/185)

📌 ترجمہ:
اس روایت میں علت یہ ہے کہ ثوری مدلس ہیں اور انہوں نے اسے عن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

دیوبندی و بریلوی اکابر کی جرح

سرفراز خان صفدر دیوبندی:

شعبہ نے کہا: آسمان سے گر جانا مجھے تدلیس کرنے سے زیادہ محبوب ہے، اور اس کے خلاف سفیان ثوری کبھی کبھار تدلیس بھی کیا کرتے تھے۔
(خزائن السنن 2/112)

📌 ترجمہ:
دیوبندی محدث سرفراز خان صفدر نے بھی یہ مانا کہ امام سفیان ثوری کبھی کبھار تدلیس کرتے تھے۔

مفتی تقی عثمانی دیوبندی:

امام سفیان ثوری اپنی جلالت و قدر کے باوجود کبھی کبھار تدلیس بھی کرتے تھے، اس کے برخلاف امام شعبہ تدلیس کو زنا سے بھی زیادہ قبیح سمجھتے تھے۔
(درس ترمذی 1/223)

📌 ترجمہ:
مفتی تقی عثمانی کے مطابق سفیان ثوری کے ہاں تدلیس واقع ہوئی، جبکہ امام شعبہ تدلیس سے سخت اجتناب کرتے تھے۔

ظفر احمد تھانوی دیوبندی:

امام شعبہ کی حدیث کو سفیان کی حدیث پر ترجیح ہے، کیونکہ ایک شعبہ تدلیس بالکل نہیں کرتے تھے نہ ثقہ سے اور نہ ہی ضُعفاء سے، اور سفیان کبھی کبھار تدلیس بھی کرتے تھے اور یہ روایت معنعن ہے۔
(اعلاء السنن 4/12)

📌 ترجمہ:
ظفر تھانوی نے صاف طور پر کہا کہ سفیان کی روایت چونکہ معنعن ہے اور ان سے تدلیس واقع ہوئی، لہٰذا ترجیح شعبہ کو حاصل ہے۔

خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی:

امام شعبہ کی حدیث کو سفیان پر ترجیح ہے، کیونکہ ایک شعبہ تدلیس بالکل نہیں کرتے نہ ثقہ سے نہ ہی ضُعفاء سے، اور سفیان کبھی کبھار تدلیس کرتے تھے اور یہ روایت معنعن ہے۔
(بذل المجہود شرح سنن ابی داود 3/145)

📌 ترجمہ:
خلیل احمد سہارنپوری بھی مانتے ہیں کہ سفیان ثوری تدلیس کیا کرتے تھے، اس لیے شعبہ کی روایت کو ترجیح دی جائے گی۔

محمد بن علی النیموی دیوبندی:

امام شعبہ کی حدیث کو سفیان پر ترجیح ہے کیونکہ شعبہ تدلیس بالکل نہیں کرتے تھے، اور سفیان کبھی کبھار تدلیس کرتے تھے اور یہ روایت معنعن ہے۔
(آثار السنن ص 85)

📌 ترجمہ:
نیموی کے نزدیک بھی سفیان کی معنعن روایت کمزور ہے جب تک سماع کی صراحت نہ ہو۔

عبدالقیوم حقانی دیوبندی:

سفیان ثوری کبھی کبھار تدلیس بھی کرتے تھے۔
(مقالات حقانیہ 1/324)

📌 ترجمہ:
حقانی نے براہ راست اعتراف کیا کہ امام ثوری مدلس تھے۔

محمد شریف کوٹلوی بریلوی:

سفیان کی روایت میں تدلیس کا شبہ ہے۔
(فتاویٰ کوثر 2/45)

📌 ترجمہ:
بریلوی عالم کوٹلوی نے بھی سفیان کی روایات میں تدلیس کا احتمال تسلیم کیا۔

عباس رضوی بریلوی:

سفیان مدلس ہے اور یہ روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے "عن” کے ساتھ کی ہے، اور اصولِ محدثین کے تحت مدلس کا عنعنہ غیر مقبول ہے۔
(فتاویٰ رضویہ جدید 8/212)

📌 ترجمہ:
بریلوی عالم عباس رضوی کے نزدیک سفیان کا عنعنہ اصولاً ناقابلِ احتجاج ہے۔

خلاصہ و نتیجہ

پوری تحقیق سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو گئی کہ:

  1. امام سفیان بن سعید الثوری (م 161ھ) محدثین کے نزدیک ثقہ، حافظ اور امام تھے، لیکن ساتھ ہی ان پر تدلیس کی جرح بھی جمہور محدثین نے کی ہے۔

  2. کم از کم 30 محدثین (قدیم و متاخر) نے ان کی تدلیس کو بیان کیا، اور وضاحت کی کہ ان کی معنعن روایت کو حجت نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ سماع کی تصریح موجود نہ ہو۔

  3. اس کے ساتھ ساتھ 8 غیر محدثین (دیوبندی و بریلوی علماء) نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ سفیان ثوری سے تدلیس واقع ہوئی ہے۔

  4. اس بنا پر جب سفیان ثوری کی روایت "عن” سے ہو اور سماع کی تصریح یا معتبر متابعت موجود نہ ہو، تو وہ روایت ضعیف الاعتبار ہوگی۔

  5. البتہ جب وہ روایت حدثنا یا اخبرنا کے ساتھ بیان کریں، تو اس پر اجماعی طور پر اعتماد کیا جائے گا۔

📌 نتیجہ:
امام شعبہ بن حجاج (جو تدلیس کو "زنا سے بھی زیادہ قبیح” سمجھتے تھے) کی روایت کو محدثین کے ہاں ہمیشہ ترجیح حاصل ہے، جب مقابلہ سفیان ثوری کی معنعن روایت سے ہو۔
اس طرح واضح ہو گیا کہ سفیان ثوری کی تدلیس ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس پر اجماعی گواہیاں موجود ہیں۔

اہم حوالاجات کے سکین

سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 01 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 02 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 03 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 04 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 05 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 06 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 07 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 08 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 09 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 10 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 11 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 12 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 13 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 14 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 15 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 16 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 17 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 18 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 19 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 20 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 21 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 22 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 23 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 24 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 25 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 26 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 27 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 28 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 29 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 30 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 31 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 32 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 33 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 34 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 35 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 36 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 37 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 38 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 39 سفیان بن سعید الثوریؒ کی تدلیس پر 30 محدثین کے اقوال اور بریلوی و دیوبندی علماء کی جرح – 40