سوال:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اهتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ
سعد بن معاذ کی موت پر رحمن کا عرش ہل گیا۔
(صحيح البخاري: 3803، صحیح مسلم: 2466)
عرش الٰہی کیوں ہلتا ہے؟
جواب:
یہ حدیث متواتر ہے۔
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
هو حديث روي من وجوه عدة كثيرة متواترة، رواها جماعة من الصحابة
یہ حدیث کئی ایک متواتر سندوں سے مروی ہے، جنہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔
(الاستيعاب: 2/604)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
هذا متواتر أشهد بأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قاله
یہ حدیث متواتر ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے۔
(العلو، ص 89)
اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ اپنی مخلوق میں نشانیاں ظاہر کرتا رہتا ہے۔ عرش اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مخلوق ہے، جو اللہ تعالیٰ سے جدا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک مخلوق کو دوسری مخلوق کی عظمت پر نشانی بناتا ہے۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا بلند تھا کہ ان کی موت پر اللہ نے اپنی بہت بڑی مخلوق عرش پر لرزہ طاری کر دیا۔