سر کے زخم اور ہڈی ٹوٹنے کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، قصاص اور جرائم کا بیان:جلد 02: صفحہ403
مضمون کے اہم نکات

سر کے زخم اور ہڈی ٹوٹنے کے احکام

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

"شجاج” "شجة” کی جمع ہے۔ لغت میں اس کے معنی کٹنے اور پھٹنے کے ہیں۔ فقہی اصطلاح میں شجہ اس زخم کو کہا جاتا ہے جو سر یا چہرے پر ہو اور اس سے سر پھٹ جائے یا چہرے کی جلد کٹ جائے۔ سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے میں زخم ہو تو اسے "جُرح” کہا جاتا ہے، "شجة” نہیں۔ اہلِ عرب کے ہاں سر اور چہرے کے زخموں کی دس قسمیں بیان کی گئی ہیں، اور ہر قسم کا ایک الگ نام اور حکم ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے:

شجاج کی اقسام

① حارصہ
ایسا زخم جس میں جلد معمولی سی چھل جائے لیکن خون نہ نکلے۔ اس زخم کو "قاشره” بھی کہا جاتا ہے۔

② بازلہ
ایسا زخم جس سے تھوڑا سا خون نکل آئے۔ اسے "دامعہ” بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ آنکھ سے آنسو بہنے کے مشابہ ہوتا ہے۔

③ باضعہ
وہ زخم جس میں جلد کٹ جائے اور گوشت بھی زخمی ہو جائے۔

④ متلاحمہ
وہ زخم جو گوشت کے اندر گہرائی تک چلا جائے۔

⑤ محاق
وہ زخم جو گوشت کے اندر اتنا گہرا ہو جائے کہ ہڈی کے اوپر موجود جھلی تک پہنچ جائے۔

ان پہلی پانچ قسموں کے زخموں میں شریعت نے کوئی معین دیت مقرر نہیں کی، لہٰذا ان میں "حکومہ” ہوگا، یعنی حاکم اپنے اجتہاد کے مطابق اس کی مقدار طے کرے گا۔ [1]۔”حکومہ” یہ ہے کہ جس شخص پر جنایت ہوئی ہے اس کو ایک صحیح غلام تصور کرکے قیمت لگائی جائے ،پھر اس کو ایک جنایت والا تصور کرکے(جبکہ جنایت ٹھیک ہوچکی ہو) قیمت لگائی جائے تو جو کمی ہوگی اس کی مثل اس کو دیت دی جائے گی،مثلاً:ایک صحیح غلام کی قیمت دس ہزار روپے ہے اور جنایت والے کی قیمت نو ہزار(9000) ہے تو دیت کاعشر اسے ملے گا۔دیکھئے:المغنی:9/661۔

⑥ موضحہ
وہ زخم جس میں ہڈی ظاہر ہونے لگے۔ اس کی دیت پانچ اونٹ ہے، جیسا کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

” وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ”
"موضحہ زخم میں دیت پانچ اونٹ ہیں۔” [2]۔(ضعیف)سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857۔

⑦ ہاشمہ
وہ زخم جو ہڈی کو صرف ظاہر ہی نہ کرے بلکہ اسے توڑ بھی دے۔ اس زخم کی دیت دس اونٹ ہے۔ یہی حکم سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

⑧ منقلہ
وہ زخم جو ہڈی کو ظاہر کرے، اسے توڑ دے، اور پھر ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے، یہاں تک کہ ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑ کر باندھنا پڑے۔ اس زخم میں پندرہ اونٹ دیت ہے۔ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب میں بھی اس کا ذکر موجود ہے کہ منقلہ میں پندرہ اونٹ دیت ہے۔ [3]۔دیکھئے سابقہ حوالہ۔

⑨ مامومہ
وہ زخم جو دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے، یعنی اس پردے تک جا پہنچے جس میں دماغ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔

⑩ دامغہ
وہ زخم جو دماغ کی جھلی کو پھاڑ دے۔

ان دونوں قسموں کے زخموں میں ایک تہائی دیت ہے، جیسا کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے:

"وَفِي المَأْمُومَةِ ثلُث الدِّيَةِ "
"مامومہ زخم میں تہائی دیت ہے۔” [4]۔(ضعیف) سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول ۔۔۔حدیث 4857۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ دامغہ، مامومہ سے زیادہ گہرا زخم ہوتا ہے، لہٰذا اس میں بطریقِ اولیٰ ایک تہائی دیت ہوگی۔ عام طور پر اس زخم کے بعد انسان زندہ نہیں رہتا، اسی لیے اس کے لیے کوئی الگ دیت مقرر نہیں کی گئی۔

جائفہ کا حکم

جائفہ
ایسا گہرا زخم جو جسم کے اندر کسی خلا تک پہنچ جائے، جیسے پیٹ، پشت، سینہ، حلق یا مثانے کے خلا تک پہنچنے والا زخم۔ اس میں بھی ایک تہائی دیت ہے، کیونکہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں آیا ہے:

"وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ "
"جائفہ زخم میں تہائی دیت ہے۔” [5]۔(ضعیف) سنن النسائی القسامۃ ذکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول۔۔۔حدیث 4857۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"یہ عام اہل علم کاقول ہے،ان میں اہل مدینہ ،اہل کوفہ ،اہل الحدیث اور دیگر بعض اصحاب الرائے بھی شامل ہیں۔” [6]۔المغنی والشرح الکبیر 9/629۔

ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں دیت کے احکام

① پسلی اور ہنسلی کی ہڈی
اگر کسی شخص کی پسلی کی ہڈی توڑ دی جائے اور وہ علاج کے بعد صحیح طرح جڑ جائے تو اس میں ایک اونٹ دیت ہے۔ اسی طرح ہنسلی کی ہر ہڈی میں بھی ایک ایک اونٹ دیت ہے، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

"أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى فِي …التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ , وَفِي الضِّلْعِ بِجَمَلٍ”
انھوں نے ہنسلی کی ہڈی اور پسلی کی ہڈی میں ایک ایک اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔ [7]۔الموطا للامام مالک العقول باب جامع عقل الاسنان حدیث 1654۔اگر پسلی یا ہنسلی کی ہڈی ٹیڑھی جڑ گئی تواس میں حکومہ ہے۔”حکومہ” کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے۔

② کلائی، بازو، ران، پنڈلی اور گٹے کی ہڈیاں
اگر کلائی کی ہڈی ٹوٹ جائے اور صحیح طرح جڑ جائے تو اس میں دو اونٹ دیت ہے۔ کلائی کی ہڈی سے مراد وہ ہڈی ہے جو ہاتھ سے لے کر کہنی تک ہوتی ہے۔ اسی طرح ران، پنڈلی اور گٹے (ہاتھ یا پاؤں کے جوڑ) کی ہڈی توڑنے میں بھی دو اونٹ دیت ہے۔

سیدنا عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ ایک شخص نے کسی کے بازو کی ایک ہڈی توڑ دی ہے، اس میں کتنی دیت ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ اس میں دو اونٹ ہیں۔ اور اگر بازو کی دونوں ہڈیاں ٹوٹ جائیں تو اس میں چار اونٹ ہیں۔ اس مسئلے میں کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی مخالفت نہیں کی۔ [8]۔(ضعیف) منارالسبیل،ص 665۔المصنف لابن ابن شیبۃ الدیات باب الزند یکسر 5/436 حدیث 27770 وارواء الغلیل 7/328 حدیث 2292۔

③ دیگر ہڈیاں اور زخم
یہ ان زخموں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا بیان تھا جن کے بارے میں شریعت میں نص وارد ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ جو صورتیں ہیں، مثلاً ریڑھ کی ہڈی کے مہرے یا پیڑو (ناف کے نیچے) کی ہڈی وغیرہ، ان میں "حکومہ” ہوگا۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پسلی،ہنسلی کی ہڈیوں اور بازو کی دونوں ہڈیوں کے سوا دیگر زخموں میں دیت کی تعین نہیں کیونکہ تعین کسی شرعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے اور دلیل کا تقاضا ہے کہ ان باطنی ہڈیوں کے زخموں میں”حکومہ” واجب ہو( سوائے پانچ کے) ان میں "حکومہ” اس لیے نہیں ہے کہ ان کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافیصلہ موجود ہے ،البتہ ان کے سوا دیگر باطنی زخموں کی تعین زخم کی کیفیت کے مطابق اجتہاد سے کی جائے گی۔” [9]۔ المغنی والشرح الکبیر 9/657۔

فقہائے کرام کہتے ہیں کہ اگر کسی زخم میں "حکومہ” مقرر کی جائے، اور وہ زخم ایسے عضو میں ہو جس کی شریعت میں معین دیت موجود ہے، مثلاً سر کا ایسا زخم جس میں ہڈی ظاہر نہ ہوئی ہو، تو فیصلے کے وقت اس کی دیت موضحہ زخم کی دیت تک نہیں پہنچنی چاہیے، کیونکہ موضحہ میں پانچ اونٹ دیت ہے۔ لہٰذا جو زخم اس سے کم درجے کا ہو اس کی دیت بھی اس سے کم ہی ہونی چاہیے۔

④ اگر مجروح مکمل صحت یاب ہو جائے
اگر مظلوم جنایت کے بعد بالکل تندرست ہو جائے، یعنی علاج کے بعد اس جنایت کا کوئی اثر باقی نہ رہے، تب بھی اس کی قیمت اس وقت کے لحاظ سے لگائی جائے گی جب زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ اس وقت زخمی شخص جنایت کے اثر میں اور خوف کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے، اور اسی کمی کے تناسب سے مجرم سے دیت وصول کی جائے گی۔

کفارہ قتل کا بیان

"كفارة” "كفر” سے مشتق ہے، اور لغت میں اس کے معنی "پردہ ڈالنے” کے ہیں۔ کفارہ کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ گناہ پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اسے ڈھانپ لیتا ہے۔ قتل کے کفارے کے واجب ہونے کی دلیل کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾… سورة النساء
"کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے (92) اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے” [10]۔النساء:4/92۔93۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے بارے میں فرمایا:

"أَعْتِقُوا عَنْهُ رَقَبَةً يَعْتِقُ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ”
"اس قاتل کی طرف سے غلام یا لونڈی آزاد کرو۔اللہ تعالیٰ مقتول کے ہر عضو کے بدلے قاتل کا ہر عضو آگ سے آزاد کرے گا۔” [11]۔(الضعیف) سنن ابی داود العتق باب فی ثواب العتق حدیث 3964 والسنن الکبریٰ للنسائی،العتق حدیث 4890۔4892۔

قتل میں کفارے کے مسائل

① قتل خطا اور شبہ عمد میں کفارہ
قتلِ خطا اور قتلِ شبہ عمد دونوں میں کفارہ واجب ہے، جبکہ قتلِ عمد میں کفارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾… سورة النساء
"اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے” [12]۔النساء:4/93۔

اس آیت میں قتلِ عمد کے لیے کفارے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ سوید بن صامت نے ایک شخص کو قتل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قصاص لازم قرار دیا، کفارہ نہیں۔

اسی طرح عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو آدمیوں کو عمداً قتل کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کی، لیکن کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ کفارہ وہاں لازم ہوتا ہے جہاں کام غلطی سے سرزد ہو، تاکہ گناہ مٹ جائے، اور اس میں کسی درجہ کی کوتاہی بھی شامل ہوتی ہے جس کا ازالہ مطلوب ہوتا ہے۔ لیکن قتلِ عمد اتنا سنگین گناہ ہے کہ وہ کفارے سے ختم نہیں ہوسکتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” قتل عمد میں کفارہ نہیں۔اسی طرح جھوٹی قسم عمداً اٹھائی گئی ہوتو جس کسی کے حق پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہو اس میں کفارہ نہیں کیونکہ اس موقع پر دیا گیا کفارہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے لیے تخفیف کا باعث نہیں بن سکتا۔” [13]۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 34/139۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"قتل خطا کو حرام یامباح کے ساتھ متصف قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ مجنون شخص کے قتل کی طرح ہے لیکن مقتول جان معصوم تھی،لہذا اس میں کفارہ واجب قراردیا گیا۔” [14]۔المغنی والشرح الکبیر 9/670۔

② قتل خطا میں کفارے کی حکمت
قتلِ خطا میں کفارہ مشروع ہونے کی دو اہم حکمتیں ہیں:

✔ قاتل کی کوتاہی کسی نہ کسی درجے میں شامل ہوتی ہے۔
✔ کفارے کے ذریعے مقتول جان کی حرمت اور اس کی بے گناہی کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

③ قتل عمد میں کفارہ نہ ہونے کی وجہ
قتلِ عمد میں کفارہ واجب نہیں، کیونکہ یہ گناہ اتنا بڑا ہے کہ کفارے سے زائل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر قاتل سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، معافی طلب کرے، اور خود کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کردے تاکہ وہ چاہیں تو قصاص لے لیں، تو اس سے اس کے گناہ میں تخفیف ہو سکتی ہے۔ توبہ سے اللہ تعالیٰ کا حق ساقط ہو جائے گا، اور قصاص یا معافی سے ورثاءِ مقتول کا حق ادا ہو جائے گا۔ جو حق مقتول کا باقی رہ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل و کرم سے راضی فرما دے گا یا قاتل کی نیکیوں میں سے کچھ حصہ مقتول کو دے دے گا۔ بہرحال جو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی وہی ہوگا۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے الجواب الکافی میں اسی مفہوم کو بیان کیا ہے۔

④ کن مقتولین میں کفارہ لازم ہے
اگر کوئی شخص ایسی بے گناہ جان کو قتل کرے جو اس کا غلام ہو، یا ذمی کافر ہو، یا پناہ لینے والا کافر ہو، یا نومولود بچہ ہو، یا وہ بچہ جو حمل میں تھا اور حاملہ کے پیٹ پر ضرب لگنے سے مر گیا، پھر عورت نے اسے مردہ جنا، تو ان تمام صورتوں میں قاتل پر کفارہ لازم ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں عموم پایا جاتا ہے:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾… سورة النساء
"کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے (92) اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے” [15]۔النساء:4/92۔93۔

⑤ براہِ راست اور بالواسطہ قتل دونوں میں کفارہ
قتل کرنے والا چاہے اکیلا ہو یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہو، اور چاہے قتل براہِ راست ہو یا بالواسطہ، مثلاً کسی نے عام راستے میں ظلمًا کنواں کھود دیا اور کوئی شخص اس میں گر کر مر گیا، یا راستے میں چھری گاڑ دی، یا ایسا کوئی کام کیا جس کے نتیجے میں کسی کی جان چلی گئی، تو کفارہ لازم ہوگا۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"ایک قتل میں جتنے افراد شریک ہوں گے سب پر کفارہ ہے۔یہ قول اہل علم کی اکثریت کا ہے جن میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ،شافعی رحمۃ اللہ علیہ ،اور دیگر فقہاء رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔” [16]۔المغنی والشرح الکبیر9/668۔

⑥ قاتل کی ہر حالت میں کفارہ
قاتل بڑا ہو یا چھوٹا، عاقل ہو یا مجنون، آزاد ہو یا غلام، ہر صورت میں اس پر کفارہ واجب ہے، کیونکہ آیت کا حکم عام ہے۔

⑦ کفارے کی صورت
قتل کے کفارے میں ایک مومن غلام یا مومنہ لونڈی کو آزاد کرنا لازم ہے۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہوں گے۔ اس کفارے میں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی صورت شامل نہیں۔ اگر روزے رکھنے کی بھی طاقت نہ ہو تب بھی کفارہ اس کے ذمے باقی رہے گا۔ صرف کھانا کھلا دینے سے کفارہ ادا نہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ یاد رہے کہ کفارے کی صورتیں نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتی ہیں، قیاس سے نہیں۔

⑧ غلام قاتل کا کفارہ
اگر قاتل غلام ہو تو وہ صرف روزوں کے ذریعے کفارہ ادا کرے گا، کیونکہ اس کے پاس مال کی ملکیت نہیں ہوتی کہ کسی غلام کو آزاد کرسکے۔

⑨ مجنون یا نابالغ قاتل کا کفارہ
اگر قاتل مجنون ہو یا چھوٹا بچہ ہو تو اس کا سرپرست صرف غلام یا لونڈی آزاد کرکے کفارہ ادا کرے گا، کیونکہ ان دونوں کے لیے روزے رکھنا ممکن نہیں، اور اس معاملے میں نیابت کا بھی دخل نہیں۔ خلاصہ یہ کہ کفارہ ان دونوں میں سے ہر ایک پر لازم ہے، کیونکہ یہ ایک مالی حق ہے جو دیت سے مشابہ ہے، اور زکاۃ کی طرح مالی عبادت بھی ہے۔

⑩ متعدد مقتولین کی صورت
جتنے افراد قتل ہوں گے اتنے ہی کفارے لازم ہوں گے، جیسے متعدد قتل میں متعدد دیتیں واجب ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر ایک شخص نے قتلِ خطا میں چار افراد کو ہلاک کیا تو اس پر چار کفارے ہوں گے، جیسے چار دیتیں ہوں گی۔

⑪ مباح قتل میں کفارہ نہیں
اگر قتل مباح ہو، جیسے باغی، مرتد، شادی شدہ زانی، یا کسی مقتول کے قصاص میں یا کسی حد کے نفاذ میں کسی کو قتل کیا گیا، یا کسی نے اپنی جان کے دفاع میں حملہ آور کو قتل کردیا، تو ان تمام صورتوں میں کفارہ نہیں ہوگا، کیونکہ مقتول کی حرمت باقی نہیں رہی۔

تنبیہ

آج کل لوگ کفارہ قتل کے معاملے میں بہت کوتاہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر جب کسی سے گاڑی کے حادثے میں کئی جانیں ضائع ہو جائیں تو وہ مالی تاوان تو ادا کردیتا ہے، لیکن روزوں کی صورت میں کفارہ ادا نہیں کرتا، خصوصاً جب اس پر ایک سے زیادہ کفارے لازم ہوں۔ اس طرح اس کے ذمے شرعی ذمہ داری اور اللہ تعالیٰ کا حق باقی رہتا ہے۔

اسی طرح بعض لوگوں میں ایک اور کمزوری یہ پائی جاتی ہے کہ قاتل کے عصبہ ورثاء قتلِ خطا کی دیت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ اور اگر قبول کر بھی لیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مقتول کے ورثاء کے ساتھ بطورِ نفلی تعاون کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ قتلِ خطا کی دیت ادا کرنے کے لیے دوسروں سے مالی مدد مانگتے پھرتے ہیں۔ یہ صورت نہایت افسوس ناک ہے، کیونکہ اس طرح ایک اہم شرعی حکم معطل ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر بہت سے لوگ اس مسئلے کے حکم سے واقف بھی نہیں ہوتے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے ذمے دیت واجب ہونے کا بہانہ بنا کر لوگوں سے خیرات مانگتا رہے، لہٰذا ایسے آدمی کو لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھانے سے روکنا ضروری ہے۔ بعض لوگ غیر قانونی اور جعلی کاغذات لیے پھرتے ہیں، اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ادائیگی ہو جانے کے بعد بھی لمبے عرصے تک وہ اسی بہانے مانگتے رہتے ہیں۔

قسامت کے احکام

"قسامه” قسم سے نکلا ہے، اور لغوی معنی ہیں: "قسمیں اٹھانا”۔ یہاں قسامت سے مراد یہ ہے کہ کسی بے گناہ شخص کے قتل کے دعوے میں ایک فریق سے قسمیں لی جائیں۔ جب کوئی شخص قتل ہو جائے، قاتل معلوم نہ ہو، اور قتل کا الزام ایک شخص یا کئی افراد پر عائد کیا جائے، تو ایسی صورت میں قسامت مشروع ہوتی ہے۔ قسامت کی مشروعیت سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔

صحیحین میں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خیبر کی طرف گئے۔ یہ صلح کے زمانے کا واقعہ تھا۔ ایک جگہ جا کر دونوں الگ ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد محیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللہ بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خون میں لت پت مقتول پایا۔ چنانچہ وہ یہود کے پاس آئے اور کہا کہ اس شخص کو لازماً تمہی نے قتل کیا ہے، کیونکہ یہ تمہاری سرزمین میں قتل ہوا ہے۔ انہوں نے انکار کردیا۔ پھر یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا۔ عبدالرحمان بن سہل بات کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بڑے کو بات کرنے دو۔” کیونکہ وہ سب میں چھوٹے تھے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ورثاء سے فرمایا: "اگر تم قسمیں اٹھا لو تو اپنے ساتھی کے خون کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو۔” ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم اپنے دعوے پر گواہ پیش کرسکتے ہو؟” انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو کیا تم قسمیں اٹھاؤ گے؟” انہوں نے کہا: ہم قسمیں کیسے اٹھائیں جبکہ ہم وہاں موجود بھی نہ تھے اور نہ ہم نے قتل ہوتے دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہودیوں کے پچاس آدمی قسمیں اٹھا لیں گے تو وہ بری ہو جائیں گے۔” انہوں نے کہا: وہ تو کافر قوم ہیں، ہم ان کی قسموں پر کیسے اعتبار کریں؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کی دیت سو اونٹ بیت المال سے ادا کی۔ [17]۔صحیح البخاری الجزیۃ باب الموادعۃ والمصالحۃ مع المشرکین بالمال وغیرہ۔حدیث 3173،6898 وصحیح مسلم کتاب وباب القسامۃ حدیث 1669،والتلخیص الجیر 4/39 واللفظ لہ۔

یہ حدیث قسامت کی مشروعیت پر دلیل ہے، اور یہ شریعت کا ایک بنیادی ضابطہ اور احکامِ دین میں ایک مستقل قانون کی حیثیت رکھتی ہے۔

قسامت کی شرائط

① دشمنی کا موجود ہونا
مقتول اور جس پر قتل کا الزام لگایا گیا ہو، دونوں کے درمیان عداوت اور دشمنی کا پایا جانا ضروری ہے، جیسے بعض قبائل باہمی دشمنی کی بنا پر ایک دوسرے سے بدلہ لیتے ہیں۔ اگر مقتول اور ملزم کے درمیان دشمنی ہو تو ملزم کے قاتل ہونے کا قوی احتمال ہوتا ہے، اس لیے ایسی حالت میں مقتول کے ورثاء اگرچہ موقع پر موجود نہ ہوں، غالب گمان کی بنیاد پر قسمیں اٹھا سکتے ہیں کہ ملزم ہی قاتل ہے۔

مقتول کے ورثاء کو چاہیے کہ وہ اس وقت تک قسمیں نہ اٹھائیں جب تک انہیں اپنے دعوے کی سچائی پر غالب گمان نہ ہو۔ اور حاکم یا قاضی کو چاہیے کہ انہیں جھوٹی قسم کے اخروی وبال سے آگاہ کرے۔

② مدعا علیہ کا عاقل و بالغ ہونا
مدعا علیہ عاقل اور بالغ ہو، لہٰذا بچے یا مجنون کے خلاف یہ دعویٰ قابلِ قبول نہ ہوگا۔

③ قتل کا امکان
مدعا علیہ ایسا شخص ہو جس سے قتل کا صادر ہونا ممکن ہو، ورنہ دعویٰ سنا نہیں جائے گا۔ مثلاً اگر وہ قتل کے وقت جائے وقوعہ سے بہت دور موجود تھا تو اس کے خلاف دعویٰ قابلِ سماعت نہیں ہوگا۔

قسامت کا طریقہ

جب قسامت کی مذکورہ شرائط پوری ہو جائیں تو پہلے مدعی فریق، مدعا علیہ کی موجودگی میں پچاس قسمیں اٹھائے گا۔ یہ قسمیں ورثاء پر ان کے حصۂ وراثت کے بقدر تقسیم ہوں گی، اور وہ کہیں گے کہ فلاں شخص ہی نے قتل کیا ہے۔

اگر ورثاء قسمیں اٹھانے سے انکار کر دیں، یا وہ پچاس قسمیں پوری نہ کرسکیں، تو پھر دوسرا فریق یعنی مدعا علیہ پچاس قسمیں اٹھائے گا، بشرط یہ کہ پہلا فریق یعنی مدعی ان قسموں کو قبول کرنے پر راضی ہو۔ اگر مدعا علیہ قسمیں اٹھا لے تو وہ بری ہو جائے گا۔ اور اگر مدعی ان کی قسمیں قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو حاکم وقت مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کرے گا، جیسا کہ انصار نے جب یہودیوں کی قسمیں قبول نہ کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب مدعا علیہ پر خون ثابت کرنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی، لہٰذا یہ تاوان بیت المال پر ہوگا تاکہ معصوم جان کا خون رائیگاں نہ جائے۔

① قسامت کے بعد قصاص یا صرف دیت؟
فقہائے کرام کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ جب قسامت کی تمام شرطیں پوری ہو جائیں، اور مقتول کے ورثاء پچاس قسمیں اٹھا لیں، تو کیا مدعا علیہ سے قصاص لیا جائے گا یا صرف دیت لازم ہوگی؟ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس صورت میں قصاص کی شرطیں پوری ہو چکی ہیں، لہٰذا قصاص لینا درست ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"يُقسم خمسون منكم على رجل منهم فيُدفَع إليكم بِرُمَّته”
"تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے کسی ایک شخص کے قاتل ہونے کی قسمیں اٹھالیں تو وہ پوری طرح تمہارے حوالے کردیا جائے گا۔” [18]۔صحیح مسلم کتاب وباب القسامۃ حدیث 1669 والتلخیص الجیر 4/39 واللفظ لہ۔

مسلم کی روایت میں ہے: "تمہارے سپرد کردیا جائے گا۔”

اس سے معلوم ہوا کہ قسامت گواہی کے قائم مقام ہے۔

② ہجوم میں مرنے والے کی دیت
فقہائے کرام نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص جمعہ کے رش میں یا طوافِ کعبہ کے ہجوم میں مر جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص عرفہ کے میدان میں رش کے سبب فوت ہو گیا۔ اس کے ورثاء سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور دیت کا مطالبہ کیا۔ آپ نے فرمایا: اس کے قاتل کے خلاف گواہی پیش کرو۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! مسلمان کا خون رائیگاں نہیں جا سکتا۔ اگر قاتل معلوم ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ بیت المال سے دیت ادا کی جائے۔

حدود کے احکام

"حدود” حد کی جمع ہے، اور لغت میں اس کے معنی "روکنے” کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حدود سے مراد اس کے وہ حرام کردہ امور ہیں جن کے ارتکاب سے اس نے منع فرمایا ہے۔ اور شرعی اصطلاح میں "حدود” ان مقررہ سزاؤں کو کہا جاتا ہے جو بعض مخصوص جرائم میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے نتیجے میں دی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ ایسے جرائم سے باز رہیں۔ حدود کی مشروعیت کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” حدود الٰہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق پر رحمت اور ارادہ احسان ہے حتیٰ کہ جن لوگوں پر گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں حدود کانفاذ ہو اس کا مقصد ان کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی ہونا چاہیے۔جس طرح باپ اپنے بیٹے کو اس کی اصلاح اور بہتری کی خاطر سزا دیتا ہے یا ڈاکٹر مریض کی بہتری کے لیے انتہائی کڑوی کسیلی ودائیں اس کے حلق سے نیچے اتارتا ہے یا آلات جراحی کے ذریعے سے اس کے جسم کا آپریشن کرتا ہے۔” [19]۔مجموع الفتاویٰ 28/329۔

حدود کی مشروعیت کی حکمت

❀ حدود کے مشروع ہونے کی حکمت یہ ہے کہ انسانی نفوس کو جرائم سے روکا جائے اور انہیں پاک کیا جائے۔ حد مقررہ سزا کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اور اس میں معاشرے کی مصلحت بھی پیش نظر رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے لیے ایسی سزائیں رکھی ہیں جن کا تقاضا سلیم فطرتیں کرتی ہیں۔ ان کے نفاذ میں بندوں کے دنیوی اور اخروی دونوں مصالح پوشیدہ ہیں۔

❀ کسی بھی ملک کا سیاسی نظام اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک جرائم سے روکنے کے لیے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی جائیں۔ حدود کے نفاذ سے مجرم باز آ جاتا ہے، قانون کی پابندی کرنے والا مطمئن ہو جاتا ہے، زمین میں عدل و انصاف قائم ہوتا ہے، اور لوگوں کی جانیں، عزتیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں۔

❀ ان خوبیوں کا مشاہدہ ان ممالک اور معاشروں میں کیا جا سکتا ہے جہاں حدودِ الٰہی نافذ ہیں، بلکہ کوئی کافر بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا۔ اور جن معاشروں میں شرعی حدود نافذ نہیں ہوتیں بلکہ انہیں وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں سمجھا جاتا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جدید ترقی یافتہ زمانے میں ان کی ضرورت نہیں رہی، تو ایسے معاشرے عدالتِ الٰہیہ سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ امن و سکون کی نعمت سے خالی ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس جدید اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی موجود ہوتی ہے، لیکن یہ چیزیں معاشرے میں حقیقی امن قائم نہیں کر سکتیں، جب تک اللہ تعالیٰ کی حدود نافذ نہ کی جائیں، کیونکہ یہی قانون انسانوں کی فلاح کا ضامن ہے۔

❀ یہ بات یاد رہے کہ نظامِ حکومت محض اسلحے کے زور سے نہیں چلایا جا سکتا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی حدود کے نفاذ سے قائم ہوتا ہے۔ دورِ حاضر میں جدید حربی وسائل حدودِ الٰہی کے نفاذ کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ صحیح ہاتھوں میں ہوں۔

❀ تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے منحرف لوگ حدودِ الٰہی کو ظلم اور وحشت کا نام دیتے ہیں، حالانکہ وہ سراسر رحمت اور فضلِ الٰہی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہی لوگ ظالم اور مجرم کے فعل کو وحشت اور ظلم نہیں کہتے، حالانکہ اصل ظلم تو اسی نے کیا ہوتا ہے جس نے امن و سکون کو تباہ کیا اور بے گناہوں پر زیادتی کی۔ لیکن جاہل لوگوں نے ایسے مجرموں اور ظالموں کو عبرتناک سزا دینے کے نظام کو ظالمانہ اور وحشیانہ کہہ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب عقل الٹ جائے اور فطرت میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو انسان کی فکر و نظر بھی بگڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:

قد تُنْكِر العَيْن ضَوء الشَّمْس مِن رَمَدٍ
ويُنْكِر الفَـمُ طَعْمَ الْمَاء مِن سَقَمِ

"اندھی آنکھ سورج کی روشنی کاانکار کردیتی ہے،منہ بیماری کی وجہ سے پانی کے ذائقے کا انکار کردیتا ہے۔”

حد نافذ ہونے کی شرائط

① مجرم کا عاقل و بالغ ہونا
کسی مجرم پر حد اس وقت تک نافذ نہیں کی جائے گی جب تک وہ عاقل اور بالغ نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثلاثة: عن الصَّبِى حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ”
"تین قسم کے آدمیوں سے قلم اُٹھا لیا گیا ہے:

1۔سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔

2۔بچےسے یہاں تک کہ بڑا(بالغ) ہوجائے۔

3۔اور دیوانے سے یہاں تک کہ عاقل بن جائے۔” [20]۔سنن ابی داود الحدود باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا حدیث 4401۔وسنن النسائی الطلاق باب من لا یقطع طلاقہ من الازواج حدیث 3462و اللفظ لہ۔

جب یہ لوگ عبادات کے معاملے میں مکلف نہیں تو حدود کے ساقط ہونے میں تو بدرجہ اولیٰ یہی حکم ہوگا، کیونکہ حدود شک اور شبہے سے ساقط ہو جاتی ہیں۔

② جرم کے حرام ہونے کا علم
مجرم کو یہ علم ہو کہ اس نے جو کام کیا ہے وہ حرام ہے۔ لہٰذا جو شخص کسی کام کے حرام ہونے سے ناواقف ہو، اس پر اس جرم کی حد نافذ نہ کی جائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:

"حد اسی پر نافذ ہوگی جو اس کام کے حرام ہونے کا علم رکھتا ہو۔” [21]۔(ضعیف) المصنف لعبدالرزاق 7/402۔405 وارواء الغلیل حدیث 2314۔

صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی کا اس موقف سے اختلاف معلوم نہیں۔ اسی لیے امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "یہ قول عام اہل علم کا ہے۔”

جب کسی شخص میں یہ دونوں شرطیں پائی جائیں تو جرم کے ارتکاب پر اس پر حد نافذ ہوگی۔

حدود نافذ کرنے کا اختیار

حدود نافذ کرنے کا کام مسلمانوں کے امیر یا اس کے نائب کا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود حدود نافذ فرمایا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی حدود قائم کرتے تھے۔ بعض مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کے لیے نائب بھی مقرر فرمایا، جیسا کہ ایک روایت میں ہے:

"وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا”
"اے انیس! اس شخص کی بیوی کی طرف جاؤ اگر وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کردینا۔” [22]۔صحیح البخاری الوکالۃ باب الوکالۃ فی الحدود حدیث 2314۔2315۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن خود وہاں تشریف نہیں لے گئے۔ اسی طرح ایک چور کے بارے میں فرمایا:

"اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ”
"اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔” [23]۔(ضعیف) السنن الکبریٰ للبیہقی 8/271 ومنار السبیل ص:674۔

غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات حدود کے فیصلے میں اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے اور کوتاہی کا امکان رہتا ہے، لہٰذا یہ اہم ذمہ داری مسلمانوں کے امیر پر رکھی گئی ہے، یا وہ کسی ایسے معتبر شخص کو یہ ذمہ داری سونپ دے جو عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرسکے، چاہے معاملہ اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق ہو، مثلاً زنا، یا بندوں کے حق سے متعلق ہو، مثلاً حدِ قذف۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"جن حدود اور حقوق کا تعلق کسی معین قوم کے ساتھ نہ ہو وہ حدود اللہ کہلاتی ہیں،جیسے ڈاکو،چور اور زانی وغیرہ سے متعلق حدود۔اسی طرح مملکت کے اموال،وقف اشیاء وصیتیں وغیرہ جو معین نہ ہوں،ان حدود کی پاسداری مملکت کے اہم امور میں سے ہے،لہذا حاکم کے ذمے ہے کہ ان کی جانچ پڑتال کرتا رہے اور کسی کے دعوے کے بغیر انھین قائم کرے اور کسی کے دعوے کے بغیر ہی ان کی گواہی کا انتظام کرے۔ان حدود کا نفاذ ہر امیر ،غریب،طاقت ور اور کمزور پر کرے۔۔۔” [24]۔مجموع الفتاویٰ 14/431۔

مسجد میں حدود نافذ نہ کرنا

مسجد کے اندر حدود نافذ نہیں کی جائیں گی، بلکہ مسجد سے باہر ان کا نفاذ ہوگا۔ حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے:

” نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أن يستقاد في المسجد ، وأن تنشد فيه الأشعار ، وأن تقام فيه الحدود”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے،(ناجائز قسم کے) اشعار پڑھے جائیں اوران میں حدود کا نفاذ ہو۔” [25]۔سنن ابی داود الحدود باب فی اقامۃ الحد فی المسجد،حدیث 4490،ومسند احمد 3/434۔

حدود کے معاملے میں سفارش کی حرمت

جس کسی حد کا معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ جائے، پھر اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے سفارش کرنا حرام ہے، اور حکمران کے لیے ایسی سفارش قبول کرنا بھی حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ”
"جس شخص کی سفارش حدود الٰہی کے نفاذ میں رکاوٹ بن گئی وہ اللہ تعالیٰ(کھ حکم کی مخالفت کرکے اس) کے مد مقابل کھڑا ہوگیا۔” [26]۔سنن ابی داود القضاء باب فی الرجل یعین علی خصومۃ من غیر ان یعلم امرھا،حدیث 3597۔

ایک شخص نے چور کو معاف کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"فَهَلاَّ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ "
"میرے پاس لانے سے پہلے پہلے تو نے اسے معاف کیوں نہ کردیا؟” [27]۔سنن ابی داود الحدود باب فیمن سرق من حرز حدیث 4394 ومسند احمد 6/466۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” کسی شخص کے لائق نہیں کہ وہ سفارش یاہدیہ وغیرہ کی وجہ سے کسی حد کو معطل کرے۔اسی طرح اس میں سفارش کرنا بھی جائز نہیں۔جس نے قدرت کے باوجود حد کو معطل کردیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔” [28]۔السیاسۃ الشرعیہ لابن تیمیہ 1/56۔

نیز فرماتے ہیں:

” چور،زانی،شرابی اور ڈاکو وغیرہ سے بیت المال وغیرہ کے لیے مال لے کر حد کو معطل کردینا جائز نہیں۔ایسا مال حرام اور خبیث ہوتا ہے۔اگر ایسا کام حاکم کرتا ہے تو وہ متعدد خرابیوں کو جمع کررہا ہے۔ایک حد کو معطل کرنا اور دوسرا حرام کھانا اورتیسرا ذمے داری کو پورا نہ کرنا اورچوتھا حرام کا ارتکاب کرنا۔تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ زانی ،چور،شرابی اور اسلامی حکومت کے باغی وغیرہ کو چھوڑنے کی خاطر لیا ہوا مال حرام اورخبیث ہے۔افسوس ہے کہ یہ تمام کام برملا ہورہے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے امور میں دن بدن بگاڑ پیدا ہورہا ہے اور مسلمانوں کا اجتماعی قدر ووقار گرتا جارہا ہے۔” [29]۔السیاسۃ الشرعیۃ لابن تیمیہ 1/59۔61۔

جرائم ختم نہیں ہو سکتے، اور معاشرہ ان کے شر اور نحوست سے محفوظ نہیں رہ سکتا، مگر اس کی ایک ہی صورت ہے کہ جو لوگ ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ان پر حدودِ شرعیہ نافذ کی جائیں۔ صرف مالی جرمانہ یا قید کی سزا دینا ظلم ہے اور معاشرے میں فساد بڑھانے کا سبب ہے۔

وہ جنایات جن میں حدود واجب ہوتی ہیں

جن جنایات میں حدود کا نفاذ واجب ہوتا ہے وہ پانچ ہیں:

✔ زنا
✔ چوری
✔ ڈاکہ زنی
✔ شراب پینا
✔ کسی بے گناہ پر تہمتِ زنا لگانا

ان کے علاوہ دوسری جنایات میں تعزیر ہے۔ آگے ان کی تفصیل بیان کی جائے گی۔

کوڑوں والی سزاؤں میں شدت کی ترتیب

فقہائے کرام نے بیان کیا ہے کہ کوڑے مارنے کی سزاؤں میں سب سے سخت حد، زنا کی حد ہے، پھر حدِ قذف، پھر شراب پینے کی حد، اور اس کے بعد تعزیر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا کی حد کے بارے میں نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا ہے:

﴿وَلا تَأخُذكُم بِهِما رَأفَةٌ فى دينِ اللَّهِ … ﴿٢﴾… سورةالنور
"ان دونوں پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمھیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے۔” [30]۔النور 24/2۔

دوسرے جرائم میں چونکہ اس سے کم کوڑے مقرر ہیں، لہٰذا زیادہ زور سے مار کر سزا میں اضافہ کرنا درست نہیں۔

حد کے دوران موت واقع ہو جائے تو حکم

فقہائے کرام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص حد لگنے کے دوران مر جائے تو اس کا خون رائیگاں ہوگا، اور حد نافذ کرنے والے پر کچھ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مشروع طریقے سے عمل کیا ہے۔ البتہ اگر حد نافذ کرنے والے نے مشروع طریقے سے تجاوز کیا، اور اسی زیادتی کی وجہ سے محدود مر گیا، تو اسے دیت ادا کرنا ہوگی، کیونکہ اس کی موت زیادتی کے سبب واقع ہوئی ہے۔ گویا اس نے حد کے علاوہ کسی اور وجہ سے اسے قتل کیا ہے۔

امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” ہمارے علم کے مطابق اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں۔”