پیدائش کے بعد ساتویں دن بچے کا سرمونڈنا صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سرمونڈنے کے احکام و مسائل

پیدائش کے بعد ساتویں دن بچے کا سر مونڈنا اور پھر اس کے بالوں کے ہم وزن چاندی فقراء ومساکین میں تقسیم کرنا شریعت محمدی کا ثابت شدہ حکم ہے۔

✿ سرمونڈنے کی حکمتیں:

بچے کے سر مونڈنے میں وہ بڑی حکمتیں سامنے آتی ہیں:
صحت کی بحالی ،غریب پروری
پہلی حکمت: طبیعی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا سر مونڈنے سے اس کی صحت بحال ہو جاتی ہے، جسمانی طور پر قوت حاصل ہوتی ہے سر کے مسام کھل جاتے ہیں اور جسم کے باقی حواس مثلاً: دیکھنے سلنے اور سونگھنے کی حس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری حکمت: اس کا ایک اجتماعی فائدہ بھی ہے۔ سر مونڈ کر بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنا اور فقراء ومساکین میں تقسیم کرنا غریب پروری کا مظہر و سر چشمہ ہے۔ اس سے غریبوں، یتیموں اور فقراء ومساکین کی کفالت اور دیکھ بھال میں تعاون حاصل ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی معاشرے سے وابستہ تمام گھرانے آپس میں تعاون، باہم شفقت و رحمت اور بالخصوص غریب طبقہ کی کفالت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
✿ احادیث سے ثبوت:
بچے کا سر مونڈنا اور پھر اس کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنا کئی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
حضرت محمد باقر بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وزنت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم شعر حسن وحسين وزينب وأم كلثوم فتصدقت بزنة ذلك فضة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچوں حسن، حسین، زینب اور ام کلثوم رضی اللہ عنہم کی حجامت کرا کے ان کے بالوں کا وزن کیا اور پھر اس وزن کے برابر چاندی صدقہ کی۔
موطأ إمام مالك العقيقة، باب ماجاء في العقيقة، حديث : 1110 والحديث مرسل
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن بشاة وقال: يا فاطمة احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضة، فوزنته، فكان وزنه درهما أو بعض درهم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کیا اور فرمایا: ”اے فاطمہ! اس کا سر مونڈ کر اس کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرو۔“ انہوں نے بالوں کا وزن کیا تو وہ ایک درہم یا اس سے بھی کم تھا۔
جامع الترمذى الأضاحي، باب العقيقة بشاة، حديث: 1519 والحديث حسن، انظر: الإرواء، حديث : 175
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر برأس الحسن والحسين ابني على بن أبى طالب يوم سابعهما، فحلق، ثم تصدق بوزنه فضة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لخت جگر حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی پیدائش کے ساتویں دن ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا چنانچہ ان کے سر مونڈ دیے گئے پھر آپ نے ان کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کی۔
المعجم الأوسط للطبراني 50/1 والحديث حسن، أنظر الإرواء:405/4

✿ قزع کا مسئلہ:

سر کے بالوں سے متعلق ایک اہم ترین مسئلہ ”قزع“ کا ہے۔

قزع کی تعریف:

قزع کا مطلب بچے کے سر کے کچھ بال منڈوا دینا اور باقی بالوں کو چھوڑ دینا ہے۔ ایسا کرنا حرام ہے اس کی حرمت کو بڑی وضاحت کے ساتھ احادیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع
بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے۔
صحيح البخاری، اللباس، باب القزع ، حدیث : 5921 و صحیح مسلم، اللباس والزينة، باب كراهة القزع، حديث : 2120

قزع کی اقسام:

جس قزع سے روکا گیا ہے اس کی چار قسمیں ہیں: سر کے مختلف حصوں سے بال مونڈنا۔ درمیان سے مونڈ کر اطراف کو چھوڑ دینا۔ اطراف سے مونڈ کر درمیان کو چھوڑ دینا۔ اگلا حصہ مونڈ کر پچھلا حصہ چھوڑ دینا۔

قزع سے روکنے کی حکمتیں:

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں، قزع سے روکنا، ہماری شریعت کے عدل و انصاف پر مبنی ہونے کی ایک دلیل ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عدل و انصاف کے ساتھ کس قدر گہری محبت اور کس درجہ کا لگاؤ تھا اس لیے ہر کام میں حتی کہ انسان کو اپنے آپ کے ساتھ بھی عدل وانصاف کرنے کا حکم دیا چنانچہ انسان کو خبر دار کر دیا گیا کہ اگر وہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دے اور کچھ حصے پر بال چھوڑ دے تو یہ ظلم و زیادتی ہے کہ سر کا کچھ حصہ تو ننگا ہو اور کچھ حصہ ڈھانپا ہوا ہو۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”ہم سورج کے سامنے اس طرح بیٹھیں کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ حصہ سائے میں۔“ سنن ابن ماجه الأدب، باب الجلوس بين الظل والشمس، حدیث: 3722، ومسند احمد:414/3 کیونکہ یہ بدن پر ظلم ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتا پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔صحيح البخاري، اللباس، باب لا يمشى في نعل واحدة، حديث: 5855 و صحيح مسلم اللباس والزينة باب استحباب لبس النعل حديث: 2097 کیونکہ یہ پاؤں کے ساتھ ظلم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یا تو دونوں پاؤں میں جوتا پہن کر چلو یا دونوں میں نہ پہنو۔
تحفة المودود ص: 101
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تمنا اور خواہش تھی کہ ان پر ایمان رکھنے والا ہر جاں نثار مسلمان اپنے معاشرے اور ماحول میں اس انداز سے منظر عام پر آئے کہ ہر دیکھنے والی آنکھ اسے صاحب وقار اور باعزت شخص خیال کرے اور ہر مومن ایسے کام کرے جو اس کی شان کے لائق اور اس کی معتدل طبیعت کے عین مطابق ہوں۔
سر کے کچھ حصے کا بالوں سے خالی ہونا اور کچھ حصے پر بال موجود ہونا نہ صرف بے ڈھنگے پن بدصورتی کی علامت اور اسلامی زینت و وقار اور خوبصورتی کے خلاف ہے بلکہ ایسا کرنا اسلامی تشخص کے بھی منافی ہے۔
یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے کہ اکثر و بیشتر والدین اور سر پرست حضرات کو ان شرعی احکام کا بالکل علم نہیں بلکہ جب ان کے سامنے ان مسائل کا ذکر کیا جائے تو وہ نہایت تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور عجیب و غریب تاثرات پیش کرتے ہیں۔ ہزاروں میں سے چند لوگ ہی دیکھنے کو ملیں گے جنھیں ان باتوں کا علم ہوگا اور وہ اپنے رب کے خاص فضل وکرم اور رحمت و توفیق سے ان پر عمل پیرا ہوں گے۔
ان مسائل سے لاعلمی شریعت اسلامیہ میں ناقابل قبول عذر ہے۔ جو مسلمان اسلامی ماحول میں زندگی گزار رہا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ان مسائل کو سمجھے۔ اگر وہ ان سے واقفیت حاصل نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اس کا اپنے آپ کو جاہل اور لاعلم ظاہر کرنا کچھ فائدہ نہ دے گا۔
تمام دینی معاملات اور اولاد کے تربیتی مسائل سے واقفیت حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ان میں کمی کوتاہی اور غفلت سے کام لینے والا قیامت کے دن مجرموں کی طرح کھڑا ہوگا جب کہ تمام انسان اللہ کی عدالت میں جواب دہی کے لیے موجود ہوں گے۔ اللہ ہمیں اس دن کی ہولناکی سے سلامت رکھے۔ آمین!

✿ بد عملی کے بھیانک نتائج:

جن احکام و مسائل کا ہم نے ذکر کیا ہے اگر چہ ہر فرد کے لیے ان کا جاننا اور ان پر عمل کرنا مستحب اور مندوب ہے لیکن مجموعی طور پر پورے معاشرے میں ان کا ہونا ضروری ہے۔ ان احکامات کے مطابق صرف اپنی اولاد کی تربیت و نشوونما کرنا ہی انتہائی ضروری نہیں بلکہ اپنے اہل و عیال اپنے خاندان اور دوست احباب کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے کیونکہ اگر مستحب اور جائز عمل میں تساہل وغفلت سے کام لیا جائے تو یقیناً واجبات وفرائض میں بھی کوتاہی وبے پروائی کا مظاہرہ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ بے راہ روی آرام پرستی اور نفسانی خواہشات میں مبتلا ہو کر غفلت کی بھول بھلیوں میں بھٹک جائے گا۔ بالآخر مسلمان اسلام کی حدود سے نکل کر صریح اور واضح کفر میں داخل ہو جائیں گے۔ اسلام کے زبانی دعووں کے باوجود مسلمان کھلی گمراہی کے میدانوں میں حیران و پریشان سرگرداں رہیں گے اور بالآخر اپنے بہترین مذہب اور دستور حیات یعنی اسلام سے دور ہو جائیں گے۔
تنبیہ: ہر تربیت کرنے والے والدین اور سرپرست پر یہ فرض ہے کہ وہ بذات خود ان احکام پر عمل پیرا ہو اور اپنی اولاد کو بھی مستحب اعمال کا یکے بعد دیگرے عادی بنائے تا کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کی نعمت سے بہرہ ور ہو سکے اور اپنے قول و فعل کو اسلام کے مطابق ڈھال کر اطاعت الہی کی نعمت سے سرفراز ہو سکے۔
ان مسائل پر عمل کرنے سے اللہ رب العزت ہم سے راضی ہوگا اور اپنی توفیق عنایت فرماتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے دشمنوں پر غلبہ ونصرت اور فتح و کامرانی سے سرفراز فرمائے گا۔ اسلام کے پیروکاروں کو دوبارہ ان کی عظمت رفتہ اور عروج و سر بلندی عطا فرمائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل اور گراں نہیں۔ وہ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔