سحری و افطاری کے احکام و مسائل — از مبشر احمد ربانی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سحری و افطاری کا کھانا پینا اور احکام و مسائل :۔

اذان سحری کی شرعی حیثیت :۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن بلالا يؤذن بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم
بخاری کتاب الاذان باب اذان الاعمى اذا كان له من يخبره (617) ، مسلم کتاب الصيام باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر (1092)
”یقیناً بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں، سو تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ (راوی نے) کہا : عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے، وہ اتنی دیر تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک انہیں کہا نہ جائے کہ تو نے صبح کر دی، تو نے صبح کر دی۔“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يمنعن أحدكم أذان بلال من سحوره، فإنه يؤذن بليل ليرجع قائمكم ولينبه نائمكم
بخارى كتاب الاذان باب الاذان قبل الفجر (621) ، مسلم كتاب الصيام باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر (1093)
”تم میں سے کسی کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے، کیونکہ وہ رات کو اذان دیتے ہیں تاکہ تم میں سے قیام کرنے والا واپس پلٹ آئے اور سونے والا بیدار ہو جائے۔“
علامہ سندھی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”اس حدیث سے مراد دونوں کے درمیان وقفے کی قلت ہے نہ کہ حد کی تعیین۔“
نیز امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قال العلماء: معناه أن بلالا كان يؤذن قبل الفجر، ويتربص بعد أذانه للدعاء ونحوه، ثم يرقب الفجر، فإذا قارب طلوعه نزل فأخبر ابن أم مكتوم، فيتأهب ابن أم مكتوم بالطهارة وغيرها، ثم يرقى ويشرع فى الأذان مع أول طلوع الفجر، والله أعلم
شرح مسلم للنووی (1093)
”علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ فجر سے پہلے اذان دیتے تھے اور اذان کے بعد دعا وغیرہ کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ جب طلوعِ فجر قریب ہوتی تو اتر آتے اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو خبر کر دیتے تو وہ وضو وغیرہ کی تیاری کرتے پھر اوپر چڑھ جاتے اور فجر طلوع ہوتے ہی اذان شروع کر دیتے۔“
غرض سحری کی اذان اور صبحِ صادق میں اتنا وقفہ ضرور ہونا چاہیے جس سے آدمی آسانی سے سحری کر لے، قیام کرنے والا واپس پلٹ آئے، سویا ہوا بیدار ہو جائے اور روزے کی تیاری کر لے، کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کھانے پینے سے مانع نہ تھی اس لیے کہ وہ صبح کاذب میں ہوتی تھی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ اس حدیث کی رو سے سمجھایا ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :
تسحرنا مع النبى صلى الله عليه وسلم ثم قام إلى الصلاة، قلت: كم كان بين الأذان والسحور؟ قال: قدر خمسين آية
بخاری کتاب الصوم: باب قدر كم بين السحور وصلاة الفجر (1921) ، مسلم کتاب الصيام باب فضل السحور (1097)
”ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں (انس رضی اللہ عنہ) نے کہا : اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: پچاس آیات (کی تلاوت کے وقت) کے برابر۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا :
يا أنس إني أريد القيام، أطعمني شيئا، فأتيته بتمر وإناء فيه ماء، وذلك بعد ما أذن بلال، فقال: يا أنس، انظر رجلا يأكل معي، فدعوت زيد بن ثابت فجاء، فقال: إني قد شربت شربة سويق، وأنا أريد الصيام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وأنا أريد الصيام، فتسحر معه ثم قام فصلى ركعتين ثم خرج إلى الصلاة
نسائی کتاب الصيام باب السحور بالسويق والتمر (2166)
”اے انس! میرا روزے کا ارادہ ہے مجھے کوئی چیز کھلاؤ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور اور پانی والا برتن لایا اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے بعد کا قصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! کوئی آدمی تلاش کر جو میرے ساتھ کھانا کھائے۔ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دعوت دی تو وہ تشریف لائے اور کہا: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے اور روزے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی روزے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی پھر کھڑے ہوئے، دو رکعت سنت پڑھی اور پھر نماز صبح کے لیے گھر سے نکلے۔“
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کے بعد اتنا وقفہ ضرور ہوتا تھا جس میں آدمی سحری کا انتظام کر کے کھانا کھا لے۔ لہذا دونوں اذانوں کے درمیان اتنا وقفہ ضرور ہونا چاہیے جس میں سحری کا بندوبست ہو سکے۔

اذان کے دوران کھانا پینا :۔

مؤذن کے بارے میں اگر یہ معروف ہو کہ وہ فجر طلوع ہونے کے ساتھ ہی اذان دیتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی اذان سنتے ہی کھانے پینے اور دیگر تمام مفطرات سے رک جانا ضروری ہے، لیکن اگر کیلنڈر کے اعتبار سے ظن و تخمین سے اذان دی جائے تو ایسی صورت میں اذان کے دوران کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن بلالا ينادي بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم
بخاری کتاب الاذان باب الاذان قبل الفجر (620) ، مسلم کتاب الصيام باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر (1092)
”بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے ہیں، سو کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔“
نیز فرمایا :
”جو شخص شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا۔“ بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراء لدينه (52) ، مسلم كتاب المساقاة باب اخذ الحلال وترك الشبهات (1599)
لیکن اگر یہ بات متعین ہو کہ مؤذن کچھ رات باقی رہنے پر طلوعِ فجر سے پہلے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے اذان دیتا ہے جیسا کہ بلال رضی اللہ عنہ کرتے تھے تو ایسی صورت میں مذکورہ بالا حدیث پر عمل کرتے ہوئے کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں، یہاں تک کہ طلوعِ فجر کے ساتھ اذان دینے والے مؤذن کی اذان شروع ہو جائے۔

سحری کھانے کا آخری وقت :۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ(البقرۃ : 187)
”اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے۔“
اس آیت کریمہ میں ”الخيط الابیض“ سے مراد صبحِ صادق اور ”الخيط الاسود“ سے مراد رات ہے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو میں نے اونٹ باندھنے والی ایک سیاہ رسی اور ایک سفید رسی اپنے تکیے کے نیچے رکھ لی۔ میں رات کے وقت انہیں دیکھنے لگا تو مجھے صاف نظر نہ آئی۔ (حالانکہ اسے اب تک سفید ہو جانا چاہیے تھا) میں نے صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر سارا ماجرا سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنما ذلك سواد الليل وبياض النهار
بخاری، کتاب الصوم : باب قول الله تعالى : (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ) (1916)
”اس آیت کریمہ میں سیاہ اور سفید دھاگے سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سحری کا وقت بتا دیا ہے کہ صبحِ صادق تک تم کھا پی سکتے ہو۔ وقت کی حدود متعین کرنے میں کچھ وسعت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جس طرح آج گھڑیاں موجود ہیں، ظاہر بات ہے زمانہ رسالت اور زمانہ خلفائے راشدین وغیرہ میں یہ ایجادات موجود نہ تھیں، لوگ ستاروں اور چاند کے ساتھ رات کے اوقات معلوم کرتے تھے۔ اس لیے اگر سحری میں ایک دو منٹ کی تاخیر ہو جائے تو کوئی قیامت بپا نہیں ہوتی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده، فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه
ابو داؤد كتاب الصوم : باب في الرجل يسمع النداء والاناء في يده (2350)، حاکم (1/426) دار قطنی (2162)
”جب تم میں سے کوئی آدمی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس برتن کو حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے۔“
مولانا عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وفيه إباحة الأكل والشرب من الإناء الذى فى يده عند سماع الأذان للفجر، وأن لا يضعه حتى يقضي حاجته
مرعاة المفاتيح (6/ 469)
”اس حدیث میں فجر کی اذان سنتے وقت اس برتن سے کھانے اور پینے کی اباحت معلوم ہوتی ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ وہ اسے اپنی حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے۔“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کا شاہد بھی موجود ہے۔ (مسند احمد : 3/ 348)
ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح : 2/470)

روزہ کے لیے سحری کھانا لازمی ہے :۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تسحروا ولو بجرعة من ماء
موارد الظمآن (883)
”سحری کھاؤ اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ سے ہو۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سحری کھانے کے لیے بیدار ہونا ضروری ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر
مسلم کتاب الصيام : باب فضل السحور و تأكيد استحبابه (1096)
”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق سحری کا کھانا ہے۔“
سحری میں اللہ تعالیٰ نے برکت بھی رکھی ہوئی ہے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تسحروا فإن فى السحور بركة
بخاری کتاب الصوم: باب بركة السحور من غير ايجاب (1923) مسلم كتاب الصيام باب فضل السحور (1095)
”سحری کھاؤ اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“
دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السحور فى رمضان، فقال: هلم إلى الغداء المبارك
ابوداؤد ، کتاب الصيام : باب من سمى السحور الغداء (2344) نسائی کتاب الصیام باب دعوة السحور (2164) موارد الظمآن (882)
”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں سحری کھانے کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صبح کے بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔“

سب سے بہترین چیز جس سے سحری کھائی جا سکتی ہے :۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
نعم سحور المؤمن التمر
ابوداؤد، کتاب الصيام باب من سمى السحور الغداء (2345) موارد الظمآن (884)
”مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے۔“

تاخیر سے سحری کھانا انبیاء کا شیوہ ہے :۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنا معشر الأنبياء أمرنا أن نعجل إفطارنا ونؤخر سحورنا وأن نضع أيماننا على شمائلنا فى الصلاة
موارد الظمآن (885)، طبرانی کبیر (11/ 199)، (11485)
”یقیناً ہم انبیاء کا گروہ ہیں، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی سحری میں تاخیر کریں اور افطاری جلدی کریں اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھیں۔“

روزہ توڑ دینے کا کفارہ :۔

جو آدمی کسی بھی وجہ سے عمداً (جان بوجھ کر) روزہ توڑ دے اس کے لیے یہ کفارہ ہے :
◈ ایک غلام آزاد کرے۔
◈ اگر یہ طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔
◈ اگر یہ نہ ہو سکے تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
بخاری، کتاب الصوم : باب اذا جامع في رمضان (1936) ، مسلم کتاب الصیام باب تغلیظ تحريم الجماع في نهار رمضان (1111)

روزہ کب افطار کیا جائے؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ(البقرۃ : 187)
”پھر روزہ رات تک پورا کرو۔“
یعنی رات ہوتے ہی روزہ افطار کر دو، تاخیر مت کرو۔ رات (لیل) کی ابتدا غروبِ آفتاب سے ہوتی ہے۔
علامہ محمد بن یعقوب فیروز آبادی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :
الليل والليلة من مغرب الشمس إلى طلوع الفجر الصادق أو الشمس
القاموس المحيط (1364)
”رات غروبِ شمس سے لے کر فجرِ صادق کے طلوع ہونے تک یا طلوعِ شمس تک ہے۔“
علامہ ابن منظور الافریقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مبدؤه من غروب الشمس رات کی ابتدا غروبِ شمس سے ہے۔
ائمہ لغات کی توضیح سے معلوم ہوا کہ لیل کی ابتدا غروبِ آفتاب سے ہوتی ہے، لہذا جوں ہی سورج غروب ہو روزہ افطار کر لیا جائے، تاخیر نہ کی جائے کیونکہ تاخیر سے روزہ افطار کرنا یہود و نصاریٰ کا کام ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصارى يؤخرون
ابوداؤد كتاب الصوم: باب ما يستحب من تعجيل الفطر (2353) ، ابن ماجه کتاب الصيام باب ما جاء في تعجيل الافطار (1298) ، ابن خزيمة (2060) ابن حبان (889) حاکم (1/431)
”دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطاری کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ روزہ دیر سے کھولنا یہود و نصاریٰ کا کام ہے اور ان کے متبعین کا روزہ موجود دور میں بھی مسلمانوں سے دس یا پندرہ منٹ بعد کھلتا ہے۔ وہ افطاری کے لیے سائرن کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور سائرن بھی غروبِ آفتاب کے بعد دیر سے بجایا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں یاد رہے کہ عبادت کے لیے سائرن بجانا بھی یہود و نصاریٰ کا عمل ہے۔ اہل اسلام کے ساتھ اس عمل کا کوئی تعلق نہیں بلکہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی روزہ کھول دینا چاہیے :
عن سهل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر
بخاری کتاب الصوم: باب تعجيل الافطار (1957) ، مسلم، کتاب الصيام: باب فضل السحور (1098)
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، بھلائی سے رہیں گے۔“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا أقبل الليل من ها هنا وأدبر النهار من ها هنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم
”جب رات ادھر سے آجائے اور دن ادھر سے پیٹھ پھیر جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار روزہ کھول دے۔“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تزال أمتي على سنتي ما لم تنتظر بفطرها النجوم
موارد الظمان : 891
میری امت ہمیشہ میری سنت پر رہے گی جب تک روزے کی افطاری کے لیے ستاروں کا انتظار نہیں کرے گی۔
مندرجہ بالا صحیح احادیث سے معلوم ہوا کہ افطاری کا وقت غروب آفتاب ہے اس لیے روزہ سورج غروب ہوتے ہی افطار کرلیں، دیر نہ کریں۔

کس چیز سے روزہ افطار کرنا چاہیے ؟

سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور
ترمذی، کتاب الزكاة باب ما جاء فى الصدقة على ذى القرابہ (658) ، ابوداؤد کتاب الصیام باب ما يفطر عليه (2355) ، احمد (4/ 18/17) ابن ماجہ (1699) دارمی (1708) موارد الظمآن (892)
جب تم میں سے کوئی روزہ کھولے تو وہ کھجور سے کھولے کیونکہ اس میں برکت ہے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے روزہ کھولے اس لیے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر على رطبات قبل أن يصلي فإن لم تكن رطبات فعلى تمرات فإن لم تكن حسا حسوات من ماء
ابوداؤد کتاب الصیام باب ما يفطر عليه (2356) ترمذی کتاب الصوم، باب ما جاء ما يستحب عليه الافطار (696) ، دار قطنی (2/ 185)، مستدرك حاكم (1/ 432)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوریں کھا کر روزہ افطار کرتے تھے اگر تازہ کھجوریں دستیاب نہ ہوتیں تو خشک کھجوریں کھا کر افطار کرتے اگر وہ بھی نہ ملتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے تھے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قط صلى صلاة المغرب حتى يفطر ولو على شربة من ماء
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو افطاری سے پہلے مغرب کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے ایک گھونٹ ہی پر افطار کرتے۔“
مندرجہ بالا صحیح احادیث سے معلوم ہوا کہ کھجور کے ساتھ روزہ کھولنا بہتر ہے اور اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کر لیں۔ روزے کی وجہ سے جسم میں نقاہت و کمزوری واقع ہوتی ہے، کھجور سے جسم کی تقویت ملتی ہے، کھجور نہایت مفید اور مقوی غذا ہے۔

روزہ افطار کرنے کی دعا :۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار کرتے تو کہتے :
ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله
”پیاس چلی گئی ، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔“
نیز یہ دعا بھی پڑھی جاتی ہے۔
اللهم إني لك صمت وعلى رزقك أفطرت
یہ دعا مرسل روایت میں ہے اور مرسل روایت محدثین کے ہاں ضعیف کی اقسام سے ہے۔

روزہ افطار کرانا :۔

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من فطر صائما أو جهز غازيا فله مثل أجره
موارد الظمآن : 891
”جس نے روزہ دار کو روزہ افطار کروایا یا غازی کو سامان جہاد دیا تو اس کے لیے اسی کی مثل اجر ہے۔“