مضمون کے اہم نکات
سجدہ سہو (نماز میں بھول چوک کے سجدے) کے تین طریقے ثابت ہیں
پہلا طریقہ:
✔ نمازی کو چاہیے کہ نماز مکمل کرے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے اور پھر نماز کا سلام پھیر دے۔
مثال: سیدنا عبداللہ بن بحینہ الاسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر میں (بھول کر) درمیانی تشہد پڑھے بغیر کھڑے ہوگئے۔ جب نماز مکمل کی تو:
سجد سجدتین یکبّر فی کلّ سجدۃ وہو جالس قبل أن یّسلّم وسجدہما النّاس معہ مکان ما نسی من الجلوس۔
"(اس بھولے ہوئے تشہد کے بدلے میں) آپ نے بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کر لیے، لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔”
(صحیح بخاری: 1/164، حدیث: 1230، صحیح مسلم: 1/211، حدیث: 580)
دوسری روایت: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے چاہیے کہ شک کو ختم کرے اور یقین پر عمل کرے،
ثمّ یسجد سجدتین قبل أن یسلّم۔
"(پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے)، اگر اس نے (بھول کر) پانچ رکعتیں پڑھ لیں، تو وہ (ان دو سجدوں کی وجہ سے) اس کی نماز کو جفت کر دیں گے، اگر اس نے چار رکعت مکمل کرنے کے لیے ایک رکعت پڑھی ہے، تو وہ دونوں (سجدے) شیطان کی تذلیل کے لیے ہیں۔”
(صحیح مسلم: 1/211، حدیث: 571)
امام مکحول شامی تابعی اور امام اہلِ سنت زہری فرماتے ہیں:
سجدتان قبل أن یسلّم۔
"سلام سے پہلے دو سجدے ہیں۔”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 2/30، وسندہ، حسن)
دوسرا طریقہ:
✔ سلام کے بعد دو سجدے کرے، پھر دوبارہ سلام پھیرے۔
مثال: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے (بھول کر نماز میں) کمی کی یا زیادتی کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو عرض کیا گیا:
اے اللہ کے رسول! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ نے فرمایا، وہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے ایسے ایسے نماز ادا فرمائی ہے۔ اس پر آپ نے اپنے پاؤں مبارک کو دوہرا کیا، قبلہ کی طرف رخِ انور فرمایا،
وسجد سجدتین، ثمّ سلّم۔
"اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔” جب ہماری طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا، اگر نماز میں کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں آگاہ کرتا، لیکن میں بشر ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو، اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو تو درستی کے لیے غور کرے اور اسی پر اپنی نماز پوری کرے،
ثمّ یسلّم، ثمّ یسجد سجدتین۔
"پھر سلام پھیرے، پھر دو سجدے کرے۔”
(صحیح بخاری: 1/58، حدیث: 601)
دوسری روایت: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔ تین رکعات کے بعد سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ خرباق نامی ایک شخص، جس کے ہاتھ لمبے تھے، کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا:
اے اللہ کے پیغمبر! (اس نے آپ کا یہ فعل ذکر کیا)، آپ غصے میں چادر گھسیٹتے ہوئے واپس آئے اور فرمایا، کیا یہ سچ کہتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا، جی ہاں! اس پر آپ نے ایک رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا،
ثمّ سجد سجدتین، ثمّ سلّم۔
"پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔”
(صحیح مسلم: 1/214، حدیث: 574)
مزید وضاحت: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے سجدہ سہو کے بارے میں فرمایا:
یسلّم، ثمّ یسجد، ثمّ یسلّم۔
"سلام پھیرے، پھر سجدہ کرے، پھر سلام پھیرے۔”
(شرح معانی الآثار للطحاوی: 1/442، وسندہ، حسن)
تیسرا طریقہ:
✔ نماز مکمل کرے ، سلام کے بعد دو سجدے کر ے ، پھر تشہد پڑھے ، پھر سلام پھیرے ، جیسا کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
انّ النّبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم صلّی بھم ، فسہا ، فسجد سجدتین ، ثمّ تشہّد ، ثمّ سلّم ۔
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی ، آپ بھول گئے ، (سلام پھیرنے کے بعد )دو سجدے کیے ، پھر تشہد بیٹھے ؎، پھر سلام پھیرا ۔”
(سنن ابی داو،د : 1039، سنن ترمذی : 395، وسندہ، صحیح)
محدثین کی آراء
-
امام ترمذی نے اس کو ”حسن غریب صحیح” کہا۔
-
امام ابنِ خزیمہ (1062) نے ”صحیح” کہا۔
-
امام ابنِ حبان (2670، 2672) اور امام حاکم (1/323) نے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح” کہا۔
-
حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی۔
زیادت ثمّ تشہّد
-
یہ الفاظ محمد بن سیرین کے شاگرد اشعث بن عبدالملک الحرانی نے روایت کیے ہیں۔
-
وہ ”ثقہ” ہے، لہٰذا یہ زیادت محفوظ ہے۔
ابن سیرین کا قول:
لم أسمع فی التّشہّد وأحبّ الیّ أن یتشہّد ۔”میں نے تشہد کے بارے میں (کچھ )نہیں سنا ، تشہد بیٹھنا ہی مجھے محبوب ہے ۔”(سنن ابی داؤد : 1010)
یہ اس روایت کے لیے موجبِ ضعف نہیں بلکہ یہ ”نَسِیَ بعد ما حدّث” کی قبیل سے ہے۔
ائمہ کے اقوال
-
امام ابن المنذر (الاوسط : 3/317)
-
امام بیہقی (2/355)
-
امام ابن عبدالبر (التمہید : 10/209)
ان حضرات کا ثم تشہد کے الفاظ کو غیر ثابت کہنا صحیح نہیں۔
؎وضاحت:
[جمہور اہلحدیث علماء کے نزدیک درست موقف یہی ہے کہ ثمّ تشہّد کے الفاظ شاذ ہیں، لہذا یہ تیسرا طریقہ درحقیقت وہی ہے جو دوسرے طریقہ میں بیان ہوا، کہ سلام کے بعد دو سجدے کیئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے، توحید ڈاٹ کام]
فائدہ نمبر 1: حدیث ابنِ مسعود
(مسند الامام احمد : 1/428-429، سنن ابی داؤد: 1028، السنن الکبرٰی للنسائی : 605، السنن الکبرٰی للبیہقی : 2/355-356)
علت: مرسل روایت
-
ابو عبیدہ کا اپنے باپ (سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ) سے سماع نہیں۔
اقوالِ محدثین
-
حافظ ابنِ حجر:
والرّاجح أنّہ لا یصحّ سماعہ من أبیہ
”راجح یہ ہے کہ ابو عبیدہ کا اپنے والد سے سماع صحیح ثابت نہیں ۔”(التقریب : 8231)
نیز فرماتے ہیں:
فانّہ عند الأکثر لم یسمع من أبیہ ۔
”اکثر (محدثین) کے نزدیک ابو عبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ۔”
(موافقۃ الخبر الخبر : 1/364)
-
امام ابن المنذر:
الخبر غیر ثابت ۔
”یہ روایت ثابت نہیں ہے ۔”(الاوسط : 3/317)
-
امام بیہقی:
وہذا غیر قویّ ومختلف فی رفعہ ومتنہ ۔
(السنن الکبرٰی للبیہقی : 2/356)
فائدہ نمبر 2: حدیث مغیرۃ بن شعبہ
(السنن الکبرٰی للبیہقی : 2/355)
علت: سند ضعیف
-
راوی: محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ
-
جمہور کے نزدیک ”ضعیف” اور ”سیئ الحفظ” ہے۔
اقوالِ محدثین
-
حافظ ابنِ کثیر:
سیّیئ الحفظ ، لا یحتجّ بہ عند أکثرہم ۔
(تحفۃ الطالب : 345) -
حافظ بیہقی:
وہٰذا ینفرد بہ ابن أبی لیلیٰ ہٰذا ، ولا حجّۃ فیما ینفرد بہ لسوء حفظہ وکثرۃ خطئہ فی الرّوایات۔
(معرفۃ السنن والآثار : 3/282)
اقوال فقہاء و تابعین
-
امام ابنِ سیرین (سنن ابی داؤد : 1010، وسندہ، صحیح)
-
امام شافعی (الام : 1/130)
-
امام احمد بن حنبل (مسائل احمد لابی داؤد : 53)
-
امام ابراہیم نخعی (مصنف ابن ابی شیبہ : 1/31، وسندہ، صحیح)
-
حکم بن عتیبہ
-
امام حماد بن ابی سلیمان (مصنف ابن ابی شیبہ)
خلاصہ:
یہ مضمون سجدہ سہو کے تین مستند طریقوں کی وضاحت کرتا ہے جو نماز میں بھول چوک کی صورت میں ادا کیے جاتے ہیں:
- پہلا طریقہ: نماز مکمل کرنے کے بعد سلام سے پہلے دو سجدے کیے جائیں۔
- دوسرا طریقہ: نماز مکمل کرکے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے جائیں اور پھر دوبارہ سلام پھیر دیا جائے۔
- تیسرا طریقہ: دو سجدے کیے جائیں، پھر تشہد پڑھ کر دوبارہ سلام پھیرا جائے۔
ہر طریقے کی وضاحت احادیث، محدثین کے اقوال، اور ان کے درجے کے اعتبار سے کی گئی ہے، اور اس میں روایتوں کی صحت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔