مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سجدہ سہو کے بغیر نماز کا حکم: ایک اہم فتویٰ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 403

سوال

سجدہ سہو رہ جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

امام نے تین رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گیا۔ مقتدی نے لقمہ دیا، امام کھڑا ہوگیا اور چوتھی رکعت پوری کرلی، لیکن سجدہ سہو نہیں کیا۔
اس صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ نماز دوبارہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟
(ظفر اقبال، کامرہ)

الجواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی صورت میں نماز دوبارہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔

اس لیے نماز ادا ہوگئی ہے اور اسے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔

📚 حوالہ: (شہادت، دسمبر 2003ء)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔