مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سجدہ سہو کا درست طریقہ اور حدیث کی روشنی میں وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، نماز کا بیان ج1، ص199

سوال

سجدہ سہو کا کیا طریقہ ہے؟ کیا یہ کسی وقفے کے دوران کیا جانا چاہیے (جیسے کہ امام صاحب تشہد کے لیے بیٹھتے ہی دو سجدے کر لیتے ہیں پھر مکمل تشہد پڑھ کر سلام پھیرتے ہیں)؟ کیا دو سجدے کرنے سے پہلے دائیں طرف سلام پھیرا جاتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

✿ سجدہ سہو کی مختلف صورتیں ہیں، جن میں سے بعض صورتوں میں سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے کیا جاتا ہے اور بعض میں سلام پھیرنے کے بعد۔

✿ ان تمام صورتوں کی تفصیل کتب حدیث میں موجود ہے، لہٰذا وہاں سے رجوع کرنا مناسب ہوگا تاکہ صحیح رہنمائی حاصل ہو سکے۔

✿ آپ نے جو صورت ذکر کی ہے (کہ امام صاحب تشہد کے لیے بیٹھتے ہی دو سجدے کر لیتے ہیں، پھر مکمل تشہد کے بعد سلام پھیرتے ہیں)، ایسی کوئی بھی صورت کسی صحیح حدیث میں دکھائی نہیں دیتی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔