سجود کا بیان
❀ اس باب میں ان مواقع کو بیان کیا جا رہا ہے کہ جہاں شریعت نے ہمیں صرف سجدہ کرنے کی ہدایت کی ہے، نماز ادا کرنے کی نہیں۔
❀ سجدہ چونکہ نماز نہیں ہے، لہذا اس کے لیے نماز کے احکام و مسائل اور شرائط کی پابندی ضروری نہیں۔
❀ سجدہ کے لیے وضو ضروری نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما أمرت بالوضوء إذا قمت إلى الصلاة
”مجھے صرف نماز کے لیے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔“
(أبو داود، کتاب الأطعمة، باب في غسل اليدين عند الطعام: 3760 – ترمذی: 1847 – نسائی: 132 – صحیح)
سجدہ تلاوت کا بیان:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي يقول يا ويلي أمر ابن آدم بالسجود فسجد فله الجنة وأمرت بالسجود فأبيت فلي النار
”جب آدمی سجدہ والی آیت تلاوت کرتا ہے اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان علیحدہ ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے: ہائے میری ہلاکت! آدم کے بیٹے کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا، لہذا اسے جنت ملے گی، جبکہ مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی اور میرے لیے آگ ہے۔“
(مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة: 81)
❀ نماز میں قرآن مجید کی سجدہ والی آیت تلاوت کی جائے تو سجدہ کرنا چاہیے۔
❀ امام نماز میں آیت سجدہ پر سجدہ کرے تو مقتدی بھی سجدہ کریں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يقرأ علينا السورة فيها السجدة فيسجد ونسجد
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کوئی سجدہ والی سورت پڑھتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے تھے۔“
(بخاری، کتاب سجود القرآن، باب من سجد لسجود القارئ: 1075)
❀ سجدہ تلاوت میں مندرجہ ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ
”اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے لیے اپنے پاس ثواب لکھ اور اس کی وجہ سے مجھ سے گناہوں کا بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنا دے اور اس سجدے کو میری طرف سے قبول فرما، جس طرح تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام سے قبول فرمایا ہے۔“
(ترمذی، کتاب الجمعة، باب ما جاء ما يقول في سجود القرآن: 579 – ابن ماجه: 1053 – صحیح)
دوسری دعا، جو مشہور ہے : سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقُّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ یہ عام سجدوں کی دعا ہے اور جس روایت میں سجدہ تلاوت کا ذکر ہے، جیسے ابو داؤد (1414) وہ ضعیف ہے، اس میں ایک راوی” رجل “مجہول ہے۔
❀ سجدہ تلاوت فرض نہیں، یعنی چھوڑ دینے پر گناہ نہیں۔ زید بن ثابت بھی نہ فرماتے ہیں:
قرأت على النبى صلى الله عليه وسلم والنجم فلم يسجد فيها
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت کی تو آپ نے سجدہ نہیں کیا ۔“
( بخاری کتاب سجود القرآن باب من قرء السجدة ولم يسجد : 1073، مسلم : 577)
سجدہ آیات (آفات) کا بیان:
❀ کوئی بھی آفت ظاہر ہو تو فوراً سجدہ میں گر جانا چاہیے۔
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی فوت ہو گئی ہیں تو آپ سجدے میں گر گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ اس موقع پر سجدہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم آية فاسجدوا و أى آية أعظم من ذهاب أزواج النبى صلى الله عليه وسلم
”جب تم کوئی آفت دیکھو تو فوراً سجدہ میں گر جاؤ اور بھلا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے بڑھ کر بھی کوئی حادثہ ہو گا۔“
(أبو داود، کتاب الصلاة، باب السجود عند الآيات: 1197 – ترمذی: 3891 – حسن)
سجدہ شکر کا بیان:
❀ جب آدمی کو کوئی نعمت یا خوشخبری ملے تو اسے فوراً سجدہ میں گر جانا چاہیے۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں:
أنه كان إذا جاء أمر سرور أو بشر به خر ساجدا شاكرا لله
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی نعمت میسر آتی، یا کوئی خوشخبری ملتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں چلے جاتے۔“
(أبو داود، کتاب الجهاد، باب في سجود الشكر: 2774 – ترمذی: 1578 – ابن ماجه: 1392 – حسن)