سجدوں کے درمیان رفع یدین اور حدیث مالک بن الحویرث

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حدیث مالک بن الحویرث

عن أبى قلابة أنه رأى مالك بن الحويرث إذا صلى كبر ثم رفع يديه وإذا أراد أن يركع رفع يديه وإذا رفع رأسه من الركوع الله رفع يديه وحدث أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم كان يفعل هكذا
ابو قلابہ تابعی فرماتے ہیں کہ (سیدنا) مالک بن الحویرث ( رضی اللہ عنہ ) جب نماز پڑھتے تو تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے اور جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اُٹھاتے تو رفع الیدین کرتے اور فرماتے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ صحیح البخاری 102/1 ح 737 وصحیح مسلم 168/1 ح391 واللفظ له وترقیم دار السلام 864
یہ حدیث درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
صحیح ابن خزیمہ (295/1 ح 585) صحیح ابن حبان (175/3 ح 1870) صحیح ابی عوانہ (94/2) ابوقلابہ عبداللہ بن زید ثقہ تھے۔ انھیں محمد بن سیرین تابعی اور ابو حاتم الرازی نے ثقہ کہا۔
الجرح والتعدیل 58/5 وھو صحیح
آپ کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے۔ [الاستغناء فی اسماء المعروفين بالکنی ص92]
یہ حدیث سیدنا مالک بن الحویرث صلی الله سے ابو قلابہ اور نصر بن عاصم (دو تابعین) نے روایت کی ہے۔ ابوقلابہ سے خالد الحذاء اور اس سے خالد بن عبد الله الطحان اور اسماعیل بن علیہ نے یہ روایت بیان کی ہے۔
نصر بن عاصم سے قتادہ نے اور اس سے شعبہ، سعید بن ابی عروبه، سعید بن بشیر، ہمام عمران القطان، حماد بن سلمہ، ہشام اور ابوعوانہ نے یہ روایت بیان کی ہے۔
شعبہ سے عاصم بن علی، خالد، حفص بن عمر، یحی بن سعید، ابوداود الطیالسی، سلیمان ابن حرب، ابن مہدی، ابو الولید الطیالسی، عبد الصمد اور آدم بن ابی ایاس نے روایت بیان کی ہے۔ ان میں سے کسی روایت میں سجدوں والے رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے۔ شعبہ کی روایت قتادہ سے تصریح سماع پر محمول ہوتی ہے۔
سعید بن ابی عروبہ سے عبدالاعلیٰ، ابن نمیر، یزید بن زریع، ابن علیۃ، ابن ابی عدی، محمد بن حفص اور خالد بن الحارث نے یہ روایت بیان کی ہے۔ بعض کی روایات میں سجدوں والے رفع الیدین کا ذکر ہے مگر قتادہ مدلس ہیں اور سجدوں میں رفع یدین والے الفاظ میں ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے لہذا یہ روایات ضعیف ہیں۔ حماد، عمران اور سعید کی روایات میں سجدوں والے رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے۔ ہمام کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ في الركوع (قبل الركوع) وفي السجود (قبل السجود داذا رفع راسه من الركوع) لہذا یہ روایت اپنے منطوق پر صریح نہیں ہے۔ ہشام سے ابو عامر، عبدالصمد، یزید بن زریع اور معاویہ بن ہشام یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ صرف معاویہ بن ہشام کی روایت میں سجدوں والے رفع الیدین کا ذکر ہے۔ باقی تینوں کی روایات میں نہیں۔
فائدہ: سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کے وفد میں غزوہ تبوک کی تیاری کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تھے۔ دیکھئے فتح الباری (ج 2 ص 110 ا تحت ح 628) ارشاد الساری للقسطلانی (16/2)
غزوہ تبوک 9 ہجری میں ہوا تھا۔ دیکھئے فتح الباری (111/8 ح 4415)

سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ ، حدیث رفع یدین اور قبول اسلام
سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ ، حدیث رفع یدین اور قبول اسلام
انور شاہ کاشمیری دیوبندی کہتے ہیں: وشعبة فى النسخة غلط
اور (سنن نسائی کے) نسخہ میں شعبہ (کا لفظ) غلط ہے الخ (نیل الفرقدين ص 32) یہ عبارت حبیب اللہ ڈیروی دیو بندی نے نقل کر کے اس پر حسب عادت نیش زنی کر رکھی ہے۔ (دیکھئے نور الصباح ص230)
سیدنا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ ، حدیث رفع یدین اور قبول اسلام
محمد یوسف بنوری دیوبندی صاحب نے کہا:
تنبيه وقع فى نسخة النسائي المطبوعة بالهند: شعبة عن قتادة بدل سعيد عن قتادة وهو تصحيف صرح عليه شيخنا أيضا فيه ”نيل الفرقدين“ وقال فيه [معارف السنن ج 2 ص 456]
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ بنوری صاحب بھی اپنے استاد انور شاہ کاشمیری کی طرح شعبہ کے لفظ کو وہم سمجھتے ہیں اور صحیح لفظ سعید قرار دیتے ہیں۔ یہ دو دیوبندی اکابر کی گواہی ہے۔
اس کی تردید کرتے ہوئے ڈیروی صاحب لکھتے ہیں کہ جس طرح شعبہ رحمہ اللہ نسائی میں موجود ہیں اسی طرح سے صحیح ابو عوانہ میں بھی موجود ہیں۔ (نور الصباح ص230)
قارئین کرام! ڈیروی صاحب کی یہ بات سوفی صد جھوٹ ہے۔ آپ مسند ابی عوانہ اُٹھا کر دیکھیں (جلد 2 صفحہ 95،94) اس میں شعبہ کی جو روایت ہے وہ عبد الصمد اور ابوالولید کی سند کے ساتھ ہے اور اس میں ڈیروی صاحب کے بیان کردہ سجدوں والے رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے۔
تنبیہ: یہاں عدم ذکراور نفی ذکر کا مسئلہ نہیں کیونکہ شعبہ کی بیان کردہ اس روایت میں کہیں بھی سجدوں والے رفع یدین کا وجود نہیں ہے۔
یہ اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ سجدوں والے رفع الیدین کی روایت شعبہ کی سند کے ساتھ نہیں ہے۔ نسائی کی روایت سعید بن ابی عروبہ سے ہے،شعبہ سے نہیں ہے۔

سنن النسائی کی سجدوں میں رفع الیدین والی حدیث

امام نسائی رحمہ الله فرماتے ہیں:
أخبرنا محمد بن المثنى: حدثنا ابن أبى عدي عن سعيد عن قتادة عن نصر بن عاصم عن مالك بن الحويرث أنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم رفع يديه فى صلاته وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع وإذا سجد وإذا رفع رأسه من السجود حتى يحاذي بهما فروع أذنيه
(ج 2 ص 205 206 ح 1086 طبع دار السلام)
یادرہے کہ امام نسائی کی سنن صغری (المجتبی) کے عام نسخوں میں غلطی سے ”عن سعید“ کے بجائے ”عن شعبة‘ چھپ گیا ہے۔

دلیل نمبر 1:

ابن ابی عدی سے یہی روایت احمد بن حنبل نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے نقل کی ہے۔ [مسنداحمد 436/3 ح 15685]

دلیل نمبر 2:

ابن ابی عدی سے محمد بن المثنی کی روایت امام مسلم نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے نقل کی ہے۔ (صحیح مسلم ح391/26 وترقیم دارالسلام: 866)

دلیل نمبر 3:

یہی روایت اسی سند و متن کے ساتھ امام نسائی کی السنن الکبری (ج 1 ص 228 ح 672 دوسرا نسخہ ج1 ص 343 ح 676) ”میں سعید عن قتادة“ کی سند سے موجود ہے۔
یہ اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے ”المجتبی“ میں ناسخ یا کاتب کی غلطی کی وجہ سے ”سعید عن قتادة “کے بجائے ”شعبة عن قتادة“ درج ہو گیا ہے۔

دلیل نمبر 4:

ابن حزم نے المحلی (92/4 مسئلہ 442) میں اپنی سند کے ساتھ امام نسائی (کی السنن الکبری) سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس میں سعید بن ابی عروبہ کا نام ہے۔
امام نسائی کے شاگرد محمد بن معاویہ/ ابن الاحمر ثقہ تھے۔ (سیر اعلام النبلا 68/16)

دلیل نمبر 5:

حافظ ابن حجر نے فتح الباری (177/2) میں یہ روایت نسائی سے سعید بن ابی عروبہ کی صراحت سے نقل کی ہے۔ (حافظ المزی نے تحفتہ الاشراف میں شعبہ کے طریق سے نقل کی ہے لہذا یہ خط قدیم ہے)

دلیل نمبر 6:

حافظ ابن حبان نے بتایا کہ (بعض اوقات) سعید، شعبہ اور شعبہ سعید بن جاتا ہے۔ [الحجر وحین ج 1ص 59]

دلیل نمبر7:

طحاوی حنفی نے یہی روایت امام احمد بن شعیب النسائی سے ”سعید“ کی سند سے نقل کی ہے۔ (مشکل الآثار طبع جدید ج 15 ص 57 تحفته الا خیار ج 2 ص 31 ح 632)

دلیل نمبر 8:

امام بیہقی نے محمد بن المثنی والی روایت سعید کی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔( السنن الکبری 25/2، 71)
غرض یہ کہ یہ روایت سعید بن ابی عروبہ کی سند سے ہے اور تدلیس سعید، اختلاط سعید تدلیس قتادہ اور شذوذ کی وجہ سے ضعیف ہے۔