سجدوں میں رفع الیدین سے متعلق 6 احادیث

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سجدوں میں رفع اليدين کا مسئلہ

بعض لوگ سجدوں میں رفع اليدين والی روایات پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سجدوں میں بھی رفع اليدين کرنا سنت ہے، حالانکہ ان تمام روایات میں سے ایک روایت بھی اصول حدیث کی رُو سے ثابت نہیں ہے۔ اس سلسلے کی مرفوع روایات کا مختصر و جامع جائزہ درج ذیل ہے:

➊ مالک بن الحويرث رضی اللہ عنہ

ابن أبى عدي عن سعيد عن قتادة عن نصر بن عاصم عن مالك بن الحويرث أنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم رفع يديه فى صلاته وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع وإذا سجد وإذا رفع رأسه من السجود حتى يحاذي بهما فروع أذنيه
( السنن الكبرى للنسائي ج 1 ص 228 ح 672، واللفظ له، السنن الكبرى للنسائي ج1 ص 129 حدیث 1086 ، التعليقات السلفية على تصحيح فيه الحلمی لابن حزم من طريق النسائي ج 4 ص 92 مسئله 442، فتح الباری عن النسائي ج 2 ص 223 تحت حدیث 739)
اس حدیث پر تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔ مختصر عرض ہے کہ المجتبی میں ”شعبة عن قتادة“ کا لفظ تصحیف اور غلط ہے۔ صحیح لفظ ”سعيد عن قتادة“ ہے جیسا کہ المجتبی کی اصل السنن الكبرى میں ہے۔ المجتبی اسی کتاب کا اختصار ہے۔
(حاشیة السندھی علی النسائی ج 3 نظر المصلين باحوال المصنفین یعنی حالات مصنفین درس نظامی ص 107)
جب اصل میں سعيد ہے تو اس کے اختصار یا انتخاب میں ”شعبہ“ بن جانا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے؟ استاذ محترم مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ اور الاستاذ احمد بن محمد بن شاکر رحمہ اللہ وغیرہما نے بھی اسے تصحیف قرار دیا ہے۔ [التعلیقات السلفیۃ ص 129، وغیرہ]
بلکہ انور شاہ کشمیری دیوبندی اور محمد یوسف بنوری دیوبندی بھی اسے تصحیف (غلط) ہی سمجھتے ہیں۔ كما تقدم
السنن المجتبی للنسائی میں دوسرے مقامات پر بھی کاتبوں کی غلطی سے ”سعيد“ کو ”شعبہ“ لکھ دیا گیا ہے۔ مثلاً:
کتاب الجنائز باب 106، انتخاذ القبور مساجد (ح 2048) (التعليقات السلفیه ج 1 ص 233) یہی روایت السنن الكبرى للنسائی (ج 1 ص 658 ح 2173) وغیرہ میں سعيد کی سند سے ہے۔ و هو الصواب
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے کمال تحقیق کرتے ہوئے بتایا کہ کاتبوں کی غلطی سے سعيد، شعبہ اور شعبہ سعيد بن جاتا ہے۔ (دیکھیے کتاب المجروحین 59/1)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس حدیث کے راوی سعيد (بن أبي عروبہ) ہیں جن کے استاذ قتادہ مشہور مدلس ہیں۔ دیکھیے کتب التدليس و فتح الباری (جلد 13 ص 109 تحت حدیث 7136 ،7135) اور ”عن“ سے روایت کر رہے ہیں۔ اصول حدیث میں یہ بات مقرر ہے کہ مدلس کی عن والی روایت غیر صحیحین میں عدم تصریح سماع اور عدم متابعت معتبرہ کی صورت میں ضعیف ہوتی ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے۔ ہشام الدستوائی (النسائی/ المجتبی 1088)کی قتادہ سے روایت بھی قتادہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ قائلین رفع اليدين في السجود کی اصح روایت کا یہ حال ہے۔ اسی پر ان کی دیگر روایات کی حیثیت سمجھ لیں۔

➋ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ

وإذا رفع رأسه من السجود، أيضا رفع يديه حتى فرغ من صلاته
(ابو داود مع عون المعبود ج 1ص 263 ح 723)
اس میں ”السجود“ مصدر ہے جو واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے لہذا دوسرے دلائل کی رو سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ چار سجدوں سے (تشہد کے بعد) اٹھتے تو رفع اليدين کرتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں دو رکعتیں پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے اٹھنے کے بعد والا رفع اليدين ہے لہذا اس حدیث سے سجدوں کے درمیان والا رفع اليدين کشید کرنا صحیح نہیں ہے۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ سے بعض روایات میں ”إذا ركع وإذا سجد“ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ [سنن الدارقطنی 1/291 ح 1108]
اس کا مفہوم یہ ہے: جب آپ رکوع کا ارادہ کرتے تو رفع اليدين کرتے اور آپ جب سجدہ کا ارادہ کرتے تو رفع اليدين کرتے۔
یہ دونوں رفع اليدين قبل الرکوع اور بعد الرکوع والے ہیں۔ حالت سجدہ وقعود والے نہیں ہیں اور یہی مفہوم حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے جسے ابو داود اور ابن خزیمہ وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

➌ انس بن مالک رضی اللہ عنہ

حدثنا الثقفي عن حميد عن أنس أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه فى الركوع والسجود
(مصنف ابن أبي شیبہ ج 1ص 235)
اس میں حميد الطويل مدلس ہیں لہذا یہ سند ضعیف ہے اور فی الرکوع سے مراد قبل الرکوع اور فی السجود سے مراد قبل السجود ہے یعنی یہ دونوں رفع یدین قیام والے ہیں، قعود والے نہیں ہیں۔
ابو یعلی الموصلی فرماتے ہیں:
حدثنا أبوبكر ابن أبى شيبة حدثنا عبدالوهاب الثقفي عن حميد عن أنس قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع [ج 6 ص 424، 425 حدیث 1038]
(حميد الطويل کی روایت صحیح ہے۔ دیکھئے تحقیقی مقالات 215/5)
اس روایت نے اوپر والی روایت کی تشریح کر دی ہے اور یہ بات عام طالب علم بھی جانتے ہیں کہ حدیث حدیث کی تشریح کرتی ہے۔

➍ عبد الله بن الزبير رضی اللہ عنہ

” و صلى بهم يشير كفيه حين يقوم وحين يركع وحين يسجد وحين ينهض للقيام فيقوم ويشير بيديه“
(ابو داود مع عون المعبود ج 1 ص 269 حدیث 739)
اس کی سند ابن لہیعہ کی تدلیس اور میمون کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابن لہیعہ مشہور مدلس ہیں۔ (دیکھیے کتب المدلسین) اور عن سے روایت کر رہے ہیں۔ اس کا راوی میمون المکی مجہول ہے۔ [تقریب: 7054]
میمون سے صرف ابن ہبیرہ راوی ہیں۔ (تہذیب التہذیب) ایسا راوی، جس کا شاگرد صرف ایک ہو اور کسی نے توثیق نہ کی ہو، مجہول العین ہوتا ہے۔ مجہول العین کی روایت محدثین کرام کے نزدیک ضعیف ہے۔ اس کے متن کا بھی وہ مفہوم نہیں ہے جو بعض حضرات کشید کر رہے ہیں، بلکہ صحیح مفہوم یہ ہے کہ وہ قیام (تکبیر اولی) کے وقت رفع اليدين کرتے اور رکوع کے وقت رفع اليدين کرتے تو (رکوع کے بعد قیام میں) سجدہ کرنے سے پہلے، رفع اليدين کرتے اور جب (دو رکعتیں پڑھ کر) قیام کرتے تو رفع اليدين کرتے۔
معلوم ہوا کہ اس سے سجدوں کے درمیان، حالت قعود والا رفع اليدين ثابت کرنا صحیح نہیں ہے، ورنہ پھر بتائیے کہ رکوع کے بعد والا رفع اليدين کہاں ہے؟

➎ حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

فكان إذا سجد السجدة الأولى فرفع رأسه منها رفع يديه تلقاء وجهه
(ابو داود مع العون ج 1ص 269 حدیث 740 المجتبی النسائی مع التعلیقات السلفیہ ج1 ص 135 حدیث 1147)
اس کی سند نمر بن کثیر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔( دیکھئے تقریب التہذیب7147)

➏ مع كل تكبيرة

بعض ضعیف روایات میں ”كان يرفع يديه مع كل تكبيرة“ کے الفاظ آتے ہیں مثلاً:
عن عمير بن قتادة [سنن ابن ماجہ ح 861]
بوصیری نے زوائد میں کہا: اس سند میں رفدہ بن قضاعہ ضعیف ہے اور عبداللہ نے اپنے باپ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ انتهي
رفدہ پر جرح کی معلومات کے لیے تہذیب التہذیب اور تقریب التہذیب وغیرہما کا مطالعہ کریں۔
عن جابر بن عبدالله [مسند احمد ج 3 ص 310]
اس کی سند میں حجاج بن ارطاة مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے۔
نصر بن باب جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے۔ ان روایات کا مفہوم بھی وہ نہیں ہے کہ سجدوں کے درمیان رفع اليدين کیا جائے بلکہ مع كل تكبيرة کا مطلب وہی ہے جو ويرفعهما فى كل تكبيرة يكبرها قبل الركوع حتى تنقضي صلاته کا ہے۔ [ابو داود ج1 ص 263 حدیث 722 وھو حدیث صحیح]
خلاصہ یہ کہ سجدوں میں رفع اليدين، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باسند صحیح وصراحۃ ثابت نہیں ہے۔ جو شخص اس کے اثبات کا مدعی ہے اس سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ صرف ایک صحیح یا حسن روایت ایسی پیش کرے جس میں رکوع کے بعد والے رفع اليدين کی صراحت کے بعد سجدوں میں کندھوں یا کانوں تک رفع اليدين کی صراحت ہو۔

تنبیہ 1:

جناب محمد حسین السلفی نے ایک رسالہ ”سجدوں میں رفع اليدين سنت ہے“ نامی لکھا ہے جس میں ضعیف و مردود روایات کو صحیح یا حسن قرار دیا گیا ہے۔ إنا لله و إنا إليه راجعون
انھوں نے کئی روایات کا مفہوم بھی غلط بیان کیا ہے۔
حافظ محمد ایوب صابر صاحب نے ”عون الملك المعبود فى تحقيق أحاديث رفع اليدين فى السجود“ کے نام سے محمد حسین صاحب کا بہترین رد کیا ہے، جسے مکتبہ السنہ نے شائع کیا ہے۔

تنبیہ 2:

جناب ابو حفص بن عثمان بن محمد العثمانی الداجلی نے عربی میں ایک رسالہ ”فضل الودود فى تحقيق رفع اليدين للسجود“ لکھا ہے جس میں سجدوں میں رفع اليدين کے اثبات کی کوشش کی ہے۔ اس رسالے کی بنیادی روایات کا جواب اس مضمون میں آ گیا ہے۔ وما علينا إلا البلاغ

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے