ستونوں کے درمیان صف :
بوقت ضرورت ستونوں کے درمیان صف بنائی جاسکتی ہے، جیسا کہ عبدالحمید بن محمود رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنا مع أنس بن مالك في الصف، فرموا بنا حتى ألقينا بين السواري، فتأخر ، فلما صلى قال : قد كنا نتقي هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم.
’’ہم سیدنا انس بن مالک رضی الله عنه کے ساتھ صف میں تھے۔ لوگوں نے ہمیں دھکیلا ، تو ہم ستونوں کے درمیان چلے گئے ۔ آپ رضی الله عنه ستونوں سے پیچھے ہٹ گئے ۔ نماز کے بعد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے سے بچتے تھے۔‘‘
🌿(مسند أحمد : 104/3؛ سنن أبي داود : 673؛ سنن النسائي : 820 ؛ سنن الترمذي : 229؛ السنن الكبرى للبيهقي : 104/3 ، واللفظ له؛ المستدرك للحاكم : 210/1 ، وسنده حسن)
اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ نے ’’حسن‘‘ ، امام خزیمہ (۱۵۶۸)، امام ابن حبان (۲۲۱۸) اور امام حاکم (۲۱۸/۱) رحمتہ اللہ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمتہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ نے سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
🌿(فتح الباري : 578/1)
🌸امام ترمذی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:
قد كره قوم من أهل العلم أن يصف بين السواري، وبه يقول أحمد، وإسحاق وقد رخص قوم من أهل العلم في ذلك .
اہل علم کی ایک جماعت نے ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے۔ امام احمد اور امام اسحاق بن راہو یہ رحمتہ اللہ یہی کہتے ہیں، جب کہ اہل علم کی ایک جماعت اس بارے میں رخصت بھی دیتی ہے۔‘‘
🌿(سنن الترمذي، تحت الحديث : 229)
🌸سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه فرماتے ہیں:
لا تصفوا بين السواري.
’’ستونوں کے درمیان صف نہ بناؤ۔‘‘
🌿(السنن الكبرى للبيهقي : 104/3 ، وسنده صحيح)
🌸ابن منذر رحمتہ اللہ (م ۳۱۹ھ ) لکھتے ہیں:
لو اتقی مني كان حسنا، ولا مأتم عندي على فاعله .
’’اجتناب بہتر ہے، لیکن اگر ایسا کرے، تو کوئی گناہ نہیں۔‘‘
🌿(الأوسط : 184/4)
🌸علامہ ابن العربی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:
لا خلاف في جواز الصف بين السواري عند الضيق، وأما مع السعة؛ فهو مكروه للجماعة، فأما الواحد؛ فلا بأس به، وقد صلى النبي صلى الله عليه وسلم في الكعبة بين سواريها .
’’تنگی کے وقت ستونوں کے درمیان صف بنانے کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں، البتہ جگہ کی وسعت کے باوجود ایسا کرنا مکروہ ہے۔ اکیلا شخص ایسا کرے، تو حرج ، نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں دوستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی۔‘‘
🌿(عارضة الأحوذي : 28/2)
الحاصل :
یہ کراہت تنزیہی ہے۔ بامر مجبوری ستونوں کے درمیان صف بنانے میں کوئی حرج نہیں۔