مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سانڈا (ساہنہ) کے گوشت کا حکم: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بضب، فأبى أن يأكل منه، وقال: لا أدري لعله من القرون التى مسخت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا (ساہنہ) لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کھانے سے انکار کر دیا کہ مجھے نہیں معلوم، شاید یہ پہلی قوموں میں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا۔
(صحیح مسلم: 1949)
کیا اس حدیث سے سانڈے کی حرمت ثابت ہوتی ہے؟

جواب:

اس حدیث سے سانڈے کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید کہہ کر خدشے کا اظہار کیا ہے، بالجزم بات نہیں کی۔
دیگر صحیح احادیث میں ہے کہ سانڈا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کھایا گیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول نہ فرمایا، کیونکہ یہ جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاقے میں نہیں پایا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعی طور پر اگر کوئی شے پسند نہ ہو، تو اس سے اس کا حرام ہونا لازم نہیں آتا، اگر حرام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا۔
أتي النبى صلى الله عليه وسلم بضب مشوي، فأهوى إليه ليأكل، فقيل له: إنه ضب، فأمسك يده، فقال خالد: أحرام هو؟ قال: لا، ولكنه لا يكون بأرض قومي، فأجدني أعافه، فأكل خالد ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھنا ہوا سانڈے کا گوشت لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے لیے بڑھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا: نہیں، مگر یہ میرے علاقے میں نہیں ہوتا، اس لیے میں اس سے پرہیز کرتا ہوں۔ تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ (وہ سانڈا) کھانے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔
(صحيح البخاري: 5400، صحیح مسلم: 1946)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
ترك الضب تقذرا، وأكل على مائدة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولو كان حراما، ما أكل على مائدة رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈے کو ناپسندیدگی کی وجہ سے ترک کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر سانڈا کھایا گیا، اگر یہ حرام ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا۔
(صحيح البخاري: 2575، صحیح مسلم: 1947)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمع المسلمون على أن الضب حلال ليس بمكروه
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ سانڈا حلال ہے، مکروہ نہیں ہے۔
(شرح النووي: 13/97)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔