ساس اور داماد میں رضاعت کا مسئلہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ساس نے داماد سے کہا کہ میں نے تمہیں بچپن میں دودھ پلایا ہے، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اگر ساس یقین سے گواہی دے کہ اس نے اپنے موجودہ داماد کو مدت رضاعت میں کم سے کم پانچ مرتبہ دودھ پلایا ہے، تو ساس کی گواہی معتبر ہوگی ، رضاعت ثابت ہو جائے گی اور میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، کیونکہ وہ دونوں رضاعی بہن بھائی ہیں، تو جس طرح نسبی بہن بھائی کا نکاح حرام ہے، اسی طرح رضاعی بہن بھائی کا نکاح بھی حرام ہے۔ اس سلسلہ میں اکیلی عورت کی گواہی کافی ہے۔
❀ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”میں نے ابواہاب کی بیٹی (ام بیٹی) سے شادی کی ، کالے رنگ کی ایک عورت آ کر کہنے لگی : میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس (کی بیوی کے ساتھ رہنے) سے منع کر دیا۔“
(صحيح البخاري : 2659)